حکومت گلگت بلتستان علاقائیت اور فرقہ واریت کو ہوا دیکر کالا قانون نافذ کرنا چاہتی ہے، آغاعلی رضوی

سکردو (پ ر)مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل علامہ آغا علی رضوی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہے اور ذاتیات پر حملہ کر کے گلگت بلتستان کے ظالمانہ آرڈر کے خلاف جاری تحریک کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی بی آرڈر کے خلاف تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لیے حکومت علاقائی ، مسلکی اور دیگر تعصبات کو ہوا دینا چاہتی ہے۔ آج داریل تانگیر سے بلتستان تک کے عوام نے جب حکومت کے نام نہاد اصلاحاتی پیکیج کو مسترد کر دیا اور صوبائی حکومت کے چہرہ کو بے نقاب کیا تو انکی چیخیں نکل رہی ہیں۔ عوام اب باشعور ہوچکی ہے کسی دھوکے اور سازش کا شکار نہیں ہوسکتی ۔ لیگی حکمران چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں سانحہ ماڈل ٹاون کا تکرار ہو لیکن عوام نے صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی تمام تر توانائیوں کو نام نہاد پیکیج کو زمین بوس کرنے اور اتحاد و اتفاق کی پرچار کے لیے صرف کریں، وفاقی سرپرستی کے خاتمے کے بعد حکمرانوں کی عقل ٹھکانے آجائیں گے۔ یہ پہلی بار نہیں بلکہ اس سے قبل بھی لیگی حکمران داعش کو بلواکر عوامی احتجاجات پر حملے کروانے کی دھمکیاں ریاستی اداروں کے سربراہان کے سامنے دے چکے ہیں۔ وفاق میں انکے قائد کے ممبی حملے کے متعلق بیان سے ہی واضح ہوگیا ہے کہ وہ ملک اور ریاستی کے کتنے خیرخواہ ہیں۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ گلگت اور بلتستان کو الگ کرنے کی کوشش بہت عرصے سے جار ی ہے لیکن ہر دفعہ عوام نے شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اکائی بن کر ثابت کیا ہے کہ اب لڑاو اور حکومت کرو والی پالیسی نہیں چلنے نہیں دیں گے۔ جی بی آرڈر 2018ء صوبائی حکومت کی عوام دشمن پالیسی اور وفاق کی کاسہ لیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔حکمران کاسہ لیسی میں حد سے گزر چکے ہیں اور یہ بھی بول چکے ہیں وہ کس طرح کی شرمناک دھندوں میں ملوث رہ چکے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments