حصول اراضی میں تاخیر سے داسو ڈیم منصوبے کی لاگت بڑھ جائے گی، ورلڈ بینک کا مراسلہ، معاملہ ایکنک میں‌ جلد پیش کرنے کی سفارش

کوہستان (شمس الرحمن شمس) ورلڈ بنک نے داسو ڈیم میں تاخیر پر حکومت پاکستان کو نقصان سے ایک بار پھر آگاہ کردیا، زمین کے حصول کے معاملات جلد حل کرنے کی سفارش، ایگزیکٹیو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ECNEC)  اس بار مکمل اور حتمی طورپر داسو پروجیکٹ میں زیر استعمال اراضیات وا ملاک کا مسلہ حل کرے، ورلڈ بنک کی کنٹری ڈائریکٹر پاکستان کی مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو خط

تفصیلات کے مطابق 4320میگاواٹ داسو پروجیکٹ پہ زمین کے حصول سے متعلق پیدا ہونے والے مسائل سے اربوں روپے نقصانات کے پیش نظرورلڈ بنک پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر  پچموتو  النگووان نے حال ہی میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ داسو پروجیکٹ میں جاری تاخیر حکومت پر اضافی خرچے کا بوجھ ڈال رہاہے اور معیشت کی بہتری کیلئے صاف ستھری اور سستی توانائی کو روک رہاہے،مجھے اُمید ہے کہ اس بار  ایگزیکٹیو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ECNEC)زمین کے حصول اور بیولٹ اپ پروپرٹیز کے مسلے کو حتمی طورپر ہمیشہ کیلئے حل کرے گی۔ انہوں نے خط میں پروجیکٹ کا پس منظر بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تاہم کوہستان میں ایک خاص صورتحال ہے، ریکارڈز کی عدم موجودگی کے باعث زمینوں کے حصول کا مسلہ وسیع وقت لے رہاہے جس میں متاثرین کے ساتھ باہمی مشاورت ور ضامندی سے ریٹس اور مہنگائی کے تناسب سے اب تک ریٹس طے نہ ہوسکے ہیں جس پر ضلعی اور صوبائی حکومت نے اس مسلے کو حل کرنے سے معزرت کی ہے اور اس مسلے کو نومبر 2018میں پروجیکٹ سٹرینگ کمیٹی کے سامنے لے کر آئے جس کی صدارت مشترکہ طورپہ وزیر آبی وسائل اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ نے کی۔ پروجیکٹ سٹرینگ کمیٹی نے اس مسلے پر تین بار اجلاس کئے اور5مارچ2019کو یہ فیصلہ کیا کہ املاک واراضیات کو موجودہ ہیت میں سروے کرکے لیا جائیگا، اور قیمتوں میں مجموعی طورپر 40فیصد اضافہ دیا جائیگااور ان ریٹس میں تبدیلی کی منظوری وزارت خزانہ سے لیا جائیگا ضرورت پڑنے پر ایکنک سے بھی منظوری لیں گے۔ انہوں نے خط میں لکھا کہ 15جولائی2019کو ایکنک نے پروجیکٹ سٹرینگ کمیٹی کے فیصلے کو منظور کیا اور ساتھ ایک شرط رکھ دی کہ وزارت آبی وسائل وزارت قانون سے اس متعلق قانونی رائے لے گی۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ موجودہ صورتحال لینڈ ایکوزیشن قانون سے باہر ہے اور نقصان کی کیفیت کو دیکھا جائے تو یہ معاملہ غیر معمولی نوعت کا ہے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے پروجیکٹ سٹرینگ کمیٹی نے ڈسٹرکٹ کلکٹر اور صوبائی حکومت کے بجائے خود فیصلہ کیا جس پر تاحال ایکنک نے منظوری نہیں دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طورپر ایکنک نے نومبر 2015میں مختلف کٹگریز کی منظوری تو دی ہے مگر مقامی موجودہ صورتحال کے تناظرمیں یہ فیصلہ پروجیکٹ کی تعمیر میں رُکاوٹ ہے۔ انہوں نے  اس بات پر زور دیا ہے کہ ایکنک پروجیکٹ سٹرینگ کمیٹی اور سنٹرل دویلپمنٹ پارٹی (سی۔ڈی۔ ڈبلیو۔ پی)  کے منظور کردہ فیصلے کو حتمی طوپر منظور کرے اور اور ڈپٹی کمشنر /کلکٹر اس فیصلے کا نوٹیفکیشن جاری کرکے زمینوں و املاک کے حصول کا عمل تیز کرے۔ ورلڈ بنک کے کنٹری ڈائریکٹر نے خط میں کہا ہے کہ جب داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ مکمل ہوگا تو یہ پروجیکٹ 4320میگاواٹ بجلی فراہم کریگا، اس کی سالانہ پیدوار12000 گیگا واٹ بجلی پیداہوگی۔

واضح رہے کہ اراضیات و املاک کو موجودہ ہیئت میں سروے کرکے ایوارڈ کرنے اور قیمتوں میں سالانہ دس فیصد اضافے کیلئے متاثرین داسو ڈیم پچھلے دس روز سے برسین اپر کوہستان کے مقام پر دھرنا دیکر بیٹھے ہیں اور پروجیکٹ پر ہر قسم کا کام بند کردیاہے ، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک پروجیکٹ کی بندش سے 6ارب سے زائد کا خسارہ ہوگیا ہے۔اس ضمن میں ایکنک نے2 اکتوبر2019 کو  میٹنگ رکھی ہے اور داسو پروجیکٹ کو ایجنڈا نمبر2میں شامل کیا ہے۔ اس ضمن میں وزارت قانون نے بھی اپنی رائے دی ہے کہ زمین کے حصول کے اس معاملے کو سیکشن 11-Aکے تحت منظوری کا اختیار حکومت کے پاس ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ ایکنک اگر زمین کے حصول کے اس مسلے کو منظور نہ کرسکی تو داسو پروجیکٹ کی راہ میں بڑی رکاوٹ آجائیگی اور متاثرین اس پروجیکٹ کی مخالفت بھی کرسکتے ہیں  جس پر پہلے ہی اربوں روپے ڈوب چکے ہیں۔اس سے قبل بھی ورلڈ بنک نے ایک خط کے ذریعے حکومت پاکستان کو  اس پروجیکٹ کی تاخیر میں نقصان سے آگاہ کیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments