ٹھیکیداروں کا ٹکراو، بر ویلی روڑ کے التواء سے عوام پریشان، نمازِ‌جمعہ کے بعد بھرپور احتجاج کا فیصلہ

نگر ( اقبال راجوا) ٹھیکیداروں کے گروپ چھلت بر ویلی روڑ منصوبے پر آمنے سامنے عوام پریشان ، محکمہ، ٹھیکیداروں اور اس منصوبے کے التواء میں ملوث افراد کے خلاف ہر نماز کے بعد بد دعائیں کرانے اور آئندہ جمعے کے بعد بھر پور احتجاج منصوبہ طے کرنیکا فیصلہ، اس منصوبے بارے میں عوامی حلقوں کا چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو بھی مداخلت کرنے کی اپیل،عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم چیف جسٹس میاں ثاقب کے دورہ نگر کے دوران ضلعی ہیڈ کوارٹر نگر میں محمکہء تعمیرات عامہ کے دفتر کے سامنے KKH روڑ پر احتجاج کرنا چاہ رہے تھے لیکن چیف جسٹس کے نجی دورے کے سبب یہ مناسب نہیں تھا اس لئے احتجاج نہ کر سکے ۔ عوامی حلقوں کا مذید کہنا ہے کہ اخبارات میں ٹھیکیداروں کے مختلف گروپس کی جانب سے چھپوائے گئے اشتہارات کے زریعے اس منصوبے کو اور بھی التواء کا شکار کرنے کی سازش ہو گئی ہے اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس منصوبے پر سیاست کرنے والے افراد چاہے وہ کوئی ٹھیکیدار ہیں یا محکمہء تعمیرات عامہ کے اہلکار ان سب کو ایک طرف کر کے عوامی اشتراک سے کام شروع کیا جائے اور عوام سے اس منصوبے کی معیاری تعمیر و تکمیل کے سلسلے میں جس قسم کی بھی تعاون درکار ہے لے لیاجائے ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار سے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس منصوبے کے خلاف سازش کی تحقیقات کے لئے نیب اور اینٹی کرپشن یونٹ کی ایک بااختیار ٹیم تشکیل دے کر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستا ن حافظ حفیظ الرحمٰن کا اسی منصوبے کے خلاف سازش ہونیکے انکشافی بیان کے مطابق مقررہ مدت میں تحقیقات مکمل کرے تاکہ آئندہ بھی اس قسم کی سازشیں کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کے زریعے سزا دلائی جا ئے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے ٹینڈر اصولوں کے مطابق نہ کرانا ، عدالت سے لیکر اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات اور ان میں لگے الزامات کی حقائق کے لئے ادارے چھان بین شروع کریں اور عدالت میں زیر تفتیش مقدمے کا فیصلہ فوری طور پر کرایا جائے تاکہ ہمارے علاقے کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے اس منصوبے پر کام شروع کیا جاسکے ۔ عوامی حلقوں نے نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادارے اپنے اصول ضوابط طے کرنے اور ان پر عملدر آمد کرانے میں ناکام ثابت ہو جاتے ہیں کیوں کہ ان سرابرہان کو عوامی حقوق و مفادات کا کوئی احساس یا فکر نہیں ہوتی ۔ قانون ،اصول اور ضابطے سب کے لئے ایک جیسا نہ ہونا در اصل عوام کو جہالت اور پسماندگی کے گرداب میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔ محکمہء تعمیرات عامہ کے صوبائی سطح کے افسران اگر نگر بالخصوص شینبرکی عوام سے ہمدرد اور مخلص ہوتے تو آج ہمارا یہ اہم منصوبہ نہ تو اتنی دیر التواء کا شکار کیا جاتا اور نہ ہی یہ اخبارات کی زینت بن جاتا ۔ عوام کو پیسنا اور پسماندگی میں رکھنا یہ سرکاری ملازمیں کا پیشہ نہیں ہے در اصل ان افسران کا تحکمانہ رویہ اور عوامی خدمت گاروں کی حیثیت میں عوام پر حاکم ہونے کی بہترین مثال ہے ۔ کیا اس قدر ایک منصوبہ تعطل کا شکار کرنا عوام کا قصور ہے یا ان سرکاری افسران کا جنہوں نے اس منصوبے کو اپنی سیاسی یا دیگر عزائم پورے کرنے یا نا اہلیت چھپانے کیلئے اپنے اور ٹھیکیداروں کے درمیان فٹ بال بنایا ہے اور آخر کار کرپشن کے الزامات اور عدالتوں تک گھسیٹ کرجا پہنچایاہے۔ آخر عوام احتجاج اور ان منصوبوں کو تاخیر کا شکار کرنے والوں کو بد دعائیں دینے کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments