بے لگام بیوروکریسی عوام دشمنی پر اتر آئی ہے، چیف سیکریٹری کو علاقہ بدر کیا جائے، عوامی ورکز پارٹی کا مطالبہ

(پریس ریلیز) عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان نے حال ہی میں بیوروکریسی کے نمائندوں کی جانب سے گگت بلتستان کے عوام کے ساتھ بد سلوکی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے.

اخباری بیان میں پارٹی کے رہنمائوں اور کارکنوں نے گزشتہ ہفتے چیف سیکریٹری کی سکردو میں سائل کے ساتھ بد سلوکی اور دھمکی آمیز رویہ کی سخت مذمت کی اور حکومت سے اس کا نوٹس لینے اور مذکورہ سرکاری ملازمین کی سرزنش اور ان کے خلاف تادیبی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے.

ہفتے کے ہی روز گلگت کے ڈپٹی کمشنر نے ائرپورٹ عملہ کے ساتھ بد تمیزی کی اور جہاز سے ایک عمر رسیدہ خاتون مریض اور اس کے بیٹے کو اتروا کر ہوم سیکریٹری کے رشتہ داروں کو جہاز میں بٹھایا۔ اس کے نتیجے میں خاتون جو کہ پتے میں پتری کے علاج کے لئے اسلام آباد آنا چاہ رہی تھی کو طبیعت کے ناساز ہونے کے سبب گلگت کے ایک مقامی ہسپتال میں داخل کرانا پڑا.

گذشتہ ہفتے ہنزہ (ڈورکھن) میں ڈپٹی کمیشنر نے عوام کے نمائندوں اور عمائدین کے ساتھ بد سلوکی اور دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا اور احتجاج کرنے پر انتقامی کاروائی کے طور پر ایک مقامی سیاسی کارکن کے دوکانوں کو نقصان پہنچایا۔ اس کے نتیجے میں لوگوں نے شاہراہ ریشم کو احتجاجاً بند کیا۔

ان واقعات سے ایسا لگتا ہے کہ نوکرشای کے بد مست اور بد عنوان نمائندے نئے آرڈر کے نفاذ کے بعد مکمل طور پر بے لگام ہو چکے ہیں اور گلگت بلتستان میں پھیلنے والے عوامی غم وغصہ اور بے چینی کو دبانا چاہتے ہیں اور نوجوانوں کو احتجاج اور مزاحمت پر اکسا کر کالے قوانیں کے تحت مختلف جھوٹے مقدموں میں پھنسانا چاہتے ہیں۔

عوامی ورکرز پارٹی نوکرشاہی کے بے لگام عوام دشمن اہلکاروں کو خبردار کرنا چاہتی ہے کہ وہ اپنے قانونی حدود میں رہیں اور عوام کے خادم بن کر رہیں. ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مذکورہ اہلکاروں کے خلاف کاروائی کرے اور ان کو فی الفور علاقہ بدر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments