وزیر اعلی کے دعوے جھوٹے ثابت، اشکومن کے لئے اعلان کردہ منصوبوں‌کے لئے بجٹ میں کوئی رقم نہیں‌

اشکومن(کریم رانجھا) ؔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے دورہ اشکومن کے دوران کئے گئے وعدے ہوائی ثا بت ہوئے ،ایک بھی اعلان پر عملدرآمد کی نوبت نہ آئی،حکمران جماعت حلقے کے عوام کوووٹ نہ دینے کی سزا دے رہی ہے،عوامی حلقے۔گزشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جناب حافظ حفیظ الرحمٰن نے اپنے دورہ اشکومن کے دوران چٹورکھنڈ ریسٹ ہاؤس میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دس بستروں پر مشتمل سول ہسپتال چٹورکھنڈکو تیس بیڈ بنانے،گاہکوچ تا چٹورکھنڈ میٹل روڈکی مرمت اور بالائی اشکومن کے لئے ایمت کونیابت بنانے کا اعلان کیا تھا جبکہ 8جون 2018کو انٹر کالج چٹورکھنڈ کے افتتاح کا بھی وعدہ کیا تھا لیکن یہ تمام اعلانات ہوائی ثابت ہوئے۔ایک سال کا عرصہ ہونے کو آیالیکن کسی اعلان پر عملدرآمد نہ ہوسکا،معلوم ہوا ہے کہ حالیہ بجٹ میں ہسپتال کی اپ گریڈیشن کے لئے کوئی بجٹ مختص نہیں۔اس کے علاوہ گرلز سکول چٹورکھنڈ کو باضابطہ ہائی سکول کا درجہ دینے کا معاملہ بھی سردخانے کی نذر ہوچکا ہے،

گاہکوچ تا چٹورکھنڈ روڈ کا بھی کوئی پرسان حال نہیں۔عوام اشکومن کو وزیراعلیٰ کی آمد کا ایک ’’فائدہ‘‘ضرور ہوا اور وہ یہ کہ پرزور عوامی مطالبے پر برگل ،فمانی اور ہاسس کو عرصہ دراز کے بعد سابق ڈپٹی کمشنر نے انتظامی طور پر تحصیل پونیال کے ساتھ شامل کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا لیکن وزیر اعلیٰ نے ان علاقوں کو دوبارہ اشکومن کے ساتھ شامل کیا جس کا خمیازہ عوام اشکومن بھگت رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اشکومن کے عوام کو حکمران جماعت کو ووٹ نہ دینے کی سزادی جارہی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments