اینگلو بروشو وار

سن1886ع کے موسم بہار میں ریاست ہنزہ میں درپردہ ایک سازش چل رہی تھی۔سازش کو انتہائی خفیہ  رکھا گیا تھا۔اور شازشی صحیح وقت کے تاک میں تھے۔”وزیر دادو” اور صفدر علی خان اس سازش کے مرکزی کردار تھے۔ ریاست کے کچھ اور رفقا بھی ان کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ان لوگوں نے کچھ افراد کو ٹاسک دیا تھا کہ موقع ملتے ہی میر غضن خان اور اسکا چہکتا وزیر ہمایوں  کا کام تمام کردیا جایے۔ برسوں انتظار کے بعد اخر کار وہ دن ا پہنچا ۔وزیر ہمایوں ان دنوں گوجال میں موجود تھے۔انھیں ایک پیغام موصول ہوا کہ جتنی جلدی ہو سکے ہنزہ پہنچ جائے۔وزیر ہمایوں نے اپنے گھوڑے کا رخ ہنزہ کی طرف کر دیا اور برق رفتاری سے دوڈانے لگا۔راستے میں اس کو ایک خفیہ پیغام موصول ھوا کہ اس کی جان کو ہنزہ میں خطرہ لاحق ھے۔لہذا وہاں جانے سے اجتناب کریں۔وزیر ہمایوں نے اپنے گھوڈے کا رخ تبدیل کردیا اور چترال سرحد کی طرف چل نکلے۔اسی لمحے ہنزہ میں میر غذن خان قتل ہو چکے تھے۔اور ریاست کی راج دہانی پہ میر صفدر علی خان برجمان ہوئے ھوے تھے۔

تحریر: علی ظفر

وزیر دادو اور وزیر ہمایوں سگے بھائی تھے۔ایک بھائی جان بچا کر چترال پہنچ گیا ۔جبکہ دوسرے بھائی وزیرعظم کے عہدے پے فائز ھوئے۔وزیر ہمایوں انتہائی چالاک اور شاطر شخص تھے۔جب وہ بسرو سامانی کے عالم میں چترال پہنچے تو امان الملک مہتر چترال نے اس کا استقبال کیا اور اپنے چرنوں میں پناہ دیدی۔۔چونکہ وزیر ہمایوں غیر معمولی شخصیت کے مالک انسان تھے اس لیے چترال میں روپوشی کے روران بھی ریاست کے مجلس شوری میں اسکو شامل کیا جاتا تھا۔اور اسکی رایے اور مشوروں کو برابر اہمیت دی جاتی تھی۔

ادھرہنزہ میں حالات تیزی سے بدل رہے تھے۔م یر صفدر علی کا جھکاو واضح طور پر روس کی طرف تھا۔اور اسی عشرے میں روسی ایجنٹ بھی ہنزہ آئے ہوئے تھے۔ اس حوالے سے میجر بڈلف اور لکنارڑ نے اپنے رپورٹس برطانوی حکام کے حوالے کیے تھے۔ انہی عشروں میں شملہ میں ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی اور اس بات پر غور و خوص کیا گیا کہ ایا گلگت میں دوبارہ برٹش ایجنسی کھو لا جائیے یا نہیں ۔میٹنگ میں حتمی فیصلہ یہ ھوا کہ گلگت ایجنسی کا قیام دوبارہ عمل میں لایا جائیے۔زمہ داری کرنل دیورنڈ کو سونپی گیی۔مئی 1889 کو ڈیورنڈ کشمیر پہنچ گئے۔یہاں سے برزل پاس سے ھوتے ھویے استور پہنچے ۔یہاں تک کا سفر انتہائی کھٹن مراحل میں طے کرلیا تھا۔استور سے گلگت کا سفر قدرے بہتر ثابت ھوا۔

ان دنوں گلگت کا تمام انتظام ڈوگرہ راج کے ہاتھوں میں تھا۔ سوائے ہنزہ نگر کے دو ریاستیں جو اپنی خودمختاری کو بدستور برقرار رکھے ھوئے تھے۔لیکن ان ریاستوں کی یہ خودمختاری اور روس سے تعلقات نے برٹش سرکار کو اندیشوں میں مبتلا کر رکھا تھا۔اور ان ریاستوں کی سرکوبی کے لئے برطانوی حکومت نے خفیہ طریقے سے کرنل ڈیورنڈ کو گلگت میں تعینات کر رکھا تھا۔تاکہ ہر گزرنے والے پل کو باریک بینی سے دیکھ سکے۔کرنل ڈیورنڈ نے تمام ریاستوں جو کہ مہاراجہ کشمیر کے زیر کنڑول تھیں قریبی تعلقات قائم کئے جن میں پونیال یاسن ۔چلاس استور ۔بلتستان اور چترال بھی شامل تھیں۔موسم بہار 1889 کو ڈیورنڈ نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے چترال کا دورہ کیا۔دورہ کامیاب رہا ۔اس کے بعد ہنزہ نگر کا بھی دورہ کیا۔اس دورے سے کچھ عرصہ قبل نگر کی سیاسی حالات غیر موافق رہی تھیں۔راجہ غوری تھم جو کی راجہ ازور خان کا چھوٹا بھائی تھا کے بوڈھے والد نے غوری کو تاکید کی تھی کہ جب بھی خطرہ محسوس کرنے لگو سرحد کی طرف نکل جانا۔جوں ہی خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی غوری تھم گھوڑے پہ سوار ھوئے اور جب یول پری کے مقام پر پہنچے تو اس کو کپڑے کی جلنے کی بو ایی اور ساتھ ہی فائرنگ کی اواز سنایی دی ۔اسی دوران غوری تھم کو مارا گیا ۔اور یوں راجہ ازور خان نے اپنے چھوٹے بھائی کو روستے سے ہٹا کر ریاست کی نظم و نسق خود سنبھالی ۔نگر میں  چھپروٹ اور چھلت کے قلعے پہلے ہی ریاست نگر کے ہاتھوں سے نکل چکے تھے ۔سوائے نلت اور تھول کے قلعے بدستور ان کے پاس تھے۔اور راجہ ازور خان نے  فوج جمع کرنا شروع کر دی تھی تاکہ ان قلعوں پر دوبارہ قبضہ کر سکے۔ہنزہ اور نگر حالات جنگ کی طرف جا رہے تھے۔ادھر کرنل ڈیورنڈ بھی اپنی تیاریوں کے اخری مرحلے میں تھے۔چترال کا ایک اور دورہ کر لیتا ھے۔پہلے دورے کے نسبت یہ دورہ زیادہ کامیاب رہا۔چترال میں قیام کے دوران وزیر ہمایوں سے ان کی تفصیلی گفتگو ھوتی ھے۔اور وزیر ہمایوں انھیں انتہائی اہم معلومات فراہم کرتے ھے۔ریاست ہنزہ نگر کی فوج کی کمزوریوں اور خفیہ معلومات بھی کرنل ڈیورنڈ حاصل کر لیتا ھے۔کرنل ڈیورنڈ نے خود اپنی کتاب میں اس بات کا انکشاف کیا ھے کہ وزیر ہمایوں انتہائی شاطر اور قابل ادمی تھے۔اور یہ کہنا حق بجانب ھوگا کہ وزیر ہمایوں کے فراہم کردہ معلومات ہی جنگ میں مہلک ثابت ہوئی۔

گلگت سے نگر تک اس وقت روڈ کی حالت بہت خراب تھی۔ڈیورنڈ نے اپنی فوج کو چھلت تک پہنچانے کے لئے سب سے پہلے روڈ کی توسيع کا کام شروع کیا۔گلگت سے نومل تک ١٨میل کا فاصلہ تھا۔١٤ میل کا راستہ قدرے بہتر تھا لیکن باقی ٤میل کا راستہ خراب تھا۔دن رات کام کر کے ڈوگروں اور برٹش نے 1890کو نومل تک خچر کے لئے راستہ بنا لیا۔15نومبر1891کوگلگت میں تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے۔۔180لوگوں کو ففتھ گوکھس، رگو پرتاب رجمنٹ کے  1000 جوان، 150 پونیالی  لیویز، 20 لوگوں کو پنجاب انفنٹری اور ان کے ساتھ ساتھ سات پونڈ کا ہزارہ ماونٹین توپ خانہ بھی ان کے ساتھ موجود تھا۔ جب ڈوگرہ اور برطانوی فوج اپنی تمام تر تیاریوں کے ساتھ نومل پہنچے تو پونیالی لیویز کو جلد از جلد چھیچھر پاڑی پر قبضہ کرنے کا حکم ملا تاکہ فوج کسی بھی طرح چھلت تک پہنچ سکے۔ چھیچھر پاڑی پہ جلد قبضہ ھو جاتا ھے اور افواج پش قدمی کرتے ھوے چھلت تک پہنچ جاتے ہیں۔یہاں سے انکو نلت قلعے کے برج پر ریاست نگر کے جھنڈے لہراتے ھوئے نظر اتے ہیں۔کرنل ڈیورنڈ نے حکم دیا کہ دریا ہنزہ پر بنی ھوئی رسیوں کی پل کو کاٹا جائے تا کہ راجہ ازور خان بھاگنے نا پائے۔29نومبر 1891 کو اخری الٹی مٹم دیا جاتا ھے۔

بہادر بروشو آرمی قلعہ نلت اور قلعہ تھول نگر میں مقیم تھی، اور ان کی نگرانی راجہ ازور خان کر رہیں تھے۔ہنزہ میں بروشو افوج مایون قلعہ میں مورچے سنھبالے ھوئے تھے۔جن کی نگرانی صفدر علی خان کر رھے تھے۔صفدر علی خان نے جواب دیا کہ ان کی افواج کو چین اور روس کی پشت پناہی حاصل ہیں۔جنگ کے ممکنہ خطرے کو جانچ کر صفدر علی خان نے تاشقند سے فوجی امداد کی اپیل کی تھی۔انہوں نے فوجی امداد دینے سے انکار کیا تھا۔صفدر علی خان کے اس جواب کے ساتھ ہی دسمبر ١٨٩١کو حملہ اور افواج نے دریا ہنزہ عبور کر کے نلت قلعے تک پہنچ گئے۔نلت کا قلعہ ایک انتہائی دشوار گزار پہاڑی چوٹی پر بنایا گیا تھا۔دریا سے قلعے تک انچائی سو فٹ سے بھی زیادہ تھی۔ایک طرف دریا کی تیز بہاو اور دوسری طرف انچی چوٹی یہ قلعہ کسی بھی طور اسانی سے فتح ھونے والا نہیں تھا۔گھمسان کی لڑائی سات دن تک جاری رھی۔ ابھی تک چھ برٹش اور کم وبیش پچاس کے قریب ڈوگرہ اور پونیالی لیویز جان بحق چکے تھے۔لڑائی کی آٹھویں رات ایک پست قد ڈوگرہ سپاہی اس کا نام نگڑو  تھا قلعے تک رسائی کے لئے ایک راستہ ڈھونڈنے میں کامیاب ھوا۔ اس کے ساتھ ہی بروشو افواج منتشر ہوگئیں۔

راجہ آزر خان چائینہ بارڈر کی طرف نکل جاتا ہے ۔قلعہ نلت اور قلعہ تھول سے بروشو افواج کو جنگی قیدی بنا لیا جاتا ہیں۔میر صفدر علی اور وزیر دادو بھی سرحد کی طرف فرار ہو جاتے ہیں۔

صفدر علی اور وزیر دادو تا دمِ مرگ چین میں مقیم رہے ۔جبکہ راجہ آذر خان نے خود کو ڈوگروں کے حوالے کر دیا اور سری نگر میں قیدو بند کی حالت میں فوت ہوگیے۔

وزیر دادو یارقند میں رھے اور وہی فوت ھوے۔اور وہی آج بھی آسودہ خا ک ہیں۔

کرنل ڈیورنڈ نے ہنزہ میں محمد نظیم خان کو میر آف ہنزہ مقرر کردیا اور اپنے دیرینہ دوست وزیر ہمایوں کو چترال سے واپس بلا کر وزیر کے عہدے پہ برقرار رکھا۔ اسی طرح اینگلو برشو وار کا اختتام ھوا اور ریاست ھنزہ اور نگر برٹش رول کے ماتحت آ گئیں۔ یہ معرکہ گریٹ گیم میں اھم پیشرفت ثابت ھوا۔

حوالہ جات

The Making of Frontier

Where Three Mountains Meet

Where Three Empires Meet

Gilgit Game

Tareekh e Jammu

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments