شکریہ چیف سیکریڑی گلگت بلتستان

تحریر: فدا حسین

چیف سیکریڑی گلگت بلتستان جناب بابر حیات تاڑرر صاحب کا وضاحتی بیان کا جائزہ لینے سے پہلے ہمیں ان کا شکریہ ادا کرنا ضروری ہےکیونکہ ان کے اس متناذعہ بیان نے بہت سی حقیقتوں کو یہاں کے عوام پر آشکار کر دیا ہے ان حقیقتوں میں ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ یہاں لوگوں کو یہ زعم تھا کہ ملک کے دیگر علاقوں کہ نسبت یہاں پر جمہوری اصولوں کی پاسداری کی جاتی ہے کیونکہ یہاں پر ایک صحت مند معاشرے کی طرح ہر مسئلے پر کھل کر بول اور لکھ سکتے ہیں۔

دوسرا یہ کہ گللگت بلتستان آرڈر2018 کے حوالے سے حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس آرڈر میں آئین پاکستان کے بنیادی حقوق والا حصہ شامل کیا گیا ہے۔مگراپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اس کے جو مندرجات سامنے آئے تھے ان کے مطابق اس آرڈر میں کہا گیا ہے کہ اظہار رائےکی آزادی اتنی ہوگی جتنی ریاست مناسب سمجھے۔ جسے اپوزیشن سمیت بہت سارے لوگ اظہار رائے کی آزادی سلب کرنے کے مترادف قرار دے رہے تھے جس پرچیف سیکریڑی کے  تضحیک آمیز رویے نے مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے پر حکومت کے  سارے دعوؤں کو ریت کے گھروندے ثابت کر دیا کیونکہ 70سالوں سے بنیادی حقوق سے محروم لوگوں کو ٹیکس نہ دینے کا طعنے دینے کے اس واقعے کو گلگت بلتستان کےاکثر اخباروں میں جگہ نہیں مل سکی دس جون کو ضلع گانچھے میں پیش آمدہ اس واقع کے حوالے سے انٹرنیٹ پرگیارہ جون کے مقامی اخبارات نکال کر پڑھیں تو آپ کو روزنامہ سلام گلگت بلتستان کے علاوہ کسی آخبارمیں اس واقعے کی خبر نہیں ملے گی اور اس واقع کو شائع کرنے والے مذکورہ آخبار کے بارے میں بھی اطلاعات یہ ہیں کہ اس کی کاپیاں بھی مبینہ طور پر عوام تک پہچنے سے پہلے ہی پراسرار طور پر غائب کردیئے گئے تاہم ستم ظریفی دیکھیں کہ مذکورہ اخبار اپنی کاپیاں غائب ہونے کی خبر تک شائع کرنے کی جرات نہیں کر سکا۔واقفانِ حال بتاتے ہیں کہ اس واقعے کو آخباروں میں شائع ہونے سے روکنے اور کاپی غائب کرنے میں پریس انفارمیشن کے اعلیٰ افیسران مبینہ طورپر ملوث ہیں کیونکہ پریس انفارمیشن کی آفیسران سے ان کی معیشت وابستہ ہے ۔ان ساری حقیقتوں کو چیف سیکریڑی کے متنازعہ بیان نے آشکار کر دیا ورنہ گلگت بلتستان کے عوام خوب غفلت میں یوں سوے رہتے اس لئے خواب غفلت سے بیدار کرنے پر ان کا شکریہ ادا نہ کرنا زیادتی ہوگی۔اب آتے ہیں ان کی طرف سے جاری ہونے والے وضاحتی بیان پر جو وضاحتی سے ڈھٹائی زیادہ لگتی ہے کہتے ہیں کہ ویڈیو ایڈیٹنگ کی گئی ہے۔ہم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو چیف سیکریڑی سے کیا دوشمنی ہو سکتی ہے کیونکہ باہرسے آنے والے مہمان یہاں سے پیار محبت اور اخلاص کی سوغات لے کر اپنے علاقوں کو لوٹتے ہیں خواہ ان مہمانوں کا تعلق ڈیوٹی پر مامور آفیسران ہو یا اپنے فراغت کے لمحوں کو گزار کےلئے آنے والے سیاح۔اسی لئے یہان کے لوگوں کی مہمان نوازی کی ایک دنیا معترف ہے۔پھر بھی ایڈیٹنگ کا امکان تو رد نہیں کیا جاسکتا تاہم ایڈیٹنگ اور اصلی کو جانچنے کے جدید تریں لباٹریاں موجود ہیں وہ کس مرض کی دوا ہے؟کہتے ہیں عوام کو ریاستی اداروں پر اعتماد کرنا چاہیے تو سوال یہ ہے کہ کیا چیف سیکریڑی جناب بابر حیات صاحب ریاستی ادارے کا نام ہے یا وہ خود ریاستی ادارے کا ایک اہلکار ہے؟ کیا ریاستی ادارے کے اس اہلکار کو عوام کی تضلیل کی کھلی چھٹی ہے؟ شائد انہیں فریادی کا فریاد کرنے کا انداز پسند نہیں ہو گا مگر ایک سال میں گائنی کی ڈاکٹر نہ ہونے وجہ سے (صرف) 35 ماؤں کے جنازے اٹھانے والوں سے کوئی ادب و شائشگی کی امید رکھیں تو ایسی امید رکھنے والے کو احمقوں کا بادشاہ نہ جائے تو کیا جائے۔اگر دیکھا جائے تو ایک چھوٹا سا ضلع جس کی آبادی ڈیڑھ لاکھ کی لگ بگ ہے میں 35خواتین کی موت کا مطلب ہے ایک سال میں 35گھرانے اجڑ گئے ہیں اور پونے دو سو کے بچے یتیم ہوئے ہیں جس کا یہ موصوف صرف 35کہہ کر نمک پاشی کر رہے ہیں حالانکہ یہ 35 تو وہ ہیں جو رپورٹ ہوئےہیں ورنہ یہ تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔اس لئے ایک چھوٹے سے ضلع میں اتنے بڑی تعداد میں ہونے والی اموات پر حکومت وقت کے خلاف مقدمہ قائم ہونا چاہیے جس کا سربراہ عملی طور پر چیف سیکریڑی ہیں۔  اس واقع کے عینی شاہدیں (صحافیوں) کے مطابق اس طرح  کے مسائل کی نشاندہی کرنے والی مقامی کمیٹی کے عہداروں نے اس ضلعی ہسپتال میں گائنی ڈاکٹر کی عدم موجودگی کے حوالے سے بات کرنے کے لئے وقت  مانگا تھا مگرمحترم ان کے لئے وقت دینے کےلئے تیار نہیں تھے جس پر یہ لوگ کچھ برہم تھے شاہد اس ویڈیو میں دیکھی جانے والی لہجھے کی کرختگی کی وجہ یہی ہو۔ سائلیں کی لہجے میں کراختگی اپنی جگہ پر مگر چیف سیکریڑی اس فریادی پر اس مسئلے پرسیاست کرنے کا الزام عائد کر کے اسے کے جذبات کو مزید ابھارنے کی کوشش کرتے ہیں  جو ٹیکس نہ دینے کے طعنے پر جا کر منتج ہوتا ہے جب یہ ویڈیو سوشل کے میڈیا میں وائرل ہوجاتی ہے تو نہ صرف اخبارات کو اس واقعے کی کوریج سے روک دیتے ہیں بلکہ فوری طور پر ایک وضاحتی بیان جاری کیا جاتا ہے جس میں فریادی پر ریاست پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے اس بیان بھی یہی کہا جاتا ہے کہ ویڈیو کی ایڈیٹنگ کی گئی اور بعد میں بھی عوامی ردعمل کے جواب میں جو وضاحتی  بیان جاری کیا گیا وہ اس پہلے والے بیان کی تفصیلی کے علاوہ کچھ نہیں کیونکہ اس میں بھی ویڈیو میں ایڈیٹنگ کا الزام ہے فرق صرف یہ ہے کہ اس میں کسی پر ریاست کے خلاف ہرزا سرائی کا الزام شامل نہیں ہے۔مگر ریاستی اداروں پر اعتماد کرنے کے حکم سے لگتا ہے کہ اس تضحیک آمیز بیان پر عوام کے غم و غصے کو اداروں پرعدم اعتماد سے تعبیر کیا جارہاہے جوکہ انتہائی خطرناک ہے۔ورنہ اس طرح مواقوں پر اس طرح کے احکامات چہ معنیٰ دارد؟ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہے کہ ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد کی بحالی ان کے بنیادی مسائل کے فوری حل سے مشروط ہے۔کسی ادارے کے سربراہ سے اپنے مسائل حل کےلئے فریاد کرنا عدم اعتماد کی نشاندنی ہے تو لامحالہ یہ نتیجہ نکلے گا کہ  اس ملک میں ریاستی اداروں پر اعتماد کرنا والا کوئی نہیں ہے۔پاکستان میں عدلیہ اور پارلیمنٹ اور دیگر مقتدر حلقوں کے حوالے سے جوکچھ کہا جاتا ہے کیا ان سب کو ریاست سے بغاوت تصور کیا جائےگا؟ اگر ایسا ہے تو اس وقت عدلیہ اور پارلیمنٹ اور دیگر مقدر اداروں پرسب سے زیادہ تنقید میاں محمد نواز شریف کر رہے ہیں۔ لہذا اس طرح بھوندی وضاحت سے  کیا ہی بہتر ہوتا کہ اس طرح کی پٹی پڑھا کر ڈھٹائی کا اظہار کےبجاے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے یہاں کے غیور اور محب وطن لوگوں سے معافی مانگ لی جاتی۔ مگر شائد ان کے گردان کا سریا انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے اب ماشااللہ سے لڑؤ اور حکومت کروکی پالسی بروکار آیا چاہتی ہے۔اس متنازعے بیان کے بعد پیدا شدہ صورتحال میں گلگت بلتستان کے آخباری مالکان کے لئے سبق اور وارننگ دونوں ہیں ۔ سبق اس طرح کہ:اگر گلگت بلتستان کے عوام کی ترجمانی کریں تو یہ عوام ان(آخباری مالکان) کے مسائل کے حل کے بھی سٹرکوں پر آ کر حکومت کو انہیں جائز اشتہار دینے اور ادائیگی پر مجبور کیا جا سکتا ہے ورنہ حکومت کی زبان بولنے سے وقتی فائدہ شائد مل جائے مگر عوام کی طرف سے بائیکاٹ کی مہم چل جائے تو اس کے بعد پیدا ہونے والے ممکنہ صورتحال کا تصور کریں تو معاملہ خودبخود سمجھ میں آ جائے گا کیونکہ مری بائکایٹ مہم جیسی زندہ مثال سے کون آگاہ نہیں ہے۔  بائیکاٹ نہ بھی کریں تو عوام کی نظر میں گر جانے کے بعد اپنی ساکھ برقراررکھنا انتہائی مشکل کام ہےکیونکہ کسی دانا کا غالبا داناے کل کے دست بازو حضرت علیؑ کا قول ہے کہ پہاڑ سے گرا ہوا انسا ن تودوبارہ اٹھ سکتا ہے مگر نظروں سے گرا ہوا نہیں۔ اس قول کو مدنظر رکھتے ہوئے قوم( مظلوم) کی ترجمانی کرنے کے بجاے حکومت وقت کا بے جا ساتھ دینے سے عوام کی نظروں میں ذلیل ہونے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ و ما علینا الابلاغ

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments