فادر ڈے اور میری عید

ابرار حسین استوری

اگر یہ کہا جائے تو کم نہیں ہوگا کہ میری دنیا شروع ماں باپ سے ہوتی ہے اور ختم بھی انہی سے. دوستو عید ہو یا کوئی اور تہوار ماں باپ کے بغیر ہر سوکھ ہر خوشی ادھوری ہوتی ہے. والدین کی محبت دیکھنا ہو تو اس وقت دیکھیں جب آپ کو ان کی ضرورت ہوتی ہے…. دنیا کا ہر رشتہ کسی نہ کسی وجہ سے آپ کا ساتھ چھوڑ دے گا لیکن ماں باپ ہی ہوتے ہیں وہ چاہے جس حال میں بھی ہوں اپنے بچوں کی خوشی کے لئے اپنا سب کچھ نچھاور کرتے ہیں. دوستو اس عید سے قبل کا ایک حقیق واقعہ جو میرے ساتھ پیش آیا آپ دوستو کو بھی سنانا چاہتا ہوں….. ایک ہفتے سے جاری عید کی شاپنگ سارے گھر والوں کی ہو چکی تھی امی ابو کے لئے بھی شاپنگ کر چکے تھے مگر ڈیوٹی سے ٹائم نہیں ملنے کی وجہ سے میں خود اپنے لئے جوتے خرید نہیں پایا تھا. اور ایک دن پہلے چھوٹے بھائی اعجاز کے ساتھ یہ فیصلہ ہوا تھا کہ چاند رات کو اکٹھے بازار جا کر میرے لئے جوتے سمیت گھر کے لئے جو دیگر ضرورت کی چیزیں خریدنی ہو خرید لینگے. پھر کیا….! ہوتا وہی یے جو منظور خدا ہوتا ہے.. دن بھر صحافتی ڈیوٹی کے بعد شام کو گھر لوٹ آیا تو بہت تھکا ہوا تھا اور آرام کرنے کی غرض سے لیٹ گیا اسی دوران ہی میری طبعیت بھی خراب ہونے لگی اور چاند رات نے بھی اپنی منزل پر دستک دی اور میری طبعیت بھی خراب ہونے کی وجہ سے مارکیٹ نہیں جا سکتا تھا تو چھوٹا بھائی میری طبعیت کا دیکھ کر مجھے بغیر بتائے رات کے گیارہ بجے مارکیٹ چلا گیا. گھر کے لئے کچھ ضرورت کی اشیائخریدنی تھی. اسلام آباد جیسے شہر میں چاند رات ہو اور مارکیٹیں بند ہو جائیں یہ تو ممکن نہیں. بس ہونا کیا میں تو اپنی طبیعت اور پھر اس نیت سے سو گیا کہ اب پتہ نہیں چھوٹا بھائی میرے لئے بوٹ لے کر آئے گا بھی یا نہیں یا اسے یاد بھی ہوگا یا نہیں. مگر شاید میں ہی کم ظرف اور چھوٹی سوچ کا حامل تھا جو اس طرح کی سوچ لئے سو گیا تھا. صبح اٹھا اور عید کی نماز کے لئے کپڑے بدلنے لگا تو پرانی چپل سامنے رکھتے ہوئے چھوٹے بھائی کو کوسنے لگا تو میری بیوی سائرہ بھی مجھے کہنے لگی آپ کو کہا تھا نا دو تین دن پہلے جوتے لاتے تو یہ نہیں ہوتا. ہم میاں بیوی کی اس گفتگو کے دوران ہی بھتیجا دانیال میرے کمرے میں داخل ہوا اور ہماری گفتگو سن کر یکدم بولا آپ کو جوتے پسند آئے….؟ تو اسی تیزی سے میرا بھی جواب تھا میں نے جوتے لائے ہی نہیں ہیں تو دیکھنا کیا….. اور پرانے جوتے ہی پہن لونگا. اتنے میں بھتیجا دانیال کہنے لگا رات کو اعجاز چاچو نے آپ کے بوٹ خرید کر لائے ہیں اور اس وقت آپ سوئے ہوئے تھے تو افتخار چاچو کے کمرے میں رکھا ہے یہ کہتا ہوا دوسرے روم کی طرف چلا گیا اور میرے جوتوں کا ڈبہ اٹھا کر لایا. جوتوں کا ڈبہ دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ چھوٹا بھائی اپنی پسند سے اور پھر یاد سے میرے لئے جوتے بھی لے کر آیا اور میں کیا کیا سوچتا رہا.پھر کیا اسی خوشی میں جوتوں کا ڈبہ کھولا پہن کر چیک کیا تو میری پسند اور فٹینگ کے تھے اسی دوران بات بات پر دانیال بھتیجے نے کہا میں رات کو اعجاز چاچو کے ساتھ مارکیٹ گیا تھا. تو وہاں آپکے جوتے چاچو نے اپنی پسند سے خریدے تھے. انہی باتوں باتوں میں اس وقت میری خوشی ہزار فیصد زیادہ ہو گئی جب دانیال نے میری طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ رات جب ایک بجے ہم مارکیٹ سے واپس گھر کے گیٹ پر پہنچے تو دادا گیٹ پر کھڑے انتظار کر رہے تھے. آتے ہی سب سے پہلے ہم سے یہی پوچھا کہ ابرار کے جوتے لائے ہو. کی نہیں اور اگر نہیں لائے ہو تو تم دونوں کو گھر آنے کی اجازت نہیں جا کر ابھی لے آو… اتنے میں اس صورتحال کا ہتاتے ہوئے دانیال کہتا ہے انہوں نے پیار بھر جملے میں کہا داد فکر نہ کریں جوتے لے کر آئے ہیں جس پر دادا نے سوکھ کا سانس لیا اور اندر جانے کی اجازت دی اور خود بھی اندر اپنے کمرے میں جا کر سونے لگے…دوستو رات کے ایک بجے اور والد صاحب صرف اس انتظار میں گیٹ پر کھڑے تھے کہ میرے جوتے چھوٹا بھائی لے کر آئے گا…. ہم بچے اتنا کچھ ماں باپ کے لئے نہیں سوچتے دنیا کی مستیوں میں مصروف کھوئے رہتے ہیں مگر والدین کے لئے ان کی اولاد ہی دنیا کی سب سے بڑی خوشی اور نعمت ہوتے ہیں. دوستو اللہ ہم سب کے والدین کو زندہ و جاوید رکھے اور ان کا سایہ اپنے سروں پر رکھے. تو یہ سمجھ لیجئے گا کہ دنیا کی ہر خوشی آپ کی ہے اور ہر کامیابی آپ کی ہے. آخر میں اس دعا کے ساتھ کہ مولا ہم سب کے والدین کا سایہ ہمارے سروں پر ہمیشہ اسی طرح رکھنا اور ہمیں ان والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا کرنا. آمین

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments