اقوام عالم کی ترقی اور امت مسلمہ کی زبوں حالی

تحریر :وزیر غلام حیدر شگر

اس کہانی کو ہم یوں بیان کرتے ہیں کہ امریکہ نے سب سے پہلے دنیا میں دو ایٹم بم بنایا جو کہ پہلے کا نام سمال بوائے) Small Boy ) یعنی چھوٹا لڑکا اور دوسرے کا نام فیٹ میں(Fat Man ) یعنی موٹا آدمی رکھا۔ اور اس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹیرومین ظالم حکمران نے جاپان کے ہیروشیما جیسے خوبصورت شہر پر فیٹ مین نام کا ایٹم بم گرانے کی دستاویزات پر دستخط کر دی۔ اور 6اگست 1945 کو میجر تھامسن نامی پائلٹ نے امریکی جہاز اینولاگے کے ذریعے بم کو ہیروشیما کے سر زمین پر گرایا۔ جاپانی عوام کے قاتل وہ پائلٹ ذہنی مرض میں مبتلا ہو کر اب تک دنیا سے غائب ہے۔ بم کو زمین تک پہنچنے میں صرف پینتالیس سکینڈ لگے اور دس سکینڈ بعد وہ بم ہیروشیما پر پھٹا۔ اسی دس سکینڈ نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔اس وقت دو لاکھ پچاس ہزار کے آبادی کو صفحہ ہستی سے ختم کردیا۔ آج سے ساٹھ سال گزرنے کے باوجود بھی اسی کے اثرات سے اب تک وہاں معذور بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ عالمی قوانین کے خلاف ورزی اور سنگین جرم کے باوجود بھی جاپانی عوام نے اپنے دشمن سے مقابلہ نعرہ بازی اور احتجاج سے نہیں کیا بلکہ جاپان کے تمام سیاسی و سماجی باشعور و باصلاحیت عوام ایک پلیٹ فارم پر منظم ہو کر انہوں نے تعلیم پر توجہ مرکوز کی۔ پوری جاپان کے تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم و تربیت دینا شروع کی۔اور دن رات کر کے تعلیم ٹیکنالوجی پر جاپانی عوام نے مکمل عبور حاصل کی۔ آج وہ جاپان کو پوری دنیا جانتی ہے۔ انہوں نے دنیا کو پیغام دیا۔ جاپان نے آج اتنی ترقی کی کہ امریکہ کی گوشے گوشے میں جاپانی ٹیکنالوجی گونج رہے ہیں۔ انہوں نے تعلیم و ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے دشمن سے مقابلہ کیا۔عجیب بات یہ ہے کہ دشمنوں کے دل میں جاپانی غیور عوام نے اپنے لیے جگہ بنایا۔ مگر افسوس آج مسلم ممالک میں کیا ہورہے ہیں سمجھ سے باہر ہے۔ہم تو صرف امریکہ و اسرائیل اور یورپی ممالک کے خلاف نعرہ بازی و احتجاج تک محدود ہیں۔ مگر ہمارے باشعور و باصلاحیت عوام کو یہ نہیں معلوم کہ ہمارا روز مرہ ضروریات زندگی کے تمام تر چیزیں وہاں سے آتے ہیں جس کے خلاف ہم مردہ باد کے نعرہ لگاتے ہیں۔ دنیا میں کل چھیاون مسلم ممالک ہیں مگر ہم ایک دوسرے سے اتفاق نہیں ہیں یہی نااتفاقی اور نعرہ بازی ہماری اصل کمزوری ہے۔ جس مکاتب فکر سے بھی ہو ہمارے مولانوں کے منہ سے بارہا سن چکے ہیں اگر پوری عالم اسلام ایک پلیٹ فارم پر منظم ہو کر ایک ایک بالٹی پانی اسرائیل پر پھینک دیں تو اسرائیل صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ یقیناًاس میں کوئی شک نہیں لیکن ہم مسلمانوں کے درمیان اتفاق واتحاد کا فقدان ہے۔ اس کا اندازہ ہم یوں لگایا جا سکتا ہے کہ دو بڑے اسلامی ممالک سعودی عرب اور ایران نے دیگر مسلم ملکوں میں نفرت و اشتعال اور فرقہ واریت کا بیج بویا اس کا فصل آج پوری امت مسلمہ کاٹ رہے ہیں۔کوئی سعودی عرب کے حق میں ایران کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہیں تو کوئی ملت ایران کے حق میں سعودی عرب کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہیں۔ سعودی عرب کے شہنشاہ ، بادشاہ ولی عہد اور مذہبی رہنماؤں کے تمنا ہے کہ عالم اسلام میں ہماری حکومت قائم ہو جائے اور تمام مسلم ممالک ہمارے ماتحت کا م کرے۔ تو دوسری جانب ملت ایران کے سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے بھی دلی خواہش ہے کہ پوری عالم اسلام پر ہماری حکومت قائم ہو جائے ۔ اسی حکمرانی کے باعث مسلم ممالک اتنی تیزی سے نااتفاقی کی جانب رواں دواں ہے ۔ تو یہ بتاؤ کہ ہم ترقی خاک کریں گے۔ دشمن سے ہم مقابلہ کیسے کریں گے۔ آج ہم امریکہ و اسرائیل کو کس منہ سے مردہ باد کہیں گے۔ ایک قول ہے۔’’ کسی بھی قوم کی ترقی کا دارومدار تعلیم پر منحصر ہے‘‘ درحقیقت یہ بات درست ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں تعلیم کے میدان میں امریکہ و اسرائیل اور یورپی ممالک سے ہم پانچ سو سال پیچھے ہیں۔ اس کا اصل وجہ یہ ہے کہ یورپی ممالک عصبیت سے پاک ہے جبکہ مسلم ممالک عصبیت کا شکار ہے۔

بس ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ نعرہ بازی و احتجاج کرنے میں یقیناًہم آگے ہے لیکن تعلیم و ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ و اسرائیل آگے ہیں۔امریکہ کا ذکر کریں تو امریکہ باون ریاستوں پر مشتمل ہے۔ڈنمارک امریکہ کا چھوٹا ریاست ہے ۔ ورلڈ ریسرچ سروے کے مطابق لیٹریسی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو پوری دنیا میں وہ واحد ریاست ہے۔ وہاں کے ہر مرد عورت اعلٰی تعلیم یافتہ ہے۔ اسرائیل بھی ایک چھوٹی ریاست ہے مگر اس وقت دنیا کے دو سو چونتیس ممالک میں سے دو سو تینتس ایک طرف اور اسرائیل ایک طرف ہے۔ پوری دنیا میں سب سے ذیادہ پی ایچ ڈی سکالر اور اعلٰی سائنسدان اسرائیل میں ہیں۔ پہلے اوپر ذکر کیا تھا کہ ترقی کا دارومدار تعلیم و ٹیکنالوجی پر منحصر ہے ۔ تو بتاؤ مردہ کون ہے اور زندہ کون ہے۔ ہمیں خود معلوم ہونا چاہیے کہ اس وقت ہم کس سٹیج پر کھڑے ہیں۔ خیر اس سے ذیادہ تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ بہر حال قصہ مختصر ہمیں خواب غفلت سے بیدار ہو کر اتفاق و اتحاد قائم کرنے اور ایک پلیٹ فارم پر منظم ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ نعرہ بازی و احتجاج کسی کام نہیں۔بس ذہن میں تولکھنے کو بہت کچھ آرہا ہے مگر ہمارا معاشرہ اور لوگ اجازت نہیں دیتے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments