کمشنر دیامر استور ڈویژن کا زیر التوی منصوبوں کے خلاف ایکشن قابلِ‌تعریف ہے، خالد خورشید

استور (بیورو رپورٹ) استور زیر التوء ترقیاتی پروجیکٹس کا قبرستان بنا ہوا ہے ایسی حالت میں کمشنر دیامر استور سید عبدالوحید شاہ نے جو زیر التوء پروجیکٹس کے حوالے سے ایکشن لیا ہے قابل تعریف ہے ۔استور میں کچھ ٹھیکدروں کے خلاف کاروئی کی گیی ہے جبکہ کچھ با اثر ٹھیکدرا کے کے خلاف کاروئی نہیں ہوئی کمشنر دیامر استور سے گزارش ہے محکمہ ورکس کے ساتھ ساتھ مکمہ برقیات میں زیر التوء پروجیکٹس کا بھی ایکشن لیں۔سابق امیدور گلگت بلتستان اسمبلی خالد خورشید کی صحافیوں سے گفتگو۔انھوں نے کہا کہ وزیر بلدیات کے بھائی نے پکوری پاور پروجیکٹ کے نام پر کروڑوں روپے ایڈونس لیے ہیں اور پروجیکٹ مکمل نہیں ہوا ہے  اقتدرا کا غلط فائدہ اُٹھاتے ہوئے بغیر کام کے کروڑوں روپے پیمنٹ ہوئے ہیں  پکوری پاور پروجیکٹ کی کروڑوں روپے کی میشنری پروجیکٹ مکمل نہ ہونے کے باعث کھلے آسمان تلے پڑھے رہنے سے مکمل زنگ آلودہ ہوکر تباہ ہوچکی ہے ،زیپور ٹرنسمیشن لاین کا کتنی بار ٹینڈر ہوا اس کے نام پر کتنی رقم بٹوری گیی ہے ان تمام پروجیکٹس کی مکمل تحقیات کرنے کی اشد ضرورت ہے رٹو روڈ موت کا کنواں بنا ہوا ہے اس روڈ کے نام پر عرصہ دراز سے سیاسی دوکان کو چمکانے کے ساتھ ساتھ سرکاری خزانے کو کروڈوں روپے کا ٹیکہ لگایا گیا ہے استور میں پہلی بار محکمہ ورکس سیاست سے باہر آکر جب کام کررہا ہے اور ٹھیکدروں کے خلاف کاروئی کررہا ہے تو کچھ لوگ اور کچھ مخصوص سیاسی ٹولہ ایکسن استور اور کمشنر دیامر استور کے خلاف محاز آرائی کررہے ہیں اور ایکسن محکمہ تعمیرات کو ٹرنسفر کرنے کی کوشش کررہے ہیں اگر اس طرح کام کرنے والے آفیسروں کے خلاف کاروئی کی گیی تو عوام کو شدید مایوسی ہوگی اور حکومت اور اور قانون سے لوگوں کا بھروسہ اور اعتماد اُٹھ جائے گا۔اسلیے کام کرنے والے قابل آفیسروں کی حوصلہ افزائی کی جاے نا کہ اچھے کام کرنے والے آفیسروں کو تبادلوں کا تحفہ دیا جاے۔ہم نیب کے حکام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ ان تمام پروجیکٹس کی مکمل چھان بین کریں اور ایسے تمام آفیسروں کے خلاف بھی کاروئی عمل میں لائیں جنہوں نے بغیر کام کیے راتوں رات کروڑوں روپے پیمنٹ کیے ہیں۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments