گلگت بلتستان کے وسائل غیر متنازعہ، عوام متنازعہ کیوں؟ زیادتیوں‌کا سلسلہ بند کیا جائے، سکردو میں‌کانفرنس سے مقررین کا خظاب

نوجوانوں کی آنکھوں میں غصہ اور مایوسی دیکھ رہا ہوں: فرحت اللہ بابر
آئینی حقوق کے لئے آٹھ جولائی سے تحریک چلائیں گے،  آغا علی رضوی
علاقہ متنازعہ ہے تو کچھ حصے چین کو کیوں دیے گئے؟ سید جعفر شاہ
آرڈر 2018 شیڈول فور کی ایک نئی شکل ہے، کیپٹن شفیع

سکردو( محمد اسحاق جلال ) گلگت بلتستان اویئر نیس فورم کے زیر اہتمام سکردو میں آئینی حیثیت کے معاملے پر بلائی گئی کانفرنس نے مشترکہ طورپر اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان ہر گز متنازعہ نہیں ہے اس خطے کو فی الفور پانچواں آئینی صوبہ بنایا جائے اگر مکمل آئینی صوبہ بنانا فی الوقت ممکن نہیں ہے تو عبوری آئینی صوبہ بناتے ہوئے عوام کے ساتھ پچھلے 70سال سے ہونے والی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے آئینی حیثیت کا تعین کرتے ہوئے تمام قومی اداروں میں گلگت بلتستان کو چاروں صوبوں کے برابر نمائندگی دی جائے 70سال آئینی حقوق سے محروم رکھنا خطے کے عوام کے ساتھ بہت بڑا مزاق ہے پیکیجز حقوق کا مداوا نہیں ہیں اسمبلی کی قراردادوں کی روشنی میں خطے کو مکمل آئینی حقوق دیئے جائیں۔

پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماء فرحت اللہ بابر نے کہاہے کہ گلگت بلتستان 72ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا علاقہ ہے اس کو ہر گز متنازعہ قرار نہیں دیا جاسکتا اس علاقے کے لوگوں نے ملک کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اس علاقے کے لوگوں کے پاس شناختی کارڈ ہیں۔ نشان حیدر بھی اسی خطے کے ایک سپوت نے حاصل کیا ہے، یہاں کے عوام تمام ٹیکسز بھی ادا کرتے ہیں اس کے باوجود اس علاقے کو متنازعہ قرار دینا عوام کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہے بڑی عجیب بات ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام متنازعہ اور وسائل غیر متنازعہ ہوتے ہیں سپریم کورٹ نے 1999میں گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں کے برابر آئینی حقوق دینے کا حکم دیا تھا تو اس پر اب تک عمل درآمد کیوں نہیں کیا گیا ؟میں آج گلگت بلتستان کے نوجوانوں کی آنکھوں میں مایوسی اور غصہ دیکھ رہا ہوں خدا نخواستہ غصہ بڑھ گیا تو مسئلہ گھمبیر ہو جائے گا کیونکہ گلگت بلتستان کے پہاڑ بلوچستان کے پہاڑوں سے بہت بلند ہے آج یہاں پاکستان زندہ باد کے نعروں کی آواز سنائی دہے رہی ہے اگر یہ آواز نہ سنائی دے اور آوازخاموشی میں تبدیل ہو جائے تو لاوا پھٹ سکتا ہے حقوق چھینا یہاں کے عوام کا حق ہے عوام گروہی سیاست سے بالا تر ہو کر اپنے حقوق کیلئے یکجا ہو جائیں اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماء سید علی رضوی نے کہاکہ آئینی حقوق کے حصول کیلئے 1948جیسی منظم تحریک چلائی جائے گی تحریک کا آغاز 8جولائی سے ہوگا خطے میں آئینی حقوق کیلئے طوفان اٹھے گا اور ہم کالے قوانین اور پیکیجز کو ہر گز تسلیم نہیں کریں گے مختلف انداز میں ہماری جدوجہد اور آواز کو دبانے کی سازشیں ہو رہی ہے ماضی کی کہانیوں کو چھوڑ کر آئینی حقوق کی جنگ لڑیں گے اس جنگ میں تمام جماعتوں کو ہمارا ساتھ دینا ہوگا نااہل حکمرانوں نے ہمیں آئینی حقوق سے محروم رکھا ہے ہمیں بہت لڑایا گیا اب لڑانے والے خود ناکام ہو جائیں گے آرڈر کا سہارا لے کر آفیسران عوام کی توہین کر رہے ہیں زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے آئینی حقوق کیلئے وزیر اعلیٰ سمیت تما م اراکین اسمبلی پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیں انہیں چندہ جمع کر کے دیں گے اور ان کا بھر پور ساتھ دیں گے مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی مستعفیٰ ہو جائیں اور آئینی حقوق کیلئے جدوجہد کریں تو ہم انہیں دوبارہ منتخب کریں گے ہمیں اختیارات چاہئیں صوبائی اسمبلی کو اختیارات دیئے جائیں صوبائی وزراء کو بااختیار بنایا جائے وہ تمام حقوق دیئے جائیں جو ملک کے دیگر صوبوں کے عوام کو حاصل ہیں پارلیمنٹ میں نمائندگی نہ دی گئی تو کوئی سیٹ اپ قابل قبول نہیں ہوگا گلگت بلتستان کو روند کر سی پیک لے جانے کی باتیں ہو رہی ہیں ایسا ہوا تو سی پیک کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔

تحریک انصاف کے رہنماء وسپریم اپیلیٹ کورٹ کے سابق چیف جسٹس سید جعفر شاہ نے کہا کہ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق نہ دینا موجودہ صدی کا سب سے بڑا المیہ ہے جب یہ علاقہ متنازعہ تھا تو ہزاروںایکڑ زمین چین کے حوالے کس قانون کے تحت کی گئی کیا زمین دینے سے مسئلہ کشمیر پر کوئی اثر پڑا ؟ مارشل لاء کیلئے گلگت بلتستان کو ”ای ”زون بنایا گیا اب حقوق دینے کیلئے بھی اس علاقے کو ”ای ” زون بنانا ہو گا اس علاقے کو آئینی صوبہ بنانے سے زمین پھٹے گی اور نہ ہی آسمان ٹوٹے گا اگر صوبہ بنانا ممکن نہیں ہے تو کوئی ایسا سیٹ اپ دیا جائے اقوام متحدہ کی کسی قراداد میں یہ نہیں لکھا گیاہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ علاقہ ہے ہمیں تمام اداروں میں نمائندگی دی جائے ہماری قربانیوں کے صلے میں کالے قوانین تحفے میں دیئے جارہے ہیں وفاق ہمیں 70سال کے پانی کا حساب دے ہمیں محمود اچکزئی ، شاہ زین بکٹی ، منظور پشتین ، بننے نہ دیا جائے ہمیں فوری طورپر حقوق دیئے جائیں سینئر صحافی وکالم نگار قاسم نسیم نے کہاہے کہ ہمیں ایک متفقہ بیانیے کے اوپر آنا ہوگا ہم پہلے ہی پاکستان کا حصہ بن چکے تھے کسی قرارداد میں پھنسے ہوئے نہیں ہے ہر جگہ پر ہماری نیتوں پر شک کیا جانا ملک کے مفاد میں ہرگز نہیں ہے تاریخی حقائق یہ ہیں کہ گلگت بلتستان ہر گز متنازعہ نہیں ہے ہمیں منافقانہ پالیسیوں کو ترک کر کے زمینی حقائق کی طرف آنا ہوگا۔

اپوزیشن لیڈر کیپٹن (ر) محمد شفیع نے کہاہے کہ وہ لوگ سب سے بڑے غدار ہیں جو 70سال سے آئینی حقوق کے نام پر ہمارے ساتھ مذاق کر رہے ہیں ہر دروازے سے ہمیں آئینی حقوق کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی گئی لیکن تمام یقین دہانیاں دھری کی دھری رہ گئیں سرتاج عزیز کمیٹی نے بہتر سفارشات مرتب کی تھیں مگر ان سفارشات کو نظر انداز کیا گیا اور کالا قانون نافذ کیا گیا آرڈر 2018ایک طرح سے فورتھ شیڈول ہے اس کو ہر گز تسلیم نہیں کریں گے ہم نے کبھی علیحدگی کی تحریک نہیں چلائی ہماری تحریک الحاق کی ہے نااہل حکمرانوں کے غلط فیصلوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان الگ ہو گیا بلوچ قوم ہتھیار لے کر پہاڑوں پر بیٹھی ہے انڈیا کو موقع ہم نہیں ہمارے حکمران دے رہے ہیں میڈیا بھی اصل تصویر سامنے نہیں لارہے ہیں ہم نے آئینی حقوق کیلئے 6گھنٹے پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیا مگر کسی پارلیمنٹرین نے کوئی لفٹ نہیں دی ہم جمہوری انداز میں مطالبہ کر رہے ہیں ہمیں غیر جمہوری راستہ اختیار کرنے پر مجبور نہ کیا جائے اہلسنت کے عالم دین مولانا بلال زبیری نے کہاکہ آئینی حقوق کیلئے ہم سب متحد ہیں ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے فوری طورپر ہمیں صوبوں کے برابر آئینی حقوق دیئے جائیں انجمن تاجران کے صدر غلام حسین اطہر نے کہاکہ ہماری قربانیوں کی تاریخ بہت لمبی ہے خدارا ہمیں وہ راستہ اختیار کرنے پر مجبور نہ کیا جائے جس پر چلنے کے بعد واپسی ممکن نہ ہو انجینئر شبیر نے کہا کہ گلگت بلتستان اپنا حق مانگ رہا ہے وفاق ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کرے ورنہ صورت حال سنگین ہو جائے گی ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments