میری ڈائری کے اوراق سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیض علی شاہ آشتی کا پیامبر اور محبتوں کے سفیر

تحریر : شمس الحق قمر بونی حال گلگت 
(آخری قسط )

مجھے فیض علی شاہ ( عرف عام میں شوشپ اوغ ) کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا ۔ پچھلے دنوں کی بات ہے میں اپنے دفتر سے آرہا تھا ۔ تقریباً شام کے چھے بج رہے تھے گلگت ریور روڈ سے گزرتے ہوئے شوشپہ اوغ سے اتفاقاً ملاقات ہوئی ۔ دل باغ باغ ہوا ۔ میرے دماغ میں ان سے پہلی ملاقات کے لمحات قلہ بازیاں کھانے لگے ۔ نہیں معلوم اگر ملنے کا یہ اتفاق نہ ہوتا تو فیض علی شاہ کہاں رات گزارتے ۔ گلگت میں فیض علی ( شوشپہ اوغ ) پیر ہے ۔ یوں پیری کسی کی میراث نہیں جو بھی انسان بے زرر ہو وہ پیر ہے ، بزرگ ، ولی اور صوفی ہے ۔کیوں کہ ایسے ہی لوگوں کے اندر اصلی انسان بس رہا ہوتا ہے ۔ راستے میں مجھے جب ملے تو مجھے وہ آسودگی ہوئی جو کہ بہت کم انسانوں کو نصیب ہوتی ہے سب کچھ حاصل کرنے کے بعد بھی حاصل نہیں ہوتی ۔ نہیں معلوم کیا مجرا تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ میں ایک عام ادمی سے نہیں مل رہا ہوں۔ میں نے اک پل کے لئے سوچا اور سوچ کے اس نتیجے پر پہنچا کہ ہم آخر کار سارا کارو بیگار خوشی اور سکون کے لئے ہی تو کرتے ہیں ۔اگر ایک ادمی کو دیکھ کر آپ کا دل باغ باغ ہو جاتا ہے تو اُس کے پیچے کوئی نہ کوئی علت ضرورموجود ہوگی ۔ فیض علی شاہ میرے ساتھ میرے گھر تشریف لائے ۔ ہم رات گئے تک ایک دوسرے سے محو گفتگو رہے ۔ دوران ِگفتگو اپنی زندگی کے کئی ایک پہلوؤں ، سہے مسائل، بیتے لمحات اور خوبصورت یادوں کا تذکرہ فرمایا ۔ آپ کا اصل نام فیض علی شاہ ہے ۔ بعد میں شناختی کارڈ بناتے وقت دفتری غلطی کی وجہ سے آپ کا نام فیض علی شاہ سے بگڑ کر سید علی شاہ بنا۔ اب پیر کی عمر یہی کوئی ساٹھ سال ہوگی لیکن پیدل زیادہ چلنے کی وجہ سے صحت تندرست اور طبیعت ہشاش بشاش ہے ۔ فیض علی شاہ فقیروں کے بھیس میں کو بہ کو گھومتے رہتے ہیں ۔ چترال سے گلگت آپ کا ایک پیدل سفر آپ کی زندگی کی خوبصورت یادوں میں سے ایک ہے ۔

یہ اکتوبر کا مہینہ تھا اور جاڑے کی خنکی جب فیض علی شاہ مستوج سے پیدل گلگت کی طرف رخت سفر باندھ لیتا ہے ۔ دوپہر کا کھانہ ہرچین میں بابائے لاسپور کے صاحبزادے محترم سردار صاحب کے گھر سے کھاکے شندور کی طرف روانہ ہوئے ۔ فیض علی شاہ کے پاس کوئی زاد راہ کچھ بھی نہیں تھا ۔ راستے میں کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے نبرد آزاما ہونے کے لئے صرف وہی چادر ، وہی چھڑی اور وہی واسکٹ جوکہ گزشتہ کئی سالوں سے اُن کی زندگی کے اثاثے ہیں اُن کے تھے ۔ اکتوبر کے مختصر دنوں میں شندور کے سر پر مختلف دروں سے آنے والی یخ بستہ ہواؤں کے علاوہ کوئی اور ہمراہی نہیں تھا ۔ شندور کا راستہ ، ٹھنڈی ہوئیں اور فیض علی شاہ یہ تینوں احباب ایک ساتھ لنگر کے کھلے آسمان تلے رات گزارنے جا رہے تھے ۔ ۔ فیض علی شاہ کے پاس وقت کو جانچنے کے لئے گھڑی نہیں تھی اگر ہوتی بھی تو موصوف شاید وقت کی پروا نہ کرتے ۔ شندور کی دوسری طرف لنگر پہنچے پہنچے شام کا دھند لکا تاریکی میں تبدیل ہو گیا۔ چاندنی رات ہوتی تو شاید تین گھنٹے کی مزید مسافت طے کرکے برست کی آبادی تک پہنچنا ممکن تھا لیکن گھپ اندھیرا چھا گیا تھا ۔ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے گر گیا تھا ۔ اب فیض علی شاہ کو بھوکے جنگلی درندوں کے لئے دسترخوان صیافت بننا تھا ایک ایسی موت جوکہ بہت ہی بھیانک ہو سکتی تھی ۔ کہتے ہیں کہ وقت آنے پر ادمی کی اصلیت کا پتہ چلتا ہے اور جس کا کوئی نہ ہو اُس کا خدا ہوتا ہے ۔ فیض علی شاہ کو محسوس ہونے لگا تھا کہ اب حالات اپنا تیور بدل رہے ہیں ۔ انہوں نے آگے چلتے ہوئے ڈھائی گھنٹے کی مسافت پر واقع انسانی بستی تک پہنچنے کی سر توڑ کوشش کی لیکن شام گھپ اندھیروں میں بدل چکی تھی یہی کوئی پچاس کلومیٹر کی مسلسل مسافت طے کرنے کے ہاتھ پاؤں میں سکت ختم ہوئی تھی ۔ گھپ اندھیرے میں بمشکل ایک پتھر کے نیچے ایک چھوٹی سی جگہ نظر آئی اور فیض صاحب نے اپنا ڈھیرا ڈال دیا ۔ فیض علی اپنی کہانی جب بتا رہے تھے تو میرے دماغ میں دو سوچ منڈ لا رہے تھے ۔ پہلی یہ کہ کاش اُس وقت میں اُن کی مدد کے لئے اتفاقاً پہنچ جاتا تو کتنی خوشی ہوتی اور دوسرا خیال یہ کہ بونی کے بازار میں جو انسان نما بندر ان پر مذاق کرتے ہیں ، آوازے کستے ہیں اُن میں سے کوئی ایسی صورت حال سے دوچار ہوتا تو کہاں تک اس امتحان کو برداشت کر لیتا ۔ میں نے دریافت کیا کہ سردی کتنی تھی اور کیا ڈر اور خوف کا احساس بھی ہوا ؟ جوباً گویا ہوئے 146146 نو لہ نو ہیش کیاغ نو لہ جم پوریتام 145145 ۔ واقعی یہی سچی مسلمانیت ہے ان کی جگہ پر مذہب کاکوئی دوسرا ٹھیکہ دار ہوتا تو اُس کی لاش نکل جاتی ۔ لیکن یہ سچا مسلمان اور صحیح معنوں میں انسان ہیں استقامت ، ایماداری اور صبرو تحمل سے کام لیا تھا ۔

میرے سوال پر کہ وہ پیدل سفر کیوں کرتے ہیں ؟ بولنے لگے کہ پیدل سفر میں دل کو راحت ہوتی ہے راستوں میں آنے والے پتھر ، سبزہ ، کیڑے مکوڑے ، سرد و گرم ہوا ، دھوپ ، چھاؤں ، روشنی اور تاریکی سب بہتر نظر آتے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے چلنے سے اور بھی پیدل چلنے کو دل کرتا ہے ۔ پیدل چلنے کی خوبیاں بتاتے بتاتے تھوڑے جذباتی ہوئے اور کہنے لگے 146146 مہ ژان شندورو ہے میدانان بو دیتی اسوم ۔ہے لنگرو دی بو ژوتی اسوم 145145 ان الفاظ سے ایک خاص جذبہ اور ہمت کی عکاسی ہوتی ہے ۔ ہماری گفتگو میں تسلسل نہیں تھا ۔ دوران گفتگو جہاں میں سمجھتا کہ اب کسی سولا کی ضرورت ہے تو سوال جھونک دیتا ۔ چونکہ میرا تعلق بونی سے ہے لہذا میں نے کسی بات پر اُن سے از راہ تفنن دریافت کیا کہ بونی میں آپ کی سب سے زیادہ پسندیدہ شخصیت کون ہے ؟ کہنے لگے بونی میں صرف ایک شخص تھے جوکہ مجھے بہت عزت دیتے تھے اور بہت محبت کرتے تھے اللہ رب العزت( مرحوم صوبیدار ) لوٹ دور بونی کو جنت فردوس میں جگہ عطا فرمائے ۔

اپنی زندگی کی کہانیاں بتا تے ہوئے فیض علی شاہ نے اپنے زمانے کے انسانوں کے غیر انسانی سلوک پر بڑے افسوس کا اظہار کیا ۔ ان کی نظر میں جنگل میں بسنے والے جنگلی جانور بھی ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں لیکن انسانوں میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے علاوہ اور کوئی خصوصیت موجود نہیں ۔ ظاہر ہے فیض علی شاہ اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی روشنی میں یہ سب کہہ رہے تھے ۔ مجھے دوبارہ وہ واقعہ یاد آیا جو میں نے جان بوجھ کے کیا تھا لہذا میں نے اُس واقعے کے تیس سال گزرنے کے باد اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور فیض علی سے معافی مانگی ۔ یہ خدا کے وہ پر اسرار بندے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے کائینات میں ترتیب ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ سب کچھ یہی ہو جو بھیس بدل کر چل رہا ہو ۔ یہی بے زرر لوگ امن کے داعی ہوتے ہیں ۔ لہذا میری نظر میں فیض علی شاہ بھی آشتی کا پیامبر اور محبتوں کی دنیا کے سفیر ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments