شعیہ امامی اسماعیلی مکتبہ فکر میں‌امامت کا نظام جزوی طور پر بہت بہتر ہے، آغا راحت حسین الحسینی کا چھلت نگر میں‌ اجتماع سے خطاب

نگر ( اقبال راجوا) ہمیں انتخاباتی اسلام نہیں بلکہ عملی اسلام کی ضرورت ہے،ہمارے ساتھ ترقیاتی منصوبوں کے ٹیندرز ہو یا ملازمتیں ہر جگہ ظلم کی انتہاہو رہی ہے، امام خمینی نے اپنے اور اللہ کے درمیان معاملات کو مضبوط کیا،ہمیں آج مصیبتوں مین چھوڑنے والے آج ہمارے مشکلات میں کہاں ہیں۔ جزوی طور پر امامی اسماعیلی کمیونیٹی میں امامت کا نظام بہت بہتر ہے اس لئے آج ہم سب تعلیم اور صحت کے میدان میں امامی اسماعیلی کمیونیٹی کے محتاج ہیں ۔آغا راحت حسین الحسینی کا امام خمینی کی برسی کی مناسبت سے جامع مسجدچھلت شینبر میں بڑے اجتماع سے خطاب ۔

برسی کی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جبکہ پروگرام میں مختلف علمائے کرام نے اظہار خیال کیا اور انقلاب اسلامی کے بانی امام خمینیؒ کے کردار و افکار سے متعلق گفتگو کی۔ تقریب کے اختتام پر مرکزی مہمان کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے قائد ملت اسلامیہ گلگت بلتستان سید ارحت حسین الحسینی نے کہا کہ ہمیں اپنی اصلاح کے زریعے تبدیلی لانی ہے ۔ہمیں چاہیئے کہ ہم اسلام کے بنیادی معلومات سے واقف ہوں اگر ہم اللہ کے ہو جائیں تو یہ طے ہے کہ ہمارے دینی و دنیاوی عوامل اللہ خود حل کریں گے۔ انہوں نے مذید کہا کہ اسلامی انقلاب کا اثر یہ ہے کہ آج دنیا جس طاقتور اسلام کا سوچتی ہے وہ در اصل انقلاب اسلامی ایران اور افکار امام خمینیؒ کے کردار کے بارے میں سوچتی ہے۔ انہوں نے گلگت بلتستان کے سیاسی حالات حالات حاضرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سابق چیف سیکریٹری کو عدل و انصاف پر کام کرنے کی وجہ سے تبادلہ کرایا گیا۔ہم پر ملازمتوں میں ظلم ہو رہی ہے جبکہ ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں سے زور زبردستی اور دھمکیوں کے زریعے دیگر ہسپتالوں میں تبادلہ کیا جا رہا ہے ۔نظام ولایت کامقصد یہ ہے کہ ہم اللہ اور اپنے درمیان کے معاملات کو برابر رکھیں یہ اللہ کا زمہ ہے کہ وہ دنیاوی معاملات حل کریگا۔ امام خمینیؒ نے اپنے اور اللہ کے ساتھ تعلق کو بہت مضبوط کیا جس سے وہ واقعہ کربلا کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا نقلابی تحریک لانے میں کامیاب ہوئے ۔امام خمینیؒ کی تحریک دنیا کی ظالم حکومتوں کے خلاف مظلومین و کمزوروں کے لئے ایک کامیاب تحریک کہلاتی ہے۔امریکہ میں تحریک امام خمینیؒ اور افکار امام خمینی کے اثرات کو دنیا بھر میں پھیلانے سے روکنے کے لئے سالانہ 20ملین روپے خرچ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں جزوی طور پر امامت کا نظام شیعہ امامی اسماعیلی مکتب فکر میں بہت بہتر انداز میں موجود ہے جس باعث آج ہم سب تعلیم اور صحت کے میدان میں ان کے محتاج ہیں ۔ہر انسان اپنا کردار ادا کرے ایک انسان کی وجہ سے انقلاب نہیں آسکتا اتنا اچھا پروگرام منعقد کرنے پر مجھے یقین نہیں آیا لیکن اس میں کوئی مسلہ نہیں کہ یہ بسیجی نوجوان اور مومنین بہترین خدمت کر رہے ہیں۔ مجھے اور شہید آغا ضیاالدین کو آپ کی خدمت کا شرف بھی انقلاب اسلامی کے بدولت نصیب ہو ا ہے ۔

تقریب سے پروگرام کے منتظم آغائے عدنان بسیجی نے بھی خطاب کیا اور چھلت پائین کے نوجوانوں ،مومنین اور اس محفل میں شریک ہونے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا ۔ صحن مسجد میں علم حضرت عباس ؑ کو بلند کیا گیا اور کالے علم کے بدلے سرخ رنگ کے علم کو لہرایا گیا۔ تقریب سے معروف نعت خواں اور مدح خواں نے بھی اپنے خوش الہانی سے مدح ،نعت اور صوفیانہ کلام بھی پیش کیا جبکہ مدرسہ کے طلباء نے ملی نغمہ بھی پیش کیا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments