شہید بھٹو نے آمر کے سامنے جھکنے کی بجائے موت کو گلے لگا کر آمریت کو شکست دے دی، سعدیہ دانش

گلگت( پ ر) پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی سیکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے کہا ھیکہ ذولفقار علی بھٹو کی شہادت دراصل آمریت کی شکست ھے اور پاکستان میں جمہوریت کی ضمانت ھے۔ انھوں نے ذولفقار علی بھٹو کی یوم شہادت کے موقع پہ عوام کو اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ پاکستان کی بقا صرف اور صرف جمہوریت کے ساتھ جڑا ھوا ھے اور قوم کو چاھیے کہ وہ بھٹو کے فلسفے کی پرچار کریں کیونکہ انھوں نے آمریت کے سامنے جھکنے کی بجائے موت کے پھندے کو گلے لگا کہ یہ ثابت کیا کہ وہ عوامی مینڈیٹ کی توھین برداشت نہیں کر سکتے۔سعدیہ دانش نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی شہید ذولفقار علی بھٹو کے راہ پہ چل رھی ھے اور ملک میں جمہوریت کی استحکام اور بالادستی پہ یقین رکھتی ھے۔ انھوں نے کہا کہ عوام طاقت کا سر چشمہ ھیں اور عوام کو حق حاصل ھے کہ وہ اپنے حاکم چنے کیونکہ حق حاکمیت صرف اور صرف عوام کا ھے۔انھوں نے کہا کہ یہ دن ھمیں اس بات کا یاد دلاتی ھیکہ ان کے محبوب رھنما نے اپنی جان کا نذرانہ تو پیش کیا مگر وہ ایک آمر کے سامنے جھکنے کی بجائے ایک سیسہ پلائی ھوئ دیوار کے مانند کھڑے اور شجاعت اور بہادری کا ایک ایسا داستان رقم کیا جو کہ لازوال ھے۔انھوں نے کہا کہ شہید ذولفقار علی بھٹو آج بھی عوام کے دلوں پہ راج کرتے ھیں اور یہ اس لئے ھیکہ انھوں نے ہمیشہ عوام کے ساتھ رھنے کو فوقیت دی۔سعدیہ دانش نے کہا کہ اس دن کو منانے کا مقصد دراصل ایک طرف ذولفقار علی بھٹو کو جہاں عظیم قربانی پہ خراج تحسین پیش کرنا ھے تو دوسری طرف اس بات کی تجدید عہد ھیکہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ھر کارکن اپنے محبوب قائد کے نقش قدم پہ چلتے ھوے ملک عزیز پاکستان میں جمہوریت کی آبیاری کیلئے اپنا تن من دھن سب ملک اور جمہوریت کیلئے قربان کر دے انہوں نے مزید کہا کہ کہ 4 اپریل کو پاکستان کے مستقبل کا عدالتی قتل ہوا ذوالفقار علی بھٹو کا قتل عالم اسلام کے اتحاد کا قتل تھا.بھٹو کو تختہ دار پر لٹکانے والے فنا ہوچکے جبکہ بھٹو آج بھی عوام کے دلون مین زندہ و جاوید ہین.بھٹو کو ناقابل شکست جوہری پاکستان بنانے کی سزا دی گئی. بھٹو کو عالمی اسلامی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنے کی سزا دی گءی. بھٹو دنیا کی قیادت پر حاوی ہونے والے تھے اس لیے وقت پر ضیاء کے ذریعے راستے سے ہٹایا گیا. وقت کے آمر نے بھٹو کے جسم کو تو ہم سے چھین لیا مگر ان کے وژن کو کوءی طاقت ہم سے جدا نہین کرپاءی. آج بھٹو کو پاکستان کے عوام کے ساتھ دنیا یاد کرتی ہے جبکہ ﻇالم ضیاء کے بچے بھی اس کے نام لینے سے شرماتے ہین.ذوالفقار علی بھٹو تیسری دنیا کے غریب عوام اور پسے ہوے طبقات کی توانا آواز بن کر ابھرے اور عالم اسلام کے اتفاق و اتحاد اور وطن عزیز کے ترقی و خوشحالی اور استحکام کے ضامن بن چکے تھے یہی وجہ تھی کہ انہین عالمی سازش کے تحت ایک طالع آزما اور عدلیہ کے ذریعے ایک بے بنیاد مقدمے مین پھانسی دے کر پاکستان کے مستقبل کو تاریک کیا گیا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments