میں نہ مانوں۔۔۔؟

قومی سطح پر اس وقت سیاسی ماحول میں گرمی عروج پر ہے۔ ایک طرف انتخابات کی گہماگہمی اوردوسری طرف پانامہ کیس پر قومی احتساب بیورو کی عدالت سے میاں محمد نواز شریف اوران دیگر کے خلاف آمدہ فیصلے نے سیاسی درجہ حرارت نقطہ کھولاؤ کے نزدیک پہنچایا دیا ہے۔ سیاسی پنڈتوں ، چڑیا ، طوطا اور دست شناس میڈیا کے عاملوں کی نظر میں قومی احتساب بیورو کی طرف سے سنائے گئے قید وبند اور جرمانوں کے فیصلے بڑے فیصلے کے طور پر مانے جارہے ہیں۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے بھی مجرمانہ گرفتاری سے قبل سیاسی گرفتاری دے کر نگران حکومت کو”ہم تو ڈوبے ہیں صنم “کے مصداق ٹف ٹائم دینے کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ نواز کی گھٹن بھری سیاسی حالات میں ایک نئی کھنک پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری طرف میاں نواز شریف اوران کی بیٹی نے لندن سے جمعے کو لاہور پہنچنے کا فیصلہ کیا ہے، اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری سے بابت سیاسی گہماگہمی نے نواز شریف اور ان کی بیٹی کی آمد اور بظاہر سادہ مگر مکمل سیاسی اثرات کے ساتھ گرفتاری دینے سے متعلق انتظامیہ پر دباؤ بڑھادی ہے۔ اندرونی طور پر مسلم لیگ نون کے اکابرین نواز شریف اور اس کی صاحبزادی کے استقبال کے لئے جمع ہونے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ ممکن ہے ، اگر تیاریوں میں کوئی کسک رہ جائے تو ان کی آمد کا فیصلہ ایک دو ، دن نہ سہی تو کچھ گھنٹوں کے لئے تاخیر کا شکار ہوجائے۔ مبینہ طور پر استقبال کی تیاری کا عمل بظاہرخاموشی کے ساتھ ملک کے طول وعرض میں موجود لیگی ورکروں تک پھیل چکا ہے اور گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ بھی اپنی مصروفیات ، خاص کر دورہ بلتستان التوا ء میں ڈال کر علامہ اقبال ایئر پورٹ پہنچنے کی تیاریوں میں جٹ چکے ہیں۔ دوسری طرف گلگت بلتستان کے لیگی اکابرین فیس بک اور ٹیوٹر پر اپنے پیغامات، بیانات اور لیگی قیادت کے حق میں موصول و مقبول تصاویر، ویڈیوز اور دیگر مواد کی تشہیر فراخ دلی سے کرکے اپنا حق ادا کررہے ہیں۔ اس بابت ایک ہمارے علاقے کے ایک اہم وزیر کی سماجی میڈیاپر “کیفیت”جو انہوں نے “تروتازہ”کی تھی وہ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی، موصوف بیان پر بیان داغ رہے تھے اور درمیان میں سامعین وناظرین کی اورسے موصول شدہ ملے جلے رجحانات کے جواب میں بھی ایک “کیفیت”چڑھادی گئی تھی ، جس میں وہ گویا ہوئے کہ کسی نے اگر ان کو گالی دی تو وہ بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں۔ یعنی وہ گالم گلوچ پر اتر آسکتے ہیں۔ بات سمجھنے کی صرف یہ ہے کہ جہاں آپ کیچڑ میں پتھر پھینک رہے ہیں تو یہ امید بھی کیوں کر رکھیں کہ آپ کا دامن صاف رہے گا۔ میری طرح بہت سوں کو یہاں اعتراض اس بات پر نہیں کہ کسے، کیااورکیسی “کیفیت”سوشل میڈیا پر چڑھانا چاہیے اور کیسے، کیونکہ ان کے اندر کی کیفیت کو کوئی بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ انہیں سیاسی طور پر بہت صدمہ وسوزن پہنچا ہے۔ مگر “تعلیم و تربیت”کا اثر عوام سے زیادہ خواص میں جھلکنا چاہیئے۔ پھر ذمہ داران میں احساس ذمہ داری اور بھی زیادہ ہونا چاہیئے۔کسی “تعلیم یافتہ”شخصیت اور “تعلیم آفتہ” شخصیات کے مابین کوئی لکیر بھی ہونی چاہیے۔ تعلیم یافتہ شخص کی گالی دینے کی دھمکی بھی گالی سے کم نہیں۔ سیاسی علیگ سلیگ اور ہمدردیاں اپنی جگہ ، مگر عوام میں سے بہتوں کو ایسے بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو تو مسترد کرچکے ہیں مگر ان کا سیاسی شعور اور بالیدگی بڑی عجیب منطق رکھتی ہے۔ خاص کر نوجوان طبقہ ، اکثریت کی مخالفت کو فیشن سمجھتے ہیں اور ایک الگ تشخص کی خاطر غیر منطقی نکتہ نظر رکھتے ہوئے اپنا آپ منفرد نظر آنا چاہتے ہیں۔ اس طبقے کو تو کسی بھی طرح مطمعن نہیں کیا جاسکتا ۔کیونکہ جب دلائل ختم ہوجائے تو پوری بحث کو اظہار رائے کی آزادی کی پولٹی میں لپیٹ کر دوسرے کو تنگ نظر، جاہل اور بددماغ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بات بلا شک و شبہ ایک حقیقت ہے کہ سب کو ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔ عدالتوں کا کام فیصلے کرنا ہے اور مدعی اور مدعاعلیہم کا کام ایک دوسرے کو قانون کی روشنی میں شواہد وشہادت سے عدالتوں کو مطمعن کرانے سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں، طاقت ، قوت، اثر ورسوخ اور دیگر کسی طرح کا بیرونی دباو عدالتی کاروائی کو متاثر کرنے اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے کے علاوہ کچھ کام نہیں آسکتے۔ قانون کی نظر میں استغاثہ اورفرددفاع وصفائی دونوں برابر ہوتے ہیں تا وقتیکہ دونوں طرفین سے تمام تر شواہد و شہادت اور قانونی ماہرین کی طرف سے شواہد و شہادتوں کی اصلیت، مقبولیت اور قانونِ انصاف کے زمرے میں بجاطور پر کارگر ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے بحث و مباحثہ اختتام کو نہ پہنچے کسی ایک قصوروار اور ایک بے قصور یا مظلوم نہیں ٹھہراجاتا۔ اس لئے بڑا فیصلہ یہ نہیں کہ آدمی سروقامت میں کتنا بڑا ہے بلکہ اس فیصلے سے ریاستی مفاد میں کتنا بڑا اثر پڑ سکتا ہے یہ دیکھ کر فیصلے کو بڑا یا چھوٹا تصور کیا جانا چاہیے۔ تاریخ انسانی میں بہت ہی کم ایسے واقعات ہیں جہاں مجرم نے جرم قبول نہ کرنے کے بعد ملنے والی کو سزا کو درست فیصلہ قراردیکر قبول کی ہو۔ البتہ ہارنے والے کو ہمیشہ اپنے ساتھ انصاف کی فراہمی میں اشکال نظر آتی رہتی ہے۔کچھ زیادہ بعید نہیں، حال ہی میں عدالت عالیہ سے جن جن لیگی زعما ء کو اپنے حق میں فیصلے حاصل ہوئے ہیں ان پر تو انہوں نے تشکرو تہنیت کا اظہارکیا ہے۔ خواجہ آصف کی ٹویٹ کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ انصاف کی فراہمی پر نادم ونالاں ہرگز نہیں تھے۔ پھر اسی عدالت عالیہ کے فاضل ججز کی طرف سے جے آئی ٹی بنانے کے فیصلے پر مٹھائیاں تقسیم کرنا بھی فیصلے کو نہ صرف قبول کرنے کے زمرے میں آتا ہے بلکہ برضا و رغبت اپنی جیت تسلیم کرنے کے مترادف نظر آتا ہے۔ لیکن حیرت ہے کہ اسی جے آئی ٹی کی روپورٹ پر قائم فیصلہ انہیں انجنیئرڈ ، فکسڈ یا پیشگی تیارشدہ نظرآتا ہے۔لیگی زعماء اب انتخابات کو عوامی فیصلہ قراردے رہے ہیں ۔ عوامی رائے کسی کے مجرم ہونے یا مظلوم ہونے کی دلیل تو اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک اس میں بھی دونوں طرف سے شواہد عوام کے سامنے نہ پیش کئے جائیں۔ اگر میاں نواز شریف یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ ان سے منسوب اثاثے ان کے تھے بھی نہیں اور ان سے ان کا کوئی تعلق نہیں، یا ان کے بیٹے کم عمری کے باوجود ان کی زیر کفالت تھے ،ہیں، نہیں، یا پھر ان کے پاس تمام تر اثاثہ جات کی خریداری کے کاغذات موجود ہیں کہ جن کو دیکھ کر عوام یہ سمجھ سکیں کہ یہ نواز شریف کی نہیں بلکہ کسی اور کی ملکیت ہے جس کا اس کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں، اور ان کی آمدنی اور نفع نقصان کا ان کے خاندان پر کوئی ذمہ داری نہیں تھی۔ دوسری طرف انہیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ جن اثاثوں کو ظاہر نہ کرنے پر اوربیانات میں ردو کد پر انہیں باسٹھ تریسٹھ کے تحت نااہلی کا سامنا ہوا ہے وہ ظاہر کردیئے گئے تھے اور ان کے اپنے بیان، صاحبزادی کے بیان اور دونوں بیٹوں کے بیانات میں کوئی فرق نہیں تھا، اس وقت کے ان کے دست راس اور وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اور خواجہ آصف اور سمدھی وزیر خزانہ اسحاق ڈارکے لندن فلیٹس سے متعلقہ بیانات میں کوئی تضادنہیں تھا۔ خیر ، اگر الیکشن نون لیگ جیت جاتے ہیں تب تو یہ بات ثابت ہے کہ لیگی زعماء اسے قائد کی بے گناہی سے تعبیر ہی کریں گے اور اس بات سے بھی قطعا بعید نہیں کہ اگر ان کی شکست ہوتی ہے تب انہیں انتخابی نتائج عوام کے فیصلے کی بجائے دھاندلی زدہ، فراڈ شدہ، مسخ شدہ اور حقائق کے برعکس بھی نظر آئیں گے۔ صاف ظاہر ہے کہ فاضل منصفین اور ریاست کے اعلیٰ ادارے کے ماہرین اور عوامی احتساب بیورو کے فاضل ججز کے فیصلے پر شک گزرنے والوں کو عام عوام کی ذاتی مفاد، علاقائیت، شخصیت پسندی، تعصب ، لسانیت پرستی، مذہبی طرفداری اور دیگر سماجی تعصبات سے میں بٹے البتہ مٹھی بھر حقیقت پسندانہ سوچ رکھنے والوں کی رائے اپنی منشاء کے خلاف آنا کیسے قبول و منظور ہوسکتا ہے۔الیکشن کے حوالے سے یہ بھی یہ روایت کسی ایک سیاسی جماعت سے متعلقہ نہیں، کسی بھی سیاسی جماعت نے بہت ہی اطمینان سے انتخابات کے نتائج قبول نہیں کئے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ فیصلے قبول کرنے کا حوصلہ کیسے پیدا کریں؟۔ اگر نون لیگ جیت جاتی ہے تو کیا باقی جماعتیں اس عوامی فیصلے کو انتخابات برائے حکومت سازی سے بھی بڑھ کر نواز شریف اہلخانہ کی بے گناہی سے تعبیر کریں گی؟۔ اور اگر ان کی توقعات کے برعکس دیگر کسی جماعت کی سیاسی جیت ہوتی ہے تو ان لیگی زعماء کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ اپنے فیصلے سے نہیں پھر جائیں گے اور خود کو مسترد شدہ تسلیم کریں گے؟۔ اور اگر عوامی فیصلے کو پھر سے فوج، عدلیہ، بیوروکریسی اور دیگر بین الاقوامی اثررسوخ سے جوڑیں گے تو ریاست کا کیا بنے گا؟۔ ووٹرکی اب کوئی عزت نہیں جب تک ووٹ لینے والے کے نزدیک مخالف
ووٹر کی برابر قدراورعزت نہ ہو۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments