کھیل

چترال اے ٹیم نے ایک بارپھر گلگت اے ٹیم کو ناکوں‌چنے چبوا دیے

شندور ( محکم الدین ) بام دُنیا شندور کے خوبصورت سیاحتی مقام ( ماہوران پاڑ ) پولوگراؤنڈ پر کھیلا جانے والا فری سٹائل پولو کا تین روزہ فیسٹول اپنی رنگا رنگ پروگرام اور رعنائیوں کے ساتھ پیر کے رو ز اختتام پذیر ہوا ۔ شندور پولو فیسٹول کا فائنل میچ حسب روایت گلگت اے ٹیم اور چترال اے ٹیم کے مابین کھیلا گیا ۔ اس میچ کے مہمان خصوصی آئی جی نارتھ فرنٹئیر کور میجر جنرل وسیم اشرف تھے ۔ آخری دن کے اس میچ میں چترال اور اُسکے روایتی حریف گلگت کے مابین دلچسپ کھیل کھیلا گیا ۔ تاہم دفاعی چمپین چترال نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرکے اپنا اعزاز برقرار رکھا ۔ اور ٹرافی ایک مرتبہ پھر اپنے نام کر لی ۔ اُس وقت ملکی اور غیر ملکی سیاحوں اور مقامی شائقین کی جم غفیر میچ دیکھنے کیلئے موقع پر موجود تھی ۔ چترال اے ٹیم نے دس گول کئے جبکہ مد مقابل مشکل سے پانچ گول کر سکی ۔ میچ کے ہاف میں چترال سکاؤٹس بینڈ ، کلچر شو ، پیرا گلائڈنگ کے علاوہ سکول کے بچوں نے رنگارنگ فن کا مظاہرہ کرکے شائقین کو محظوظ کیا ۔ اور خوب داد وصول کی ۔ مہمان خصوصی میجر جنرل وسیم اشرف نے میلے کے کامیاب انعقاد پر سکیورٹی فورسز اورضلعی انتظامیہ چترال کی تعریف کی ۔ اور کہا ۔ کہ دُشوار گزار راستوں سے طویل فاصلہ طے کرکے شندور فیسٹول میں شرکت اس کی کامیابی کی دلیل ہے ۔ جو اس بات کو واضح کرتا ہے ۔ کہ امن و آشتی چترال سمیت پورے ملک میں لوٹ آئی ہے ۔ شندور فیسٹول میں امسال غیر ملکی سیاحوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ اور سیاح تین دنوں تک دُنیا کے بلند ترین سیاحتی مقام شندور اور اس کے خوبصورت جھیل کنارے چترال اور گلگت کی ثقافت کا کُھل کر لطف اُٹھایا ۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ سیاحت خیبر پختونخوا نے آیندہ سال شندور فیسٹول کو مزید وسعت دینے اور رنگینی پیدا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ۔ مہمان خصوصی نے کھیل کے اختتام پر دفاعی چیمپین چترال اے ٹیم اور رنر اپ گلگت اے ٹیم کو نقد انعامات اور ٹرافی دی ۔ جبکہ آرمی پبلک سکول کے بچوں کیلئے 50ہزار اور پیرا گلائڈر کیلئے بھی انعام کا اعلان کیا ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: