چترال میں‌دس پولنگ سٹیشنز حساس، فوج ، فورسز اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کی جائے گی، ڈُٹی کمشنر

چترال ( بشیر حسین آزاد ) پٹی کمشنر چترال خورشید عالم محسود نے کہا ہے کہ عام انتخابات الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق پر سوفیصد عملدرامد کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی تاکہ آزادانہ ، منصفانہ اور غیر جانبدرانہ انتخابات ممکن ہوسکے۔ بدھ کے روز اپنے دفترمیں چترال پریس کلب کے صحا فیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ چترال میں انتخاب میں حصہ لینے والے امیدوار انتہائی سمجھدار اور قانون کا احترام کرنے والے ہیں جوکہ خوش آئندبات ہے اور اس وجہ سے کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوگا تاہم انتظامیہ نے پاک فوج کے تعاون سے پولنگ کے دن فل پروف سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے تیاری مکمل کر لی ہے۔ خصوصاً دس حساس پولنگ سٹیشنوں میں آرمی ، پولیس اور دیگر فورسز کے جوانوں کی تعداد کو بڑھایا جائے گا ۔ اور کیمرے نصب کئے جائیں گے ۔ چترال میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ پیسکو کی طرف سے اس بلا جواز لوڈ شیڈنگ کے بارے میں انہوں نے پیسکو چیف سے بات کرکے ان پر واضح کردیا ہے کہ بجلی کی دستیابی اور ٹرانسمیشن لائن کی درستگی کے باوجود لوڈ شیڈنگ کے ذریعے بجلی کی بندش کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔ ٹرانسمیشن لائن میں کوئی مسئلہ نہیں ہے اور لود شیڈنگ کے نتیجے میں گولین گول ہائیڈروپاؤر اسٹیشن کی یونٹ کو نقصان پہنچنے کا بھی خطرہ ہے جبکہ امن وامان کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا  کہ پیسکو چیف نے لوڈ شیڈنگ بند کرنے کی یقین دہانی کی ہے ۔

اسی طرح انہوں نے لواری ٹنل کی پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے صبح 4بجے سے دن 1 بجے اور سہ پہر 3بجے سے شام 7بجے شیڈول بنانے کی یقین دھانی کی ۔ تاکہ رات کو جو مسافر پشاور سے لواری ٹنل پہنچتے ہیں اُنہیں صبح 9بجے تک انتظار نہ کرنا پڑے اُنہوں نے سرکاری کرایہ نامہ سے زیادہ کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹروں کے خلاف کاروائی کی بھی یقین دہانی کرائی۔ ڈپٹی کمشنر نے چترال میں ہیلتھ کے حوالے سے ڈاکٹروں کی کمی ، سٹی سکین کی سہولت نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ۔ اور کہا ۔ کہ چترال جیسے علاقے میں اس سہولت کا نہ ہو نا باعث تعجب ہے ۔ جبکہ بجلی کی سہولت بھی یہاں موجود ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ڈی ایچ او چترال سے اس حوالے سے مکمل رپورٹ حاصل کرکے سیکرٹری ہیلتھ سے درخواست کی جائے گی ۔ اور مجھے اُمید ہے ۔ کہ سیکرٹری ہیلتھ یہ مسئلہ ضرور حل کریں گے ۔ کیونکہ وہ ایک مہربان آفیسر ہیں ۔ ڈی سی چترال نے کہا ۔ کہ کسی بھی سرکاری آفیسر کو یہ اجازت نہیں ہوگی ۔ کہ وہ ڈپٹی کمشنر چترال کے نوٹس میں لائے بغیر ضلع سے باہر چلا جائے ۔ کیونکہ عوام کی خدمات انجام دینے کیلئے وہ اداروں کے سربراہ مقرر کئے گئے ہیں ۔ اس لئے اُن کی غفلت نا قابل برداشت ہے ۔ اس حوالے سے ایک رجسٹر لواری ٹنل اور چترال ائر پورٹ پر رکھا جائے گا ۔ جس میں آفیسران کی آمد اور روانگی درج ہو گی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ سیاسی افراد درخواست دے کر جلسے منعقد کرنے کے پابند ہوں گے ۔ بجلی کے کھمبوں پر انتخابی اشتہارات لگانے پر پابندی ہے ۔ سرکاری اہلکار سیاسی جلسوں میں شرکت نہیں کریں گے ۔ سوشل میڈیا میں کوئی بھی سرکاری اہلکارکسی پارٹی کو سپورٹ نہیں کرے گا ۔ ایسا پوسٹ برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ جس سے امن و امان کو خطرہ ہو ۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا ۔ کہ تخلیقی اور تحقیقی صحافت کسی بھی قوم کی ترقی کیلئے انتہائی ضروری ہے ۔اور چترال کے صحافیوں میں یہ بدرجہ اتم موجود ہے ۔ اس موقع پر صدر چترال پریس کلب ظہیرالدین و دیگر ممبران نے چترال کے مسائل کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments