تحریک انصاف گلگت بلتستان کا امتحان

اے بشیر خان

خیر سے جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہونگے تب تک وفاق اور صوبوں میں نئی حکومتوں کی تشکیل کا مرحلہ خاصا آگے بڑھ چُکا ہوگا۔ بظاہر یو ں لگتا ہے کہ تحریک انصاف کے پی کے میں کلی طور پر جبکہ مرکز اور پنجاب میں اتحادی جماعتوں اور آزاد ارکان کے تعاون سے نئی حکومتیں تشکیل دے چکی ہوگی جبکہ ان کے اشتراق سے بلوچستان کی مخلوط حکومت بھی تشکیل پا چکی ہوگی۔سندھ میں پیپلز پارٹی اپنی حکومت بنا لے گی۔ تاہم طویل عرصے بعد سندہ اسمبلی میں ایک مضبوط اپوزیشن دیکھنے کو ملے گی جو یقیناً بڑی حد تک پیپلز پارٹی کے بے لگام گھوڑے کو من مانی کرنے سے روک سکے گی۔ سندھ میں تحریک انصاف ، جی ڈی اے اور ایم کیو ایم کے ارکان کو مرکز ی حکومت کی آشیر باد بھی حاصل ہوگی۔ ماضی میں پیپلز پارٹی اپوزیشن ارکان کے فنڈز میں کٹوتی کرکے ننی سی اپوزیشن کوبے بس کر دیتی تھی اور انہیں مرکز سے بھی کوئی خاص سپورٹ نہیں ملتی تھی۔ اب ویسا نہیں ہوگا۔ اب جیسا وہ صوبہ میں اپوزیشن کے ساتھ کریں گے ویسا اُن کے ساتھ مرکز اور دیگر صوبوں میں ہوگا۔خیر بات ہو رہی تھی نئی حکومتوں کی تشکیل سے متعلق عمران خان صاحب کے اگلے امتحان کی۔ انہیں جاننے والے بخوبی واقف ہیں کہ وہ ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر ہیں اور بغیر دباؤ کے کام کرنے کے عادی ہیں۔ اس لئے قوی امید ہے کہ وہ یہ کام انتہائی خوش اصلوبی سے پائے تکمیل تک پہنچائیں گے۔اُن کے پاس با صلاحیت ممبران اور کارکنان کی ایک اچھی ٹیم موجود ہے۔ بلاشبہ ان ارکان میں سے بہت سے پہلی بار حکومتی مشینری کا حصہ بنیں گے لیکن یہی لوگ ڈیلیور بھی کر سکیں گے کہ انہیں لوٹ مار کا نہ تو زیادہ تجربہ ہے اور نہ ہی اُن کا لیڈر کسی قسم کے مالی کرپشن میں ملوث ہے۔ ایسے میں اگر کوئی طالع آزما پرانی ڈگر پر چلنے کی کوشش کرے گا تو وہ اپنے انجام سے بھی آگاہ ہوگا۔ اچھی بات یہ ہوگئی ہے کہ تحریک انصاف نے ایم کیو ایم ، ق لیگ اور بلوچستان کی اکثریتی پارٹی سمیت آزاد ارکان کی ایک بڑی تعداد کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ اُن کی اس کاوش پر بعض عناصر سیخ پا ہیں اور اسے ہارس ٹریڈنگ قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ ایسا کہنے والوں میں بڑی تعداد اُن لوگوں کے لواحقین کی ہے جنہوں نے مخالف پارٹیوں کے ارکان کو بھاری قیمتوں پر خرید کر اور اُن کی منشا کے مطابق اغواء کر کے کئی کئی دن تک انہیں چھانگا مانگا اور مری میں محصور رکھا۔ حالانکہ آج ایسی کوئی صورتحال نہیں۔ یہ ضرور ہے کہ متحارف فریقین آزاد ارکان کو اپنی طرف مائل کرنے کی اپنی سی کوششیں کر رہے ہیں کہ یہ اُن کا جمہوری حق ہے اور اس میں کوئی برائی بھی نہیں لیکن جنہیں لوٹ مار کا نظام خطرے میں نظر آرہا ہے وہ چور مچائے شور کے مصداق ابلاغیاتی میدان میں اپنی اپنی بولیاں بول رہے ہیں۔ شائد انہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ اب اُنکا یہ حربہ زیادہ کارگر نہیں ہو سکتا۔ آج کل خان صاحب اور اُن کی ٹیم نئی مرکزی اور صوبائی کابینہ کے ارکان کا انتخاب کرنے میں مصروف ہیں ۔ انہیں صوبوں میں نئے گورنرز بھی لانے ہیں اور اُس کے بعد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے معاملات کو بھی دیکھنا ہے۔ اس لئے توقع ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت جہاں ایک طرف نئے نئے پارٹی میں آنے والے تجربہ کار لوگوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا چاہے گی وہیں وہ اپنے پرانے وفادار کارکنوں کو بھی اہلیت کے مطابق اُن کامقام دیگی۔ دونوں کاکمبینیشن یقیناًپارٹی کے مفاد میں ہوگا اس لئے کہ نہ تو تجربہ کے بغیر کوئی کام مناسب طریقے سےہو سکتا ہے اور نہ ہی وفادار ساتھیوں کا کوئی نعم البدل ہوتا ہے۔

گزشتہ اتوار کے روز نوجوان شاعر نیت شاہ قلندر کی کتاب داغ ہائے دل کی تقریب رونمائی اور ایک مشاعرے میں شرکت کی غرض سے لالک جان شہید کی سرزمین یاسین غذر جاناہوا۔ساتھ میں حلقہ ارباب ذوق گلگت کے ممبران، گلگت بلتستان کے ادباء ، شعرا اور نقادوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ پاکستان بھر کی طرح وسطی ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کے سنگم پر واقع اس دور افتادہ علاقے کے اہل علم کی مختلف مجالس کاموضوعِ گفتگو بھی انتخابات اور بعد از انتخابات کے مراحل تھے۔ خان صاحب کی طرف سے الیکٹ ایبلز کی تحریک میں شمولیت کا مشکل فیصلہ، انتخابات کے نتائج،تحریک انصاف کی آئندہ صف بندی ، مستقبل کے سیٹ اپ میں نئے اور پرانے نظریاتی کار کنوں کا رول تھا۔ احباب کا خیال تھا کہ الیکٹ ایبلز کی شمولیت جہاں تحریک انصاف کی ضرورت تھی وہیں وکٹری اسٹینڈ تک پہنچنے کی خان صاحب کی بہتریں حکمت عملی کا حصہ بھی تھا۔تاہم اب وہ مرحلہ آیا ہے جہاں پرانے وفادار کارکنوں کی توقعات بڑھیں گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ انہیں کس طرح مطمعن کیا جاتا ہے۔ اس حوالےسے موضوع کا رخ گلگت بلتستان کی طرف مڑا تو اکثر اہل علم کا یہ کہنا تھا کہ ابھی چند برس قبل تک گلگت بلتستان میں تحریکانصاف کو کوئی جانتا بھی نہ تھا۔ لے دے کے ایک نوجوان صابر حسین ہی تھا جو پورے انہماک سے ساتھ پی ٹی آئی کو اسخطے میں متعارف کرانے میں لگا ہوا تھا۔ پھر اس میں حشمت اللہ خان اور عبدالطیف جیسے تجربہ کار لوگ آئے اور انہوں نے اس کاز کواور آگے بڑھایا ۔ تحریک میں نیا موڑ اس وقت آیا جب موجودہ صدر راجہ جلال ،صوبائی سیکریٹری جنرل فتح اللہ نیز عتیق پیرزادہ اور اُس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں پر مشتمل ایک بڑی ٹیم نے تحریک کے فلسفہ سے گلگت بلتستان کے عوام کو روشناس کروایا۔ان تمام افراد کی کوششوں کے باعث گلگت بلتستان اسمبلی کے گزشتہ الیکشن میں اگرچہ تحریک انصاف نے کئی ایک نشستوں پر بڑی ٹف فائٹ دی لیکن مرکزی حکومت کی آشیر واد کے نتیجہ میں کئی ایک حلقوں میں مسلم لیگ کے امیدواروں کو سبقت حاصل ہو گئی۔ خاص طور پر موجودہ سینئر وزیر اکبر تابان کو تحریک انصاف کی صوبائی صدر راجہ جلال پرری کاونٹنگ کے دوران محض ایک ووٹ کی برتری حاصل ہو گئی۔ موجودہ اسمبلی میں تحریک انصاف کی ایک ہی ممبر موجود ہے ۔ راجہ جہانزیب صاحب حال ہی میں اُس وقت مقامی میڈیا پر چھائے رہے جب سابق وزیر اعظم شاہدخاقان عباسی کی جی بی اسمبلی میں موجودگی میں جی بی آرڈر 2018ء پر بحث کے دوران انہوں نے حکومتی رکن اسمبلی میجر امین کی پٹائی کر ڈالی۔

واضع رہے کہ جی بی کے عوام نے پورے شد و مد کے ساتھ مسلم لیگ کی طرف سے متعارف  کرائے گئے جی بی آرڈر کو مسترد کر دیا۔ اس لئے میڈیا میں راجہ صاحب کے حوصلے کو خوب سراہا گیا۔اب جبکہ مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت آگئی ہے تو توقعہ ہے کہ جی بی میں تحریک کے پرانے کارکنوں کو اُن کا جائز مقام ملے گا۔ مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ گلگت بلتستان تحریکِ انصاف کی صفوں میں اتحاد پیدا کیا جائے اور مختلف گروپوں کی شکل میںکام کرنے والے تحریکی کارکنوں کو ایک ہی لڑی میں پرویا جائے۔ اس حوالے سے اُن سینئر رہنماوں کی زیادہ ذمہ داری بنتی ہے جو اب تک چُپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں اور اپنے تمام تر اثر و رسوخ کے باوجود پارٹی کے معاملات سے عملا لا تعلق ہیں۔ آج اگر وہ پارٹی کے اتحاد کے لٰے اپنا کردار ادا نہیں کرتے ہیں تو آنے والے کل انہیں وہ مقام ملنا دشوار ہوگا جس کی وہ پارٹی سے توقع رکھتے ہیں۔ ایسی صورت میں عمران خان جیسے بااصول رہنما سے یہ امید رکھناعبث ہو گا کہ وہ صابر حسین، حشمت اللہ خان، راجہ جلال، راجہ جہانزیب، ڈاکٹر زمان، منظور حسین، عبدالطیف ، عتیق پیر زادہ، نوید اور نور محمد سموں سمیت ان درجنوں نوجوانوں پر آپ کو ترجیح دیں جنہوں نے جی بی میں اس پودے کی آبیاری کی ہے۔

عین ممکن ہے کہ مرکز کے معاملات نمٹانے کے بعد جناب عمران خان گورنر گلگت بلتستان کی تبدیلی پر غور کریں کیونکہ فی الوقت یہ عہدہ ایک عمر رسیدہ اور متنازعہ شخص کے سپرد ہے جو اپنی پیرانہ سالی کے باعث خود اپنے حواس میں نہیں ہے۔ توقع ہے کہ بہت جلد اس عہدے پر کسی متحرک اور دیرینہ تحریکی کارکن کو فائز کیا جا ئے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments