ایک گھوڑے کی کہانی – قسط سوم

(عظیم روسی مصنف ٹالسٹائی کی ایک تصنیف)

تحریر: سبطِ حسن

5

اصطبل کے چاروں طرف لکڑی کے چھوٹے چھوٹے تنے لگے ہوئے تھے تاکہ کوئی گھوڑا اصطبل سے باہر نہ جا سکے۔ اصطبل کی چھت لکڑی کے تختوں کی بنی تھی۔ چھت اور تنوں کی باڑ کے درمیان کھلی جگہ تھی اور اس میں سے آسمان نظر آتا تھا۔

رات ہوگئی اور کچھ ہی دیر میں چاندنی نے اصطبل کو چاروں طرف سے اپنی گود میں لے لیا۔ اصطبل کے دروازے میں کھڑے ہو کر دیکھیں تو لگتا تھا کہ اصطبل زمین پر نہیں، فضا میں معلق ہے۔ اس کے ارد گرد چاندنی کا ایک سمندر پھیل گیا ہے۔ اصطبل کے وسط میں، روشن ،ایک مجسمے کی طرح پر سکون کھڑا تھا۔ چاندنی کی دھیمی لو میں اس کے جسم پر پڑے داغ نمایاں اور خوبصورت لگ رہے تھے۔ ایسے لگتا تھا جیسے وہ سب گھوڑوں سے الگ، خوبصورت پوشاک پہنے کھڑا ہو۔ اس کی پشت پر بدستور کاٹھی موجود تھی۔ سب گھوڑے اس کے ارد گرد جمع تھے۔ وہ سب بھی پرسکون اور ادب سے کھڑے تھے۔ وہ سب اس طرح محو تھے، جیسے کوئی سنسنی خیز بات سن رہے ہوں۔ کوئی ایسی بات جس کو سن کر ان کی حیرت کی کوئی حد ہی نہ رہی ہو۔

پہلی رات:

’ہاں سنو، میں تاریخ کے دو مشہور گھوڑوں، شہہ زور اور براق کا بچہ ہوں۔ میرا خاندان ضحاک کے نام سے مشہور ہے اور اس خاندان کے گھوڑوں نے نوابوں اور بادشاہوں کے ہاں عزت کی جگہ لی۔ جب میں پہلی مرتبہ دوڑا تو مجھے دیکھنے والے دانتوں میں انگلیاں دبائے بیٹھے رہے۔ سب کا خیال تھا کہ ایسی تیز رفتاری اور ایسا وقار آج تک نظر نہیں آیا۔ اس وقت ایک بادشاہ بھی میری دوڑ دیکھ رہا تھا۔ اس نے میرا نام اپنے شہزادے کے نام پر ’’روشن ‘‘ رکھا۔ جہاں تک میری نسل کا معاملہ ہے، میری نسل کے گھوڑے ہمیشہ سے اعلیٰ مقام پر رہے۔ مجھے اپنی نسل پر گھمنڈ نہیں، یہ حقیقت تھی۔ اسی طرح کی حقیقت کہ جس طرح کہ میں ایک گھوڑا ہوں، چار ٹانگوں والا۔۔۔یہ سب بتانے کا کیا فائدہ؟ کل رات رانی نے میری حفاظت کی۔ وہ مجھے اچھی طرح پہچانتی ہے۔ چونکہ وہ میری ساری زندگی کی گواہ ہے، اس لیے میں تمھیں یہ باتیں کہہ رہا ہوں۔ اگر اس کی غیر موجودگی میں ، یہ سب بتاتا تو آپ لوگ سمجھتے کہ میں ڈھینگیں مار رہا ہوں۔ مجھے آپ لوگوں کی ہمدردی نہیں چاہیے۔ تم نے میرے ساتھ جو کچھ کیا، میں نہیں چاہتا کہ میرے ساتھ یہ دوبارہ ہو۔ تم لوگوں نے مجھے مجبور کیا ہے کہ میں وہ باتیں کروں جو مجھے سخت ناپسند ہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ میں وہ گھوڑا رہا ہوں، جو تمھاری نسل میں ملنا دشوار ہے۔ مجھے اس ملک کے نواب اور شہنشاہ تو کیا، پوری دنیا میں گھوڑوں کے شوقین نام سے جانتے تھے۔ وہ میری باتیں کر کے فخر محسوس کرتے تھے۔وہ گھوڑا ہوں، جس نے مشہور ، ہنس، نامی گھوڑے کو ہرایا تھا۔ ’’ہنس‘‘ کا مالک اپنے گھوڑے کے ہارنے سے ایسا بددل ہوا کہ اس نے گھوڑے پالنے کا شوق ہی ترک کر دیا۔

جب میں پیدا ہوا تو مجھے تو بس اتنا ہی احساس تھا کہ میں ایک گھوڑا ہوں۔ مجھے اپنے چتکبرے ہونے کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ جب پہلی مرتبہ مجھے کسی نے چتکبرا کہہ کر پکارا تو مجھ سے زیادہ میری ماں کو یہ لفظ عجیب لگا۔

جہاں تک مجھے یاد ہے، میں رات کو پیدا ہوا تھا ۔ ساری رات میری ماں مجھے چاٹتی رہی۔ صبح ہوئی تو میں اپنے پاؤں پر کھڑا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اس صبح مجھے ہر چیز خواہ وہ کیسی ہی معمولی ہو، عجیب و غریب لگتی تھی۔ میرا اور میری ماں کا کمرا، اصطبل سے الگ تھلگ تھا۔ یہ ایک لمبے راستے کی طرف کھلتا تھا۔ یہ راستہ کمرے کے مقابلے میں کسی قدر گرم تھا۔ ہمارے کمرے کے چاروں طرف شیشے کی کھڑکیاں تھیں اور ان میں سے اصطبل میں موجود ہر ایک چیز دیکھی جا سکتی تھی۔

میری ماں مجھے دودھ پلانا چاہتی تھی۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ دودھ کیسے پیا جاتا ہے۔ میں اپنی ماں کے تھنوں تک اپنا منہ نہ لے جا سکتا تھا۔ میں کبھی اس کی پچھلی ٹانگوں میں گھس جاتا اور کبھی پیٹ پر منہ مارنے لگتا۔ اچانک میری ماں نے کھڑکی میں سے باہر دیکھا اور مجھے ایک طرف چھوڑ کر، الگ سی کھڑی ہوگئی۔ کھڑکی کے باہر ایک سائیس کھڑا تھا اور وہ مجھے اور میری ماں کو بڑے شوق اور خوشی سے دیکھ رہا تھا۔

’’ارے دیکھو، براق نے بچہ دیا ہے۔۔۔!!‘‘ سائیس نے بلند آواز میں کہا اور دروازہ کھول کر ہمارے پاس چلا آیا۔ اس نے بہت سی پرالی اپنے کندھوں پر اٹھا رکھی تھی۔ اس نے ہماری کوٹھڑی کو صاف کیا اور پرالی کی موٹی تہہ زمین پر بچھا دی ، ہمارے بیٹھنے اور لیٹنے کے لیے۔۔۔

’’ارے دیکھو، کیسا خوبصورت بچہ ہے۔۔۔ چتکبرا، اس کے جسم پر یہ بڑے بڑے نشان تو دیکھو۔۔۔!!‘‘ سائیس نے بڑے چاؤ سے کہا اور مجھے گلے سے لگا لیا۔ میں لڑکھڑاتا ہوا چلنے لگا مگر گر پڑا۔ ’’ارے دیکھو، یہ ننھا سا فرشتہ کیسے چل رہا ہے!‘‘ میری ماں چپ چاپ کھڑی، مجھے دیکھ رہی تھی۔ اس نے ایک قدم پیچھے کی طرف اٹھایا اور سرد آہ بھری۔ اصطبل کے دیگر ملازم اور سائیس مجھے دیکھنے کے لیے امڈ پڑے۔ انھوں نے اصطبل کے مالک کو بھی اطلاع دی۔

جو کوئی میرے جسم پر بنے بڑے بڑے نشان دیکھتا، ہنسنے لگتا۔ سب مجھے عجیب ناموں سے پکارنے لگے۔ میری ماں نے یہ نام پہلے کبھی نہ سُنے تھے۔ ہماری پوری نسل میں مجھ سے پہلے کوئی گھوڑا، میری طرح چتکبرا پیدا نہ ہوا تھا۔ کچھ لوگ میرے جسم کو دیکھ کر تعریف کرتے اور کہتے کہ میں ایک طاقتور اور خوبصورت گھوڑا بنوں گا۔ میری نسل کو مجھ پر فخر ہو گا۔ میرا مالک میری دوڑ پر عش عش کرے گا۔ یہ سب سننے کے بعد مجھے ایک چتکبرے ہونے پر کوئی شرم محسوس نہ ہوتی تھی۔

اس دن، دوپہر کے وقت اصطبل کا مالک آیا۔ وہ بادشاہ کی فوج میں جرنیل تھا۔ اس نے میرا رنگ اور جسم پر بڑے بڑے نشان دیکھ کر اپنا ماتھا پیٹ لیا۔ کہنے لگا:

’’معلوم نہیں، یہ بچہ کس پر گیا ہے؟ اس کی تو نسل میں ایسا گھوڑا کوئی نہ تھا۔۔۔ چلو، ایک آدھ نشان ہوتا تو کوئی بات نہ تھی، یہ تو مکمل طور پر چتکبرا ہے۔‘‘

میری ماں چپ چاپ کھڑی رہی۔ پھر ایک قدم اٹھایا اور میرے ساتھ لگ کر کھڑی ہوگئی۔ جرنیل نے اپنی بات جاری رکھی۔ دراصل، وہ سخت غصے میں تھا اور اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اپنا غصہ کس پر نکالے۔ شاید اسی لیے وہ بولتا جار ہا تھا:

’’معلوم نہیں، یہ کس پر گیا ہے۔۔۔ ویسے بھی یہ ایک عام سا گھوڑا لگ رہا ہے۔۔۔ اسے اصطبل سے نکالنا ہی ہوگا۔۔۔ یہ تو ہمارے لیے شرم والی بات ہوگی۔۔۔ ایسے ایسے کمال کے گھوڑے اور یہ ۔۔۔‘‘

سائیس جرنیل کی باتیں سن رہا تھا۔ وہ شاید جرنیل سے متفق نہ تھا۔ کہنے لگا:

’’جناب، اس کا ڈیل ڈول بھی تو دیکھیں۔۔۔ یہ بھلے چتکبرا ہے مگر اس میں وہ خصوصیات ہوں گی وہ بڑے بڑے گھوڑوں میں بھی ملنا مشکل ہیں۔۔۔ آپ کو یاد ہو گا، ہمارے ہمسایے نواب صاحب کے پاس ایک چتکبرا گھوڑا تھا۔ سب لوگ اسے بدصورت سمجھتے تھے مگر نواب نے کہا ان دھبوں میں بھی ایک حسن ہے۔ اس نے گھوڑے کی خوب خاطر کی اور پھر اسی گھوڑے نے سالانہ ریس میں اول انعام جیتا۔ یہ عام گھوڑوں سے مختلف ضرور ہے، مگر ایک خوبصورت بچھڑا ہے۔ عام طرز سے ہٹ کر جو چیز بھی مختلف ہو، عجیب اور مختلف تو ہوتی ہے مگر اس کی اپنی خصوصیات سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔۔۔‘‘

’’تم خواہ بخواہ تقریر نہ جھاڑو۔۔۔ اس کا کچھ کرنا ہی ہوگا‘‘ جرنیل نے غصے سے کہا۔

بہار آنے تک میں اور میری ماں باقی گھوڑوں سے الگ، اسی کوٹھڑی میں رہے، جہاں میں پیدا ہوا تھا۔ اس کے بعد ان بچھڑوں کو جو میری طرح گزری سردیوں میں پیدا ہوئے تھے کو چھوٹے چھوٹے کمروں میں، بڑے گھوڑوں سے الگ رکھا جانے لگا۔ جس دن سورج نکلتا، ہمیں ایک کھلی جگہ میں نکالا جاتا۔ ہمیں خشک بھوسہ کھانے کے لیے دیاجاتا۔ اسی جگہ پر مجھے پہلی مرتبہ اپنے نزدیکی اور دور کے رشتے داروں کے بارے میں معلوم ہوا۔ مجھے ان مشہور گھوڑیوں کے بارے میں پتہ چلا جو اپنے بچوں کے ہمراہ یہاں آتی تھیں۔ مجھے وہ زمانہ یاد ہے، جب مشہور زمانہ گھوڑے اور گھوڑیاں میرے ساتھ رہا کرتی تھیں۔ یہ بات تمھیں شاید عجیب لگے اور شاید تم اس پر یقین بھی نہ کرو کہ میں شروع سے ہی بڑا توانا اور تیز طرار تھا۔ ہاں ،یہ سچ ہے۔ رانی جواب بوڑھی ہو چکی ہے، میری طرح، اس وقت بڑی کھلنڈری مگر سب کی پیاری تھی۔ یہ مجھے اپنی جوانی سے جانتی ہے۔

میرے جسم پر بنے نشانات کے بارے میں انسان طرح طرح کی باتیں کرتے تھے۔ کچھ لو گ میری شرارتوں کو دیکھ کر، میرے بدن پر بنے نشانات کو بھول جاتے تھے۔ مگر ایک عجیب بات یہ تھی کہ گھوڑے میرے نشانات کی وجہ سے میری طرف مائل ہوتے تھے۔ وہ میرے ارد گرد اکٹھے ہو جاتے اور میری تعریفیں کرنے لگتے۔ اس طرح ان کی تعریفیں سن کر، انسانوں کی کہی ہوئی بُری باتیں میں بھول جاتا۔

میں ابھی چھوٹا ہی تھا کہ مجھے اپنی زندگی کا پہلا دُکھ جھیلنا پڑا۔ اس کی وجہ میری ماں تھی۔ میں قریباً سال بھر کا ہوں گا، یہ دوسری بہار تھی۔ برف پگھلنے لگی۔ چڑیاں کھلیانوں میں چہچہانے لگیں اور ہر طرف سبزے کی چادر نمودار ہونے لگی۔ انھی دنوں میری ماں نے میری طرف اپنا رویہ بدلنا شروع کر دیا۔

انھی دنوں میری ماں کی شخصیت میں بھی تبدیلی آنے لگی۔ پہلے وہ ہر کام بڑے سکون اور احتیاط سے کرتی تھی، اب وہ اصطبل سے باہر آتے ہی مجھے ایک طرف چھوڑ، کھلے میدان میں بھاگنا شروع کر دیتی۔ وہ مجھے نظر انداز کرنے لگی۔ مجھے یہ سب عجیب سا لگتا بلکہ اس کی شان کے خلاف محسوس ہوتا۔۔۔ مجھے لگتا جیسے وہ اب میری ماں ہی نہیں رہی۔ وہ بات بے بات ہنہناتی رہتی۔۔۔ اور بلاوجہ اپنی بہنوں اور دیگر رشتے داروں کو کاٹنا شروع کر دیتی ۔ وہ مجھے بھی ڈانٹتی رہتی اور دھکے دینے سے بھی نہ ٹلتی۔ اس کی کوشش ہوتی کہ میں اس سے دور ہی رہوں۔ جب وہ کھلے میدان میں چرنے کے لیے جاتی تو دوسرے گھوڑوں کی گردن پر اپنا سر رکھ کر مستیاں کرنے لگتی۔ ایک گھوڑا اس کی کمر سے اپنی کمر سہلاتا اور مجھے اس کے تھنوں سے دور رکھنے کے لیے دھکے دینے لگتا۔

ایک دن ایک سائیں میری ماں کے منہ میں لگام والے، اسے اصطبل سے باہر لے گیا۔ باہر نکلتے ہوئے وہ عجیب طریقے سے ہنہنائی۔ میں اس کے پیچھے بھاگنے لگا۔ اس نے میری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ سائیس نے مجھے ٹانگوں سے پکڑا اور میری ماں کے باہر نکلتے ہی، دروازہ بند کر دیا۔ میں گھاس پر مچلنے لگا۔ میں کمرے سے باہر جانا چاہتا تھا۔ مجھے اپنی ماں کے دور جاتے ہوئے ٹاپوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ میری ماں ایک مختلف انداز میں ہنہنائی۔ اس کا جواب ایک طاقتور ہنہنانے کی آواز میں آیا۔

میں کمرے میں قید، سوچنے لگا کہ شاید مجھے میرے جسم پر دھبوں کی وجہ سے ماں نے اپنے آپ سے الگ کر دیا ہے۔ مجھے اپنی ماں پر سخت غصہ آیا۔ مجھے احساس ہوا کہ دوسرے لوگ میرے بارے میں کچھ بھی کہہ لیں، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔ مگر، اگر میری ماں بھی مجھے انھی لوگوں کی طرح بدصورت سمجھنے لگے تو پھر تو کچھ بھی نہ بچا۔ مجھے سخت طیش آگیا۔ میں نے اپنے پاؤں اور سر کمرے کی دیواروں کے ساتھ پٹخنا شروع کر دیے۔ میں یہ سب اس وقت تک کرتا رہا جب تک کہ میں تھک نہ گیا اور میرا جسم پسینے سے شرابور نہ ہوگیا۔

کچھ دیر کے بعد میری ماں میرے پاس لوٹ آئی۔ میں نے اس کو دھیمی چال میں بھاگتے سنا۔ سائیس نے اس کے لیے دروازہ کھولا۔ وہ بڑی خوبصورت لگ رہی تھی۔ اس نے مجھے سونگھا، پھنکار اور دھیرے سے ہنہنائی۔ وہ بظاہر مجھ سے پیار کر رہی تھی مگر مجھے اس پیار میں وہ پہلے والی خوشبو محسوس نہ ہوئی۔ آہستہ آہستہ میرے اور میری ماں کے درمیان تعلقات سرد سے سرد تر ہوتے گئے۔

کچھ دنوں میں بہار اپنے جو بن پر آگئی۔ ہوا میں گرمی کی شدت بڑھنے لگی۔ ہمیں دوسرے گھوڑوں کے ساتھ چراگاہ میں کھلا چھوڑ دیا گیا۔ اگرچہ میرے دل پر ماں سے بچھڑنے کا بوجھ تھا مگر چراگاہ میں مجھے نئے نئے مزوں اور خوشیوں کے بارے میں معلوم ہوا۔ اس سے میرے دل پر اپنی ماں کی جدائی کا بوجھ کم ہو گیا۔ چراگاہ میں میرے ہم عمر بہت سے بچھڑے تھے۔ ان سب سے میری دوستی ہوگئی۔ ہم نے مل جل کر گھاس چرنا سیکھا۔ آہستہ آہستہ ہم بڑوں کی طرح ہنہنانے لگے۔ ہم اپنی دُمیں اٹھا کر اپنی ماؤں کے اردگرد بھاگتے اور کلیل کرتے رہتے۔ یہ بڑی خوشیوں والے دن تھے۔ میرے ساتھی مجھ سے پیار کرتے اور میری ہر بات کو بڑے دھیان سے دیکھا جاتا۔ مگر وہ دور زیادہ دیر نہ رہا۔

اس کے بعد ایک خوفناک واقعہ ہوا۔‘

روشن نے ٹھنڈی آہ بھری اور گھوڑوں سے جدا ہو کر اصطبل کی ایک طرف چلا گیا۔

6

دوسری رات:

جونہی گھوڑے چراگاہ سے واپس آئے، سب روشن کے ارد گرد جمع ہوگئے۔ روشن اپنی کہانی کو جاری رکھتے ہوئے کہنے لگا:

’اصطبل والوں نے کچھ مہینوں کے بعد مجھے، میری ماں سے الگ کر دیا۔ میں پہلے ہی ماں کے روکھے پن کا عادی ہو چکا تھا، اس لیے مجھے اس جدائی کا کوئی دھچکا نہ لگا۔ میں نے دیکھا، وہ دن بدن بھاری بھر کم ہوتی جارہی تھی۔ اس کے پیٹ میں میرا بھائی ہیرا تھا۔ وہی مشہور ہیرا، جس نے گھر دوڑ میں بڑا نام کمایا تھا۔ مجھے اپنے بھائی سے حسد نہ تھا۔۔۔ مگر میں اپنی ماں سے لاتعلقی سی محسوس کرنے لگا تھا۔ ان دنوں ہم بچھڑوں کو عام گھوڑوں سے الگ رکھتا جاتا تھا۔ ہم صبح کھلے میدان میں جاتے اور مل کر خوب شرارتیں کرتے۔ سب کو ان شرارتوں کا بڑا مزا آتا۔

ایک بچھڑا ، جس کا نام شاید قیس تھا، اس دَور میں ہر وقت میرے ساتھ رہتا تھا۔ یہ بڑا ہو کر شاہی محل میں چلا گیا۔ وہ شاہی بگھی کے آگے دوسرے گھوڑوں کے ساتھ جوتا جاتا تھا۔ اس کی بہت سی تصویریں اور مجسمے بھی بنے ہیں۔ وہ سفید رنگ کا خوبصورت گھوڑا تھا۔ اس کی پشم لمبی ، گردن ہنس کی طرح لمبی اور خوبصورت تھی۔ اس کی ٹانگیں پتلی مگر سڈول تھیں۔ وہ مزاج کا کھلنڈرا مگر بڑ ااچھا دوست تھا۔ وہ جب شراتوں پر اتر آتا تو گھوڑے تو کیا ، انسان بھی اس سے بچ نہ سکتے تھے۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ سب لوگ اسے، اس کی خوبصورتی کی وجہ سے پیار کرتے تھے۔ اس کی شرارتوں کو محض ہنس کر ٹال دیتے تھے۔ مجھے کبھی کبھار اس پر بڑا رشک آتا اور میرا دل چاہتا کہ میں اس سے خواہ مخواہ لڑپڑوں۔ مگر میں اپنے آپ کو سمجھاتا کہ آخر تو وہ میرا ہی پکا دوست ہے اور مجھ سے کس قدر پیار کرتا ہے۔ اس نے کبھی میرے جسم پر پڑے داغوں کا ذکر نہ کیا تھا۔ جب بھی وہ میرے پاس آتا، میرے جسم کو سہلاتا۔ ایک دفعہ کسی گھوڑے نے مجھے چتکبرا سمجھتے ہوئے، یعنی مجھے کم تر سمجھتے ہوئے پھنکارا تو قیس اس کے گلے پڑ گیا۔ قیس کے ساتھ میری دوستی کسی دباؤ یا غرض سے قطع نظر صرف اور صرف پیار پر مبنی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جوان ہونے تک ہماری دوستیاں قائم رہیں۔ اب بھی دوستی برقرار ہے۔ میں اسے اس بڑھاپے میں بھی یاد کرتا ہوں تو دل میں طاقت سی آجاتی ہے۔ میں ہی نہیں، اس وقت ہمارے ساتھ رہنے والے تمام گھوڑے اور گھوڑیاں قیس کو پسند کرتے تھے۔ ایک دفعہ اسے ایک گھوڑی سے پیار ہو گیا۔ ان دنوں وہ ہم سے کھچا کھچارہنے لگا۔ وہ شرارتوں پر بھی کم دھیان دینے لگا۔ وہ چپ چاپ کھڑا، اپنی گردن اوپر نیچے ہلاتا رہتا اور ساتھ ساتھ دم بھی پنکھے کی طرح جھلاتا رہتا۔ وہ گھنٹوں اسی طرح کھڑا رہتا۔ ہم سب دوستوں کو شروع میں اس کے دل کی صورتحال کا اندازہ نہ ہوا۔ ہم سمجھتے رہے کہ شاید اس کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ بعد میں اس کی چوری، اس وقت پکڑی گئی جب وہ چوری چوری، اس گھوڑی کو دیکھتا اور آنکھیں چرا لیتا۔ اس کی آنکھوں میں نمی آجاتی۔ وہ گھبرا سا جاتا۔ ہم سب دوستوں نے مل کر قیس کی اس صورتحال کے بارے میں بات چیت کی، مگر کسی کو پیار والی بات کا پتہ ہی نہ تھا۔ ہم بے وقوف یہ سمجھتے رہے کہ شاید اس گھوڑی نے اسے تنگ کیا ہے اور وہ اس سے ناراض اور روٹھ گیا ہے۔ جب قیس کی یہ صورتحال کئی دن تک نہ بدلی بلکہ وہ کمزور سا لگنے لگا تو ہم ایک بزرگ گھوڑے کے پاس گئے اور اس سے قیس کی تمام صورتحال بیان کی۔ بزرگ گھوڑا زور زور سے ہنسنے لگا اور کہنے لگا:

’’اوئے بے وقوف ، قیس کو پیار ہو گیا ہے۔۔۔!‘‘

’’یہ کیا ہوتا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

بزرگ نے جواب دیا:

’’۔۔۔ یہ میں سمجھا نہیں سکتا۔۔۔ جب تمھیں پیار ہو گا تو تم خود بخود سمجھ جاؤ گے۔۔۔!!‘‘

میں سارا دن سوچتا رہتا کہ آخر یہ کونسی الجھن ہے جس کوبول کر سمجھانا مشکل ہے۔۔۔ کچھ دنوں کے بعد میری حالت بھی قیس والی ہوگئی۔ قیس تو چپ چاپ ایک جگہ کھڑا رہتا تھا اور اپنے آپ میں کھویا رہتا تھا۔۔۔ میں نہ صرف اپنے آپ میں کھویا رہتا، ٹھنڈی آہیں بھرتا اور کوئی بھی ساتھی گھوڑا، سوائے ایک گھوڑی کے اچھا نہ لگتا تھا۔ ہم جوان بچھڑوں میں ایک چھوٹے قد والا بڑا ہی شیطان گھوڑا تھا۔ اس نے جب میری یہ حالت دیکھی تو مجھے تنگ کرنے لگا۔ مجھے اس پر سخت غصہ آیا۔ وہ مجھے اور تنگ کرتا اور کہتا، ’’اب بتاؤ، سمجھ میں کچھ آیا کہ پیار کیا ہوتا ہے۔۔۔؟‘‘ اس دن سے میں اپنے اندر ایک انجانی سی تبدیلی محسوس کرنے اور مجھے، اسے نام دینے کا پتہ چلا۔ یہ ایک گھوڑی تھی جو مجھ سے ایک سال بڑی تھی۔ حیران کن بات یہ تھی کہ وہ جب بھی میرے سامنے آتی تو آنکھیں نیچے کیے، ایک پاؤں سے ہولے ہولے زمین کھودنا شروع کر دیتی۔۔۔ اسے بھی مجھ سے پیار ہو گیا تھا۔ میرے پیار کی کہانی خاصی درد ناک ہے، اور میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔۔۔ اتنی بات ضرور ہے کہ اس کے بعد مجھے احساس کروایا گیا کہ میری کوئی اولاد نہ ہو گی کیونکہ میرا بچہ بھی میرے جیسا چتکبرا ہو سکتا تھا۔ایک رات اصطبل کے ملازموں نے مجھے ایک الگ کمرے میں بند کرکے میری خوب پٹائی کی۔ میں ساری رات زخموں سے کراہتا رہا۔اگلی صبح میرے کمرے کے باہر کافی شور شرابا ہو رہا تھا۔ جرنیل اور اصطبل کے سارے سائیس اور ملازم وہاں کھڑے تھے۔ جرنیل ان کو ڈانٹ رہا تھا:

’’جب میں نے تمھیں منع کیا تھا تو تم نے اسے باقی گھوڑوں کے ساتھ کیوں چھوڑا؟‘‘

’’میں نے ان سب کو کہا تھا۔۔۔ شاید کسی ملازم سے چُوک ہوگئی۔۔۔ آپ ان سے پوچھ لیں۔۔۔‘‘ بڑے سائیس نے کہا۔ اس دن جرنیل کافی غصے میں تھا اس نے بڑے سائیس سے بہت سی باتیں کیں۔ مجھے ان باتوں کی سمجھ تونہ آئی البتہ مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ لوگ میرے بارے میں کوئی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

اس دن کے بعد میں نے ہمیشہ کے لیے ہنہنانا ترک کر دیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں اس قدر بدصورت اور ناپسندیدہ ہوں کہ یہ لوگ میری نسل بڑھانے کے فطری حق کو بھی مجھ سے چھین رہے ہیں۔ اس کے بعد مجھے اچھے، بُرے کا احساس اور سب سے بڑھ کر کسی خواہش کی بھی طلب نہ رہی۔۔۔ اب مجھے کسی کی پرواہ بھی نہ تھی۔ میں نہ صرف یہ کہ اپنے آپ سے بلکہ ارد گرد بستے گھوڑوں اور انسانوں سے بھی لاتعلق ہو گیا۔ میں زیادہ وقت سب سے الگ تھلگ کسی کونے میں بیٹھ کر، اپنے آپ سے باتیں کرنے میں گزارنے لگا۔ میں نے کھانا پینا اور یہاں تک کہ دوستوں کے ساتھ چلنا پھرنا بھی ختم کر دیا۔ کبھی کبھار میرے دل میں اک لہر سی اٹھتی کہ میں عام گھوڑوں کی طرح بھاگوں، دولتیاں ماروں، ہنہناؤں۔۔۔ مگر یہ لہر اتنی کمزور ہوتی کہ اٹھتے ہی ختم ہوجاتی۔ میں سوچتا، آخر یہ سب کس کے لیے؟۔۔۔ میرے اندر زندہ رہنے کی خواہش ہی ختم ہوگئی تھی۔

ایک شام، جب گھوڑے اصطبل میں لو ٹ رہے تھے، میں اصطبل کے سامنے ایک گول میدان میں دوڑنے کی ورزش کررہا تھا۔ میں نے گردو غبار میں اپنی پیاری گھوڑی کو آتے دیکھا۔ مجھ میں بھاگنے کی ہمت ختم ہوگئی۔ میں بدحواس سا ہو گیا۔ میرے حواس اس وقت لوٹ آئے جب ایک زور دار چابک میری گردن پر پڑا اور اس نے میری کھال ادھیڑ دی۔ میں اس کے باوجود اپنی پیاری گھوڑی کو دیکھتا رہا۔ میں سوچ رہا تھا کہ آخر پیار کرنا میرا حق ہے۔۔۔مجھے اس سے کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔ ایسے میں مَیں گھوڑی کو بلانے کے لیے ہنہنایا۔ کسی گھوڑے یا گھوڑی نے میری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ وہ گھوڑی بھی گردن جھکائے ، چپ چاپ میرے قریب سے گزر گئی۔

یہ سخت اذیت ناک دور تھا۔ مجھے اپنے ابتدائی مہینوں میں ہی احساس ہو گیا تھا کہ انسان مجھے پسند نہیں کرتے۔ الہڑپنے میں جو گھوڑے اور گھوڑیاں میرے ساتھ پلے بڑھے، ان میں نفرت کی ایسی بات نہ تھی۔ اس دن جب وہ میرے پاس سے انجانوں کی طرح گزرے تو مجھے احساس ہوا کہ یہ بے چارے کیا کریں۔۔۔ آخر تو یہ انسانوں کے غلام ٹھہرے۔۔۔ انھیں انسان جو کرنے کا کہیں گے ، وہ ویسا ہی کریں گے۔ اس کے بعد یہ با ت بھی طے ہوگئی کہ انسان سے زیادہ خودغرض اس دنیا میں کوئی نہیں۔ میرا ماں سے بچھڑنا، مجھے پیار کرنے اور شادی سے روکنے میں ساری غرض مندیاں اسی انسان کی تھیں، جو ہمارا مالک تھا۔ اس نے اپنی غرض کے لیے، میرے فطری حقوق چھین لیے۔۔۔ آخر میرے چتکبرے ہونے میں میرا کیا قصور تھا؟ مجھے ان تمام باتوں سے سخت اذیت اور بے قراری ہوتی۔ میں ان معاملات کو پوری طرح سمجھ تو نہ سکتا تھا، البتہ مجھے اتنا اندازہ ضرور ہو گیا کہ یہ سب میرے بدن پر بنے داغوں کی وجہ سے ہے۔۔۔

یہ سردیوں کا واقعہ ہے۔ مجھے سارا دن نہ کھانے کے لیے کچھ دیا گیا اور نہ پینے کے لیے پانی۔ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ جس شخص کے ذمے یہ سب کام تھے وہ سارا دن نشے میں لیٹا رہتا تھا۔ شام کے وقت اصطبل کا بڑا سائیس آیا۔ اس نے دیکھا کہ میرے سامنے کھانے کی کوئی چیز نہیں۔ وہ بڑبڑاتا ہوا ایک طرف چلا گیا۔

تھوڑی دیر کے بعد ملازم، سائیس کے ساتھ میرے کمرے میں داخل ہوا۔ اس کارنگ زردی مائل اور چہرہ اترا اترا سا لگ رہا تھا۔ اس کے چہرے سے بے چارگی ٹپکتی تھی اور اسے دیکھتے ہی دل میں ترس اور رحم کے جذبات پیدا ہو جاتے تھے۔ سائیس تو کمرے سے نکل گیا۔ ملازم نے بڑے غصے میں میرے سامنے خشک چارہ ڈالا۔ میں نے ایسے ہی، شرارت میں اپنا منہ اس کے کندھے کے ساتھ لگایا۔ اس بدبخت نے زناٹے کا گھونسہ میرے ناک پر دے مارا۔ میں نے فوراً اپنا منہ پیچھے ہٹا لیا۔ اس نے گھونسے پر ہی صبر نہ کیا، میرے پیٹ پر دو تین لاتیں جما دیں۔ وہ مجھے لاتیں ماررہا تھا اور ساتھ ہی کہہ رہا تھا:

’’اب بتاؤ، اب مزا آیا۔۔۔ یہ سب تمھاری وجہ سے ہی ہوا۔۔۔ اچھا ہوا کہ تمھیں نواب کے حوالے کر دیا گیا ہے۔۔۔ ہماری جان تو چھوٹی۔۔۔ بدصور ت گھوڑے سے۔۔۔!!‘‘

ملازم نے چارہ ڈال کر کمرے سے لید نکالنے کا کام شروع کر دیا۔وہ مسلسل بولتا جارہا تھا۔

’’اگر کھانا نہیں دیا تو کیا ہو گیا۔۔۔ ظالم نے کوڑے مار مار کر میری کھلڑی ادھیڑ دی۔۔۔‘‘

ہاں، اسی دور میں مجھے انسانوں کے بارے میں ایک عجیب مگر فضول سی بات کا پتہ چلا۔ تمھیں تو معلوم ہے کہ ہم گھوڑے کسی چیز کو ’’اپنی‘‘ یا ’’میری‘‘ نہیں کہتے۔ ہمیں تو کھانے یااس چیز کو استعمال کرنے سے غرض ہوتی ہے۔ ہم کسی چیز کو محض اپنے ساتھ رکھ کر خوش ہوتے ہیں اور نہ ہی اسے صرف اپنے پاس ’’رکھنے‘‘ کی وجہ سے اتراتے ہیں۔ انسانوں میں یہ عجیب سی عادت ہے۔ وہ صرف اس چیز کے بارے میں بات کرتے اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں، جس کو وہ ’’اپنا‘‘ یا ’’میرا‘‘ کہنے کا حق رکھتے ہوں۔ مثلاً یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ فلاں گھر ’’میرا‘‘ ہے۔ حالانکہ وہ اس گھر میں نہیں رہتے۔ اس گھر میں رہتا کوئی اور ہے۔ جو شخص گھر کو ’’اپنا‘‘ کہتا ہے، وہ اس گھر کی دیکھ بھال کرتا ہے اور چند روپے لے لیتا ہے۔ ایک اور بات یہ کہ انسانوں میں سب سے زیادہ طاقتور خواہش، قبضہ کرنے کی ہے۔ مثال کے طور پر اگر باغ میں ایک خوبصورت پھول کھلا ہے۔ اس نے دیکھا، اسے اچھالگا۔۔۔ وہ کوشش کرے گا کہ اسے توڑ کر اپنے پاس رکھ لے۔ اس پر قبضہ کرلے۔ یعنی یہ کہ اس کی خوشی اس وقت تک ادھوری رہے گی، جب تک وہ اس پر قبضہ نہ کر لے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ انسان میں، دیگر تمام خصوصیات کا کچھ مطلب نہیں۔۔۔ سوائے اس کے کہ وہ قبضہ کرنے والی خواہش کا غلام ہے۔ یعنی یہ کہ وہ زندگی کا لطف نہیں اٹھاتا صرف زندگی سے متعلق چیزوں پر قبضہ جمانا چاہتا ہے۔ہمارے لیے اصل بات وہ ہے ،جو ہم کرتے ہیں۔ انسانوں میں اصل بات وہ ہے جو وہ بولتے ہیں اور بولنے میں سب سے زیادہ خوشی انہیں ’’میرا‘‘ ، ’’اپنی‘‘ کے الفاظ بول کر ہوتی ہے۔

مجھے بڑی دیر کے بعد سمجھ آئی کہ جرنیل کیونکر اصطبل کے ملازم کو کوڑے لگوا سکتا تھا۔۔۔ اس لیے کہ وہ کہہ سکتا ہے کہ ’’اصطبل میرا‘‘ ہے۔ مجھے یہ بات بہت حیران کن لگتی ہے کہ کوئی شخص محض اس لیے دوسرے پر زیادتی کرے کہ وہ اس کی ملکیت کی جگہ پر کام کرتا ہے۔

میری ماں کی سرد مہری، انسانوں کا میرے جسم پر دھبوں کی وجہ سے مجھے بدصورت سمجھنا اور میری اصلی خصوصیات کی پرورش میں رکاوٹ ڈالنا، وہ دکھ بھری باتیں تھیں، جن کے باعث میں سوچنے کا عادی ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ میں بہت کم بولتا ہوں۔ اگر میں کہوں کہ میری بدقسمتی انھی تین باتوں میں چھپی ہے تو یہ سچ کے علاوہ کچھ نہ ہوگا۔۔۔ ایک یہ کہ میں چتکبرا ہوں، دوسری یہ کہ میں اپنی نسل کو آگے نہیں بڑھا سکتا اور تیسری یہ کہ مجھ میں عام گھوڑوں سے کہیں زیادہ صلاحیتیں تھیں۔ محض میرے چتکبرا ہونے کے باعث ان پر دھیان نہ دیا گیا۔ اس طرح میری زندگی ادھوری ہی گزر گئی۔ میں بہت کچھ کر سکتا تھا مگر مجھے ایسا کرنے کی آزادی ہی نہ ملی۔

ان بدقسمتیوں کے باعث میری زندگی میں بڑی بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔ ایک یہ کہ مجھے دوسرے گھوڑوں سے الگ رکھا گیا۔ وقت سے پہلے مجھے کام پر لگا دیا گیا۔ مجھے یاد ہے جب پہلے دن بڑے سائیس نے میرے جسم پر کاٹھی رکھی تھی۔ اس نے مجھ پر اپنا حق جتانے کے لیے کاٹھی خود اپنے ہاتھ سے میری کمر پر رکھی۔ اس نے مجھے رسوں میں جکڑ دیا تاکہ میں کسی قسم کی مزاحمت نہ کروں۔ حالانکہ میرا خیال اس سے مختلف تھا۔۔۔ میں تو کام کرنا چاہتا تھا۔ کام کرنا مجھے ویسے بھی اچھا لگتا تھا۔ سائیس کو اس بات کی بڑی حیرانی ہوئی جب میں نے اس کے ساتھ تجربہ کار گھوڑوں جیسا تعاون کیا۔ انھوں نے مجھے دُلمی چال میں بھاگنے کی مشق کروانا شروع کر دی۔ وہ مجھے ایک دائرے میں چکر لگواتے۔ میری چال میں چند دنوں میں ہی بہتری آگئی۔ تین مہینوں کے بعد جرنیل مجھے دیکھنے کے لیے اصطبل میں آیا۔ اس نے میری چال کی بڑی تعریف کی۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ وہ میری چال میں بہت زیادہ مین میخ نکال رہا تھا۔ شاید، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مجھے اپنا نہیں سمجھتا تھا۔

میر ی عمر کے دیگر بچھڑوں کی دوڑ کو بہتر سے بہترین بنانے کے لیے ان کا ریکارڈ رکھا جاتا تھا۔ ان کی کمر پر خوبصورت پوشاکیں ڈالی جاتی تھیں۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ اسی عمر میں نوابوں اور بادشاہوں سے منسوب ہوچکے تھے۔ مجھے اصطبل کے ملازم بڑے سائیس کا گھوڑا سمجھا جاتا تھا اور اس کا نوابوں یا بادشاہوں سے کیامقابلہ ہو سکتا تھا۔ اسی لیے میرے ساتھ سلوک نہایت حقارت اور کمتری والا ہوتا تھا۔

اگر زندگی رہی تو میں کل تمھیں بتاؤں گا کہ سائیس کے ساتھ میری نسبت سے ، میری زندگی میں کیا کچھ ہوا۔

اگلے دن جب گھوڑے دریا کے ساتھ کھلے میدان میں گھاس چر رہے تھے، سب کا رویہ روشن سے بہت اچھا تھا۔ عالم بدستور، روشن سے بدتمیزی کرتا رہا۔ دریا کے اس پار کسان کا گھوڑا، اس دن بھی مستی کرتا رہا۔ وہ بار بار ہنہناتا اور گھوڑوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments