ضلع نگر میں‌متعدد ترقیاتی منصوبے دس سالوں‌سے تعطل کا شکار

نگر (نمائندہ نگر )نگر میں اربوں کے منصوبے دس دس سالوں سے التوا کا شکار،نگر خاص میں ۱۱ کروڈ ،سکندر آباد میں دس کروڈ کے آبی منصوبے،جبکہ نگر حلقہ ون اور ٹو میں سڑکوں،اور دیگر مھکمہ جاتی منصوبے اربوں کی لاگھت کے کئی کئی سالوں سے مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا جبکہ قراقرم ہائی وے تا چھلت بر تک سڑک کا ٹینڈر ہوئے بھی کئی سال لگ گئے لیکن نا معلوم وجوہات کی بنا پر ٹےئنڈر دہندہ کو کام کرنے نہیں دیا جا رہا ہے ۔پھکر روڑ کا ٹینڈر نہیں ہو پا رہا ،سابق وزیر خزانہ محمد علی اختر کے دور کا تیس ۳۰ کلومیٹر سڑک بھی مکمل نہیں ہو رہا جو حلقہ ۴ نگر میں چند ٹھکداروں اور محکمے کے لوگوں کا نزر ہوچکا ہے ان دنوں بھی تیس کلومیٹر کی لاگھت ایک ارب سے تجاوز کرتا ہے جو عوام کے حقوق پر کھلم کھلا ڈاکہ ہے سابقہ ادوار میں نگر کے نام پر چند ٹھکداران نے ڈیزاسٹر کے مد میں کروڈوں ڈھکار گئے ہیں جو ہنوز جاری ہے محکمہ جنگلات نگر میں سابقہ ادوار میں بھی مبینہ طور پر چھے کروڑ کے گھپلوں کا انکشاف ہوا ہے جس کی تحقیقات اب نیب کے پاس ہے ۔نگر کے سماجی و،عوامی اور مزہبی تنظیمات نے نیب ادارے سے ان تمام کی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان بے قائدگیوں میں شامل آفیسران ،ٹھکداران اور دیگر ملوث افراد کا نجام سونیکوٹ جیل ہونا چاہئے بصورت دیگر عوام خود نیب کے پاس درخواستیں لئے دھرنوں پر مجبور ہوگی ۔یا عدالت سے سوموٹو ایکشن کے لئے کمر کس لینگے ۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments