شرپسند عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے، ہم تعلیمی اور سماجی ترقی چاہتے ہیں، عمائدین دیامر

چلاس (ڈسٹرکٹ رپورٹر ) گزشتہ شب ضلع دیامر کے مختلف سکولوں میں ہونے والے دھماکوں کے بعد سرکٹ ہاؤس چلاس میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں صوبائی وزرا حاجی جانباز خان ، حاجی حیدر خان ، عمران وکیل ، انسپکٹر جنرل آف پولیس ثناءاللہ عباسی ، سیکرٹری داخلہ جواد اکرم قانون نافذ کرنے والوں اداروں کے حکام سمیت علمائے کرام و عمائدین دیامر نے شرکت کی ۔اجلاس میں علمائے کرام و عمائدین دیامر نے متفقہ طور پر کہا ہے کہ شر پسند عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے ہمارا ان شرپسندوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ہم ترقی چاہتے ہیں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ دیامر کے ننانوے فیصد لوگ امن پسند اور مثبت سوچ کے حامل ہیں ۔حکومت شرپسندوں کو گرفتار کرکے کے سرعام پھانسی پر لٹکائے ۔ اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے معروف عالم دین مفتی عبدالصادق نے کہا کہ ضلع دیامر کے 99 فیصد لوگ محب وطن پاکستانی ہیں ۔ایک فیصد سے بھی کم شرپسند ہو نگے ۔ہم پاکستان کی ترقی چاہتے ہیں ۔دیامر بھاشہ ڈیم کیلئے ضلع دیامر کے عوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں ۔ہم حکومت اور سیکورٹی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔لیکن کسی بیگناہ کو تنگ نہ کیا جائے ۔سابق ممبر قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان حاجی امیر جان نے کہا کہ حالیہ واقعہ میں غیرملکی طاقتیں ملوث ہیں جو سی پیک ، دیامر بھاشا ڈیم اور داسو ڈیم کو ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کسی بین الاقوامی سازشوں کا حصہ نہیں بنے گے ۔ واقع کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے ۔نمبردار جمشید نے کہا کہ جو بھی اس واقعہ میں ملوث ہیں انہیں چوک میں لٹکایا جائے ہم مکمل تعاون کریں گے سابق وائس چیئرمین ضلع کونسل دیامر آفریدی نے کہا کہ جو بھی فرد یا افراد ملوث ہیں ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے لیکن معصوم اور بے گناہ لوگوں کو ہرگز تنگ نہ کیا جائے اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے نمبردار رحمت نے کہا کہ دیامر کوافغانستان بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ہم پاکستان پر مر مٹنے کیلئے تیار ہیں بس یہی کہیں گے کہ مظلوم اور بے گناہوں کو تنگ نہ کیا جائے اس موقع پر علمائے کرام اور عمائدین دیامر نے اعلیٰ حکام سے علاقائی سطح پر جرگے کیلئے دو دن کا وقت مانگ لیا ۔قبل ازیں انسپکٹر جنرل آف پولیس گلگت بلتستان ثناءاللہ عباسی اور سیکرٹری داخلہ جواد اکرم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم اہلیان دیامر سے امید رکھتے ہیں کہ وہ حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے اس سے قبل اہلیان دیامر نے جو تعاون کیا ہے وہ قابل تعریف ہے انہوں نے کہا کہ ایس سی او انجینئرز کے اغواء کے دوران دیامر کے علمائے کرام اور عمائدین نے تاریخی کردار ادا کیا اوراب یہی امید رکھتے ہیں ۔۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments