ثمینہ کا سوال :  بتا دو کیا بگاڑا تھا؟

یہ قسمت کی سیاہی تھی یا دھواں کے کالے بادل تھے

داریل تانگیر پر چھائے عجب خوفناک بادل تھے

ہوا کی لمس سے اک درد سا محسوس ہوتا تھا

خزاں آئی نہ تھی یارو    ،  اگست آغاز کے دن تھے

نگاہوں کے ستارے یہ نظارے سہہ نہ پاتے تھے

تمناوں کی ندیاں اشک بن کر بہتے چلتے تھے

جو پہلا لفظ  جبیں کے  کا نپتے ہونٹوں پہ آتا تھا

“میری درس گاہ!

ارے یہ تو میری درس گاہ جو خاکستر ہوئی یارو”

اُسی لمحے کوئی کوئل بڑے ہی د  رد سے کو کی

“روزینہ !میری کاپی جل گئی ہو گی ،قلم بھی جل گیا ہو گا

اُسی لمحے نبیلہ نے بڑے دکھ سے فلک کی سمت دیکھا تھا

“میں بستہ اور کتابیں بھی یہی پہ چھوڑ جاتی تھی

مجھے بستے کے ہمراہ دیکھ کر وہ چاچو گھور لیتے تھے

مجھے چاچو کی نظروں سے عجب سا خوف آتا تھا

میرا بستہ ، میرا پنسل،  ابھی سب راکھ ہیں یارو

یہ میرا ڈسک تھا یارو جہاں پہ راکھ ہے اب تو”

ثمینہ اب تلک غم سے نڈھال خاموش  بیٹھی تھی

نظر آسمان پر گاڑے خدا سے پوچھنے بیٹھی

“خدا یا کیوں کیا ایسا!

میری درس گاہ میری ماں کی  جیسی تھی

کسی کا کیا بگاڑا تھا ؟

بتا دو کیا بگاڑا تھا؟”

درندوں ،بھیڑوں کو پال کر آزاد رکھنا تم

کبھی تم گوشت ڈالنا اور کبھی ریوڈ کھلانا تم

ہمارے کچے گھروندں     پہ پکی فصیل  کا کہنا

ہمیں خاروں میں لپٹا کر ہمارا بادشاہ بننا

(تاج  النسا  ء      گلگت)

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments