عبدالسلام نازؔ کا ’’ایک متنازعہ افسانہ‘‘

فکرونظر: عبدالکریم کریمیؔ

میرے جگری دوست عبدالسلام نازؔ کی تازہ تخلیق اُن کی دسویں کتاب ’’ایک متنازعہ افسانہ‘‘ کی اعزازی کاپی برائے تبصرہ اُن کے ہاتھ سے لکھے ہوئے محبت نامے کے ساتھ کافی پہلے موصول ہوئی تھی۔ لیکن اپنی مصروفیت اور بے جا مصروفیت کی وجہ سے تبصرے میں تاخیر ہوئی۔ جس کے لیے معذرت۔ میں سوچ کے حیران ہوں کہ اِس مشینی دور نے اِنسان کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔ مادیت پرستی نے اِنسان کو اِتنا مصروف کر دیا کہ وہ ’’اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے‘‘ کے مصداق زندگی کی بے بہا خوبصورتیوں سے محروم بس اِنسان نہیں اِس مشینی دَور میں ایک روبوٹ محسوس ہوتا ہے۔ پھر زندگی کی رعنائیاں یکے بعد دیگرے دھیرے دھیرے اُس کی زندگی سے منہا ہوجاتی ہیں اور اُس کو اپنے آپ سے، اپنی زندگی سے اور حتیٰ کہ فطرت سے اور فطرت کی رنگینیوں سے شکایت رہتی ہے۔ پھر اُس کو بقولِ خواجہ میر دردؔ یہ کہنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی کہ ؂

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے

ہم تو اِس جینے کے ہاتھوں مر چلے

کہتے ہیں وقت نہیں رُکتا، کہیں نہ کہیں ہم رُک جاتے ہیں۔ اپنی لائبریری میں یا اپنے دفتر میں سامنے میز پر دھری کتابیں اور کاغذات میں کھو کر یا کسی چھت پر لیٹے تارے گنتے ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب لمحے ہمیں قید کر لیتے ہیں۔ کوئی چائے کی پیالی ایسی ہوتی ہے کہ جس کا ذائقہ زبان کبھی نہیں بھول پاتی۔ کوئی سرگوشی، کوئی مسکراہٹ، کوئی مہک، کوئی قہقہ، کوئی آنسو، کوئی سناٹا، تمام عمر کے لیے زندگی پر حاوی ہو جاتا ہے۔ اور ہم اس کو مصروفیت کا نام دیتے ہیں جبھی تو ہم تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور زندگی مسکراتی ہوئی پاس سے گزر جاتی ہے۔ یا بقول مستنصر حسین تارڑؔ ’’وقت نہیں گزرتا وہ وہی رہ جاتا ہے شاید ہم گزر جاتے ہیں۔‘‘ خواجہ میر دردؔ ایک دفعہ پھر یہ کہتے ہوئے ہمیں یاد آجاتے ہیں ؂

شمع کی مانند ہم اِس بزم میں

چشم نم آئے تھے دامن تر چلے

بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ بات ہورہی تھی میرے دوست عبدالسلام نازؔ کی نئی کتاب کی۔ یہ کتاب نازؔ صاحب کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔ جن پر بات کرنے سے پہلے ذرا ٹائٹل اور اِنتساب پر بات ہوجائے۔ جہاں کتاب کا ٹائٹل ایک مقناطیسی کشش رکھتا ہے وہاں کتاب کا اِنتساب اپنے اندر اُداسی اور ناکام محبت کی ایک کھسک لیے نوحہ کناں ہے۔ اِنتساب ذرا ملاحظہ فرمائیے گا۔ عبدالسلام نازؔ لکھتے ہیں:

’’وادیِ کشمیر کی ایک سانولی مگر پُرکشش لڑکی شگفتہ کے نام۔ شاید ہم ایک دوسرے لیے نہیں بنے تھے۔‘‘

نہ جانے کیوں یہ اِنتساب پڑھ کے مجھے اِس شگفتہ نام پہ غصہ آیا کہ یہ کم بخت لڑکی یہاں بھی آٹپکی۔ نازؔ صاحب کی ہمت کو داد کہ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں اپنی محبت کا نام لینے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ جب چند سال پہلے میری ایک کتاب ’’تیری یادیں‘‘ (شعری مجموعہ) شائع ہوئی تھی۔ جس کا اِنتساب میں نے اِشارتاً اُن اوّلین جمیلہ کاوشوں، عظمیٰ اِردوں اور شگفتہ یادوں کے نام کیا تھا تو ادبی حلقوں میں ایک عرصے تک یہ اِنتساب زیر بحث رہا کہ مصنف نے تو حد کر دی کہ تین تین لڑکیوں کا نام لکھا۔ حالانکہ اِنتساب میں لڑکی کہہ کر نام نہیں لیا گیا تھا۔ عبدالسلام نازؔ نے ہی میری کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا:

’’اگر آپ کو کریمیؔ صاحب کے اشعار میں اِن قلبی وارداتوں کا ذکر واضح طور پر نظر نہیں آتا تو آپ کتاب کے اِنتساب پر ذرا بنظر غائر نگاہ ڈالیں اور ذہن پر زور دیں تو دِل کی گہرائیوں سے نکلے اور خون کی روشنائی سے لکھے گئے یہ الفاظ…… ’’اُن اوّلین جمیلہ کاوشوں، عظمیٰ اِرادوں اور شگفتہ یادوں کے نام۔‘‘ یہ اندازہ حقیقت میں بدل دیتے ہیں کہ ’’جمیلہ، عظمیٰ اور شگفتہ……‘‘ تین اہم کردار ہیں جنہوں نے کریمیؔ کے دِل میں داخل ہوکر اُنہیں ایک نئے جہاں سے روشناس کرادیا۔ لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جنہیں محبت راس نہیں آتی یا اُن سے ہمیشہ روٹھی رہتی ہے۔ میر تقی میر کا مألہ یہ تھا کہ وہاں یک طرفہ محبت تھی، جس کا خمیازہ انہیں ناکامی کی صورت میں بھگتا پڑا۔ لیکن کریمیؔ دو طرفہ محبت کے حصار میں قید تھے پھر بھی حالات سازگار نہیں تھے۔ ‘‘

میرے دوست امیر جان حقانیؔ نے تو حد کر دی۔ اپنے کالم میں لکھا:

’’کریمیؔ صاحب سے دست بستہ اِلتماس ہے کہ اِس قصۂ غم کو ترک کر دے کیونکہ اب تو جنابِ کریمیؔ خالدہ وفاؤں کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور سوسن پریوں کے وصال میں خونِ جگر پیتے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ اُن کی نئی آنے والی کسی کتاب کا اِنتساب کچھ یوں ہو:

’’اُن اوّلین جمیلہ کاوشوں، عظمیٰ اِرادوں، شگفتہ یادوں اور آخرین خالدہ وفاؤں اور سوسن وصالوں کے نام۔‘‘

بقول حضرت حقانیؔ عفی عنہ جمیلہ سے خالدہ تک حسینائیں تو اِنتسابوں کی زینت رہیں وصال سوسن سے ہوا۔ اب اِس حضرت کو میں پیشگوئی میں پیر نا مانوں تو کیا مانوں۔ آخر بہت قریبی دوست بھی عذاب ہوتے ہیں کہ ان کم بختوں کو سب کچھ پتہ ہوتا ہے۔

اُف پھر بات کہیں اور نکل گئی۔ بات ہو رہی تھی نازؔ صاحب کے ’’ایک متنازعہ افسانہ‘‘ کی۔ نازؔ صاحب کے اِس افسانوی مجموعے میں کل سات افسانے شامل ہیں۔ ’’فضائی حسینائیں‘‘ پہلا افسانہ ہے۔ افسانے کا پلاٹ لاجواب ہے۔ جہاں افسانے کے کردار تنزیل، گل رُخ، مریم اینڈرسن، عائلہ، فردوس اور حسینہ انجو افسانے میں ایک نیا رنگ بھرتے ہیں وہاں مصنف ہوائی سفر کے میزبانوں کی اندر کی کہانی کو بڑی نفاست اور خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں کہ بظاہر خوش باش اور ہنستی مسکراتی نظر آنے والی فضائی حسینائیں اندر سے کتنی دُکھی ہوتی ہیں۔ پھر اس جاب سے منسلک مفاد پرست اور عیاش آفیسرز کے کرتوت پر سے بڑی دلیری سے پردہ اُٹھایا گیا ہے کہ وہ کس طرح ان معصوم لڑکیوں کی مجبوریوں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ افسانے کا انجام جہاز کے کریش ہو جانے کی صورت میں ریڈر کو غمگین کر دیتا ہے اور یہ باور کراتا ہے کہ ہر ذی نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔

دوسرا افسانہ ’’عشق پر زور نہیں‘‘ نافرمان اولاد کے گرد گھومتا ہوا ایک اِصلاحی افسانہ ہے جوکہ مصنف کی خاندانی تربیت کی رہینِ منت ہے۔ اِس افسانے کی وساطت سے جہاں نافرمان اولاد کی کارستانیاں بیان ہوئی ہیں وہاں خطۂ شمال کے اصل چہرے کو دُنیا کے سامنے لانے کی ایک خوبصورت کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح گلگت سے تعلق رکھنے والے ایک شریف النفس اِنسان ایک ریٹائرڈ ٹیچر فقیر محمد (فرضی نام) کو ملکی میڈیا دہشت گرد قرار دیتا ہے کہ اُس کا اَدھ جلا شناختی کارڈ اور کٹا ہوا سر بم بلاسٹ کے ملبے سے ملتا ہے۔ حالانکہ فقیر محمد اپنی محبت جہاں آراء سے ملنے اور دوسری شادی کی غرض سے گلگت سے کراچی جاتے ہیں ریلوے اسٹیشن میں بم بلاسٹ ہوتا ہے۔ فقیر محمد اِس کی زد میں آتا ہے۔ ملکی میڈیا اِس اَدھ جلے شناختی کارڈ اور اس کے کٹے ہوئے سر کی آڑ میں فقیر محمد کو دہشت گرد گردانتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ خودکش بمبار کا نام فقیر محمد ہے اور اِس کا تعلق گلگت کے ایک محلہ عثمانیہ سے ہے۔ نازؔ صاحب نے بڑی صداقت سے اپنے افسانے میں اِس کی منظر کشی کی ہے۔

تیسرا افسانہ ’’تیرہ مارچ‘‘ انفال، آیت اور انفال کی فرسٹ کزن مسکان کے گرد گھومتا ہے۔ خاندانی سازش سے جب انفال اور آیت کی موت واقع ہوجاتی ہے اور وہ بھی شادی کی سہاگ رات کو تو یہ کیس پولیس کے لیے معمہ بن جاتا ہے۔ اِس افسانے میں مصنف نے جس انداز سے تفتیشی آفیسر شیر خان کے کردار کو قلمبند کیا ہے وہ انداز بجائے خود مصنف کی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

’’وارداتِ عشق‘‘ اِس کتاب کا چوتھا افسانہ ہے جس میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی اسکول و کالج لائف کی بے راہروی پر دلچسپ کہانی لکھی گئی ہے کہ کس طرح وہ مزاق مستی اور وقت گزاری میں ایسے ایسے کام کر گزرتے ہیں کہ جو بعد میں اُن کے لیے وبالِ جان اور کفِ افسوس کا باعث بنتے ہیں۔

پانچواں افسانہ ’’أجل‘‘ شوؤ حافظ (اندھا حافظ)، یاسر اور شگفتہ رانی کے گرد گھومتا ہے۔ کس طرح موت یاسر کو کھینچ کے کارگاہ لے جاتی ہے۔ وہاں یاسر کی شگفتہ رانی سمیت دیگر بد روحوں سے ملاقات ہوجاتی ہے۔ اِس ملاقات کا انجام یاسر کی موت کی صورت میں ایک دفعہ پھر ریڈر کو غمگین کر دیتا ہے۔

چھٹا افسانہ ’’کچھ خواب وسوسے بُنتے ہیں‘‘ پڑھتے ہوئے جہاں زندگی کی ناپائیداری کا پتہ چلتا ہے وہاں ایک ایسا خوف دامن گیر ہوتا ہے کہ آپ نہ چاہتے ہوئے بھی ’’جل تو جلال تو‘‘ کا ورد کرنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں۔ اِس کہانی میں بھی زندگی اور موت کی حقانیت، نیک اعمال اور پرہیزگاری و تقویٰ کی اہمیت کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ اِنسان کی اچھائیوں کے خاتمے کو جس طرح روحانی موت سے تشبیہ دی گئی ہے وہ مصنف کی دین سے لگاؤ کی ایک روشن دلیل ہے۔ ایک اچھا اِصلاحی و سبق آموز افسانہ ہے جس پر مصنف یقیناًمبارکباد کے مستحق ہیں۔

کتاب میں شامل ساتواں اور آخری افسانہ ’’ایک متنازعہ افسانہ‘‘ انٹرنیٹ کی خرافات کو موضوعِ بحث بناکر لکھا گیا ہے۔ لہجہ اور الفاظ کچھ زیادہ ہی بے باک معلوم ہوئے۔ سچ بولنا اچھی بات لیکن خطرناک حد تک سچ بولنا کبھی کبھی آزار بھی دے جاتا ہے۔ بقول شاعر ؂

ذائقے میں ذرا سا کڑوا ہے

ورنہ سچ کا کوئی جواب نہیں

نازؔ صاحب پر تھوڑا غصہ بھی آیا کہ ہمارا معاشرہ روایتی پردہ داری کی ریاکاری میں شاید اِس سچ کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ اب ہم اتنے بھی ترقی نہیں کرچکے کہ ایسی باتوں کو ہضم کرسکیں۔ نازؔ صاحب کو خود بھی اِس کی نزاکت کا اِحساس ہے۔ اپنے اِسی افسانے کے بارے میں وہ کتاب کے دیباچے میں لکھتے ہیں:

’’ایک متنازعہ افسانہ‘‘ خود میری ناقص عقل و خرد کے حساب سے بھی ایک متنازعہ افسانہ ہی ہے۔ اِسے میں نے اپنی روایات سے بغاوت اور تفاوت کے نتیجے میں تحریر کیا ہے لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک طرف میں خود کو حقیقت پسند ادیب تصور کرتا ہوں اور جو کچھ میرے معاشرے میں ظہور پذیر ہو رہا ہے اُس کا مشاہدہ کرنے کے باوجود چشم پوشی کروں۔ حقائق جاننے کے باوجود اِظہار سے گریز کروں کہ یہ میرا شیوہ نہیں۔ یہ افسانہ لکھنے کے بعد میں نے حقیقت پسندی کا ثبوت تو دیا ہے لیکن یہ ایک ایسا افسانہ ہے اور اِس کے درپردہ ایک ایسی کہانی ہے کہ یہ شاید اتنی آسانی سے کسی کو ہضم نہ ہو جائے۔‘‘

بدقسمتی سے میرا اور نازؔ صاحب کا تعلق جس معاشرے سے ہے وہاں قتل سرعام کیا جاتا ہے جبکہ محبت چُھپ کے کی جاتی ہے۔ بھلا ایسے معاشرے میں بندہ اس خطرناک حد تک کیسے سچ بول سکتا ہے۔ مغرب میں سیکس ایجوکیشن تعلیمی نصاب کا حصہ ہے۔ جبکہ ہم سیکس کے بارے بات کرنا ہی گناہ سمجھتے ہیں۔ نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جو باتیں ہمیں دوستانہ ماحول میں اپنے بچوں کو بتانا چاہئیے وہ باتیں وہ اِنٹرنیٹ کی رنگین و سنگین دُنیا میں تلاش کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ جس سے اخلاقی بگاڑ کو فروغ ملتا ہے۔ اِس افسانے میں انہی موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ خصوصاً سوشل میڈیا میں فیک آئی ڈیز بناکر لڑکے لڑکیوں کو تنگ کرتے ہیں۔ ایسے میں پتہ نہیں چلتا ہے کہ وہ جس لڑکی سے عشق فرما رہے ہوتے ہیں وہ بعض دفعہ اُن کی اپنی سگی بہن نکلتی ہے۔ کیونکہ جہاں لڑکے فیک آئی ڈیز کے حوالے سے مشہور ہیں وہاں لڑکیاں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ ایسے ہی ایک کہانی کہ جس میں لڑکا فیک آئی ڈی بناکر لڑکی سے عشق کرتا ہے، ہوٹل میں ملاقات کا وقت طے ہوتا ہے اور جب ملاقات ہوتی ہے اُس وقت لڑکا جب حقیقت سے روبرو ہوتا ہے تو شرمندگی سے دوچار ہوتا ہے جس کو افسانوی رنگ دیتے ہوئے نازؔ صاحب لکھتے ہیں:

’’…………ہم دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ کر سکتے میں آگئے تھے۔ آسیائے گردشِ ایام لمحہ بھر کے لیے رُک سی گئی تھی۔ اگرچہ اُس نے اپنا نام رمشہ بتایا تھا لیکن میں اُسے ویسے بھی پہچانتا تھا۔ وہ رمشہ نہیں نازش تھی یہی اُس کا اصل نام تھا۔ ایک دوسرے کو دیکھنے اور پہچاننے کے بعد ہماری زبانیں گنگ ہوگئی تھیں۔ ہم دونوں کے ہی چہرے افسوس اور خجالت سے سرخ انگارہ ہو رہے تھے، ہم ایک دوسرے کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے تھے۔ اگر میں چند لمحات مزید وہاں اُس کے سامنے کھڑا رہتا تو شاید مجھے موت آتی۔ اِس لیے آگے بڑھنے کی بجائے میں نے اپنے قدم پیچھے کی طرف موڑ لیے۔ میں آگے نہیں بڑھ سکتا تھا کہ اُس نے اگرچہ اپنا نام رمشہ بتایا تھا لیکن وہ نازش تھی لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ نازش میری چھوٹی اور سگی بہن ہے اور اُس وقت وہ میرے سامنے حیرت کا پہاڑ بنی کھڑی تھی۔‘‘

اِس افسانے میں گویا معاشرے کی اِس ناسور کی جس طرح نشاندہی کی گئی ہے وہ بڑے دل گردے کا کام ہے جوکہ نازؔ صاحب نے کر دکھایا ہے۔ پھر بھی یہ افسانہ کسی کو ہضم نہیں ہوتا تو وہ پہلے سعادت حسن منٹو کے افسانے ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ اور ’’کالی شلوار‘‘ پڑھے یا جوش ملیح آبادی کی ’’یادوں کی بئات‘‘ بھی پڑھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کا لہجہ کتنا بے باک یا یوں کہئیے کہ کتنا بے پردہ ہے۔

مجموعی طور پر زیر تبصرہ کتاب ایک خوبصورت کوشش ہے جس میں نازؔ صاحب کی محنت نظر آئی۔ اپنی عادت سے مجبور مطالعہ کرتے ہوئے املا پر غور اور جملوں کی ساخت میں محو ہو جاتا میرے لیے فطری عمل بن چکا ہے۔ یہ بجا کہ الفاظ نہیں خیال کو دیکھنا چاہئیے مگر کیا کیا جائے کہ الفاظ کی صحت کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ ’’ایک متنازعہ افسانہ‘‘ پڑھتے ہوئے خوشی ہوئی کہ پروف ریڈنگ پر بہت محنت ہوئی ہے۔ ہاں اس کے باوجود کہیں نہ کہیں ایک آدھ غلطی دکھائی دی تو حسرت رہی کہ کاش یہ نہ ہوتی۔ اس کی وجہ مصنف کا اسکل فل ہونا اور لیب ٹاب اور کمپیوٹر سے آشنائی ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی کتابوں کے صوری حسن میں ایک مقناطیسی کشش ہوتی ہے کہ آپ بے ساختہ ان خوبصورت کتابوں کو ہاتھ میں لینے اور ان کے ڈیزائین کو دیکھنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں۔ میں اکثر اپنے دوستوں سے کہتا ہوں ہمارے پاس جدید ٹکینالوجی کا ہونا اور اس کا ماہرانہ استعمال ہماری تخلیقات کی خوبصورتی میں اضافہ کر سکتا ہے۔ کتابت کا دور رہا نہیں کہ آپ کسی کاتب کے رحم و کرم پر بھروسہ کریں یہ ٹیکنالوجی کا دَور ہے اور ٹیکنالوجی سے واقف ہوئے بغیر اچھا ادب تخلیق کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

ایک اور حسرت رہی کہ اِس کتاب میں شامل تمام افسانوں کا اِختتام موت اور غم کی صورت میں کیا گیا ہے۔ نازؔ صاحب ایک اچھے لکھاری ہے وہ بہتر جانتے ہیں کہ معاشرے کے دیگر غم کیا کم ہیں کہ ہم اپنی تحریروں میں بھی غم و آلام کو جگہ دے۔ کاش! ایک آدھ افسانوں کا اختتام مسرت و شادمانی سے ہوتا کہ زندہ رہنے کے لیے یہ آبِ حیات کا کام دیتی ہیں۔

آخری بات…… اوپر جو کچھ لکھا گیا وہ ادب کے ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کی حیثیت سے میری ذاتی رائے ہے۔ ادبِ عالیہ میرے یا کسی کے ایسے لفظوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ وقت ثابت کرتا ہے کہ کیا آب ہے اور کیا سراب تھا۔ ’’ایک متنازعہ افسانہ‘‘ پڑھ کر جس طرح کی سرشاری ہوئی۔ وہ مسرت کہتی ہے کہ نازؔ صاحب کے افسانوں کا یہ مجموعہ سرزمین پاک سے شائع ہونے والے اچھے اور معیاری افسانوں میں شمار ہوگا۔

یار زندہ صحبت باقی!

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments