یوم آزادی مبارک

آج کے دن آزاد ہوئے ہم
آج کے دن سب دور ہوئے غم
لہرایا آزاد فضا میں
چاند ستارے والا پرچم

14اگست ہماری زندگیوں میں سب سے اہم دن ہے اس دن ہمیں آزاد قوم کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرے ہماری انفرادی واجتماعی خوشیوں کا محور و مرکز یہی دن ہے۔

ہمارے وطن عزیز پاکستان وہ وطن نہیں جو وراثت میں اس کے بسنے والوں کو ملا ہوں بلکہ پاکستان کی بنیاد میں متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کی ہڈیاں اینٹوں کی جگہ پانی کی جگہ استعمال ہوا ہے۔اتنی گراں قدر تکلیف کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے۔جس نے تعمیر پاکستان میں تن، من ،دھن، بیوی بچے، بھائی بہن، عزیزواقارب قربان کیے۔پاکستان یوں ہی حاصل نہیں ہو گیا تھا اس کے حصول کے لیے لاکھوں مسلمان نے جام شہادت نوش کیا۔کتنی ماؤں کے سامنے ان کے بچے قتل کر دئے گئے۔کتنے باب سوم کے سامان ان کے خاندان کو مکانوں میں بند کرکے نذر آتش کردیا گیا کتنی پاکدامنوں نہروں اور قوموں میں ڈوب کر پاکستان کی قیمت ادا کی کتنے بچے یتیم ہوئے جو ساری عمر اپنے والدین کی شفقت کے لیے ترستے رہے۔

میرے ہم وطنو! اس کی وادیاں اپنے اندر فردوس کی دنیا لیے ہوئے ہیں ہرے بھرے اور وسیع و عریض کھیت سونا اگل رہے ہیں۔ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہمیں ہر قسم کی آزادی اور ہر طرح کا سامان آسائش و آرائش میسر ہے مگر ہمیں چاہیے۔کی اس میں سلطان ٹیپو کا خون, سرسید کی نگاہ دوربین, علامہ اقبا ل کا افقار, قائداعظم کی جہد مسلسل اور دوسرے اکابرین کا آثار شامل ہے ان کا مقصد ایک تھا اور وہ یہ تھا کہ “آزاد اور خودمختار اسلامی مملکت کا حصول”۔

عزیز ہم وطنو! 14 اگست 1947 وہ مبارک دن تھا جب مملکت خداداد پاکستان معرض وجود میں آئی۔مسلمان کا اتفاق اور قائداعظم کی خلوص کی وجہ سے یہ عظیم اسلامی سلطنت وجود میں آئی۔ہندوؤں نے طرح طرح کی مکاریوں سے پاکستان کی مخالفت کی۔انگریزوں نے بھی بہت رکاوٹیں پیدا کیں مگر خدا کا شکر ہے پاکستان بن کر رہنا تھا اور بن کر ہی رہا۔اس وقت مسلمانوں کا یہی نعرہ تھا۔

لے کے رہیں گے پاکستان بن، کے رہے گا پاکستان

اور

پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا للہ

دشمنوں نے قائداعظم کی اس تجویز کا تحقیق کی اور اس کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہمارا مطالبہ پاکستان حق و صداقت پر مبنی تھا۔حق اپنے آپ کو منوا لیتا ہے اور دشمنوں کے ناپاک عزائم خاک میں مل جاتے ہیں آج پاکستان اپنی عظمت کو دنیا سے تسلیم کروا چکا ہے۔

عزیز ہم وطنو! ہمیں پاکستان سے محبت ہے اس کے بانی سے عقیدت ہے اس کے مصور سے دلی لگاؤ اور ان مجاہدین کے لئے ہمارے پاس مغفرت کی دعا ہے جنہو ں نے اس کے لئے قربانیاں دیں۔قدرت نے پاکستان کو ہر نعمت سے نوازا ہے یوم آزادی ہم سے ہر سال اسی عہد کی تجدید کرواتا ہے کہ ہم اس ملک کی حفاظت کریں گے اس کی خدمت میں دن رات مصروف رہیں گے پاکستان عالم اسلام اور اقوام عالم میں سب سے اعلی ملک کے طور پر ابھرے۔یہاں پر یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام بھی آزادی کے اس دن کو نہایت جوش و خروش سے مناتے ہیں اور پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں مگر اس کے باوجود بھی یہاں کے عوام آئینی حقوق سے محروم ہے مگر پھر بھی پاکستان کی محبت یہاں کے عوام کے رگوں میں رچ بسی ہے اور امید رکھتے ہیں کہ کھبی نہ کھبی پاکستان گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دے گی اور یہاں کے عوام کی محرومیوں کا مداوا بھی کرے گا۔۔۔۔

آو دوستو! عزم کریں کہ جینا مرنا اسی ملک کی خاطر ہے اور ہر دم اس ملک کو سوانح ہے تاکہ شہید کے سامنے سرخرو ہو سکے!

پاکستان شاد رہے

دائم ہے آبادرہے۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments