چند دنوں‌میں‌دہشتگردی سے متاثرہ سکولوں‌کو بحال کر دیں‌گے، ڈپٹی ڈائریکٹر تعلیم فقیر اللہ

چلاس (شفیع اللہ قریشی)دیامر میں حالیہ ناخوشگوار واقعات میں 14 اسکولوں کو تخریب کاری توڑ پھوڑ اور آگ لگا کر تباہ کیا گیا تھا اسکولوں کی مرمت کے لئے صوبائی حکومت اور محکمہ ایجوکیشن اقدامات اُٹھا رہے ہیں۔متاثر گرلز مڈل سکول رونئی کو بحال کردیا ہے باقی تمام متاثرہ سکولوں کو بھی جلد بحال کرینگے۔ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن فقیر اللہ کا تعلیمی ایمرجنسی نفاذ کا پہلا اجلاس کے بعد میڈیا کیساتھ خصوصی گفتگو۔

انھوں نے کہا کہ تمام بچیوں کو مفت میں تعلیم فراہم کیا جارہا ہے۔5ہزار کے قریب بچے موجود ہے۔تمام بچیوں کو سکاف۔برقہ۔یونیفارم۔کتاب قلم۔نوٹ بک اور کتابیں فراہم کی جائی گی۔40 سے زائد بچے ہوں وہاں ایک ٹیچر کا مزید اضافہ ہوگا۔آٹھ ماہ ہوئے ہیں عہدہ پر فائز ہونے کے۔قلیل عرصے میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تمام عملہ کی اداروں میں حاضری کو یقینی بنایا ہے۔انھوں نے کہا کہ تمام متاثرہ اسکولوں کی تعمیر و ترقی کمشنر دیامر کی نگرانی میں ہورہی ہیں وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن، چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ،سیکرٹری تعلیم،کمشنر دیامر اور ڈاریکٹر ایجوکیشن دیامر رینج کی خصوصی ہدایات پر رونئی گرلز مڈل سکول 32 گھنٹے کے اندر بحال کردیا ہے۔باقی متاثرہ اسکولوں کو بھی جلد بحال کیا جارہاہے۔تعلیمی ایمرجنسی نفاز کے بعد 7 روکنی کیمٹی تشکیل کردی گئی ہے جس کا چئرمین کمشنر دیامر ہے۔اس حوالےسے کمشنر دیامر سید عبدالوحید شاہ کی سربراہی میں پہلا اجلاس کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ آئیندہ چند روز میں اپنے سفارشات کو مرتب کرکے متاثرہ اسکول کے کام کو بحال کردینگے۔حالیہ دہشت گردی سے ہمارا حوصلہ پست نہیں ہوا ہے بلکہ حکومت پاکستان بلخصوص جی بی حکومت کے ذمہ داران کی ہدایات اور ہمدردیاں ساتھ ہے جسکے باعث ہم علم دشمنوں کے ناپاک عزائم کو خاک کر ڈالا ہے ۔ڈی ڈی ایجوکیشن دیامر نے کہا یہ ہمارا عزم ہے آئیندہ بھی اس طرح کے حالات کے مقابلہ کرکے قلم اور کتاب سے شکست دینگے۔شرپسند افراد ہمارے دلوں سے علم کی روشنی کو نہیں بجھا سکتے ہیں۔ہم اپنے ٹیم کے ساتھ ملکر دیامر میں تعلیم کے ریشیو کو دوسرے ضلعوں کے برابر بلکہ اس سے بھی آگے لے جانے کیلئے کسی قسم کی کوئی قربانی کو دینے سے شریک نہیں کرینگے۔انھوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں ہوگا کہ دیامر میں میل کے ساتھ ساتھ فیمیل ایجوکیشن ریشیوبھی سو فیصد تک لے جایا جائےگا۔انھوں نے کہا کہ ہائی اسکولز کے ہیڈ ماسٹروں کو ڈی ڈی او کی اختیارات بھی دی گئی ہیں۔ہیڈکوارٹر چلاس میں ماڈل ہائی اسکول میں  پرانی وردی کو اساتذہ کی ڈیمانڈ پر ختم کرکے نیو یونیفارم کو یقینی بنایا ہے۔انھوں نے کہا کہ کمشنر دیامر سید عبدالوحید شاہ کی سرپرستی میں تمام مردہ سکیموں کو زندہ کروادیا ہے۔نئے تعلیمی سال میں 9ہزار کے قریب بچے اور بچیوں کے داخلے ہوئے ہیں جو اسکول سے باہر تھے۔ضلع دیامر کے نصف سے زیادہ تعلیمی اداروں کے کمی کے وسائل کو دور کرکے اے ڈی پی 19-2018 میں شامل کردیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ تانگیرکھمی کوٹ کی بوسیدہ عمارت کی سیکرٹری تعلم کی نے معائنہ کیا تھا انہیں دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔جن نئے اسکولز کی سائیڈ سلیکشن روکی ہوئی تھی وہ بحال ہوئی ہے۔جن اسکولوں میں لیڈی ٹیچرز کی کمی واقع تھی ان اسکولوں کے لیڈی ٹیچرز جو باہر کام کررہی تھی انکو متعلقہ اسکول میں بیجھ دیا گیا ہے۔تاکہ ان مضافات میں فی میل ایجوکیشن پروموٹ ہو سکے۔تھور میں ہائی سکول کو اپ گریڈ کا درجہ دلوایا ہے وہ اے ڈی پی میں شامل ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments