ہزاروں سال بعد مسلمانوں کی عید اور کیلاش قبیلے کا اوچال تہوار ایک ساتھ

چترال(گل حماد فاروقی) وادی کیلاش میں جشن کا سماں ہے۔ مسلمان عیدا لاضحی منارہے ہیں، اور کیلاش قبیلے کے لوگ اپنا سالانہ تہوار اوچھال منا رہے ہیں، جبکہ رمبور کے باسی اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ کے انتخاب کی خوشی منارہے ہیں۔

آج کل کیلاش قبیلے کے لوگ اپنا سالانہ تہوار اوچھال منارہے ہیں جو گندم کی کٹائی کے بعد منایا جاتا ہے۔ یہ رسم ماضی بعیدسے گندم کی کٹائی کے وقت منایا جاتا رہا تھا۔ کیلاش بزرگوں کا کہنا ہے کہ صدیوں بعد پہلی بار اوچھال اور عید ایک ہی دن منعقد ہوے، اور لوگوں کی خوشیاں دوبالا ہوگئیں۔

اس جشن میں کیلاش خواتین نئے کپڑے پہن کر سروں پر پرندے کا رنگین پر لگاتی ہیں اور ٹولیوں کی شکل میں رقص پیش کرتی ہیں۔

کیلاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے نو منتحب رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ نے اس جشن میں حصوصی طور پر شرکت کی ۔ اس رنگا رنگ جشن کو دیکھنے کیلئے پہلی بار بہت بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح بھی وادی کیلاش آئے تھے۔ رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ نے تمام غیر ملکی سیاحوں کو خوش آمدید کہا اور ان کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ان کے اس تہوار کو دیکھنے کیلئے دنیا بھر سے آئے ہیں۔

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے اطالوی خاتون نے کہا کہ وہ پہلی بار اٹلی سے اس تہوار کو دیکھنے آئی ہے۔

فلپائن سے آئے ہوئے سیاحوں نے بتایا کہ وہ اس تہوار سے بہت محظوظ ہوئے ایک تو یہاں کا ماحول نہایت پر امن ہے اور دوسری بات یہ کہ لوگ انتہائی مہذب اور مہمان نواز ہیں۔

ایک جرمن خاتون نے بھی اس جشن کو نہایت سراہا جو پہلی بار یہاں آئی ہے اور بار بار آنے کو دل کرتا ہے۔

کراچی سے آئی ہوئی سبین شاہ اپنے اہل حانہ کے ساتھ کیلاش آئی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس جشن کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئی کیونکہ انہوں نے اس کے بارے میں سنا تھا، لیکن کبھی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہواتھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اگلی بار اپنے پورے حاندان کو لیکر کیلاش آئے گی۔

رضیہ ایک کیلاش لڑکی ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ان کی کمیونٹی کا فرد وزیر زادہ پہلی بار رکن صوبائی اسمبلی بن چکا ہے اور انہوں نے عمران خان کا شکریہ اداکرنے کے ساتھ ساتھ مطالبہ کیا کہ وزیر زادہ کو وزارت بھی دی جائے تاکہ علاقے کے مسائل حل ہوسکیں۔

فرینہ کیلاش بھی بہت خوش ہے عید اور اوچھال ایک ہی وقت میں منانے کا مزہ کچھ اور ہے اور ساتھ ہی ان کا ایم پی اے بھی حلف لینے کے بعد پہلی بار کیلاش وادی میں آیا ہے جس نے ان کی خوشیوں کو دوبالا کیا ہوا ہے۔

ڈاکٹر محمد عدنان بھٹہ جو بیرون ملک مقیم ہے اس جشن کو دیکھنے کیلئے خصوصی طور پر اپنے فیملی کے ساتھ کیلاش آیا ہوا ہے اور وہ اس بات پر بھی خوش ہے کہ پاکستان میں پہلی بار تبدیلی آئی ہے اور عمران خان کے وزیر اعظم منتحب ہونے کے بعد اب یہ ملک ترقی کے راہ پر گامزن ہوگا۔

نو منتحب رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ نے کہا کہ یہاں کے لوگ بہت خوش ہیں۔ مسلم اور کیلاش اپنے تہوار منا رہے ہیں۔ حلف برداری کے بعد میں پہلی بار یہاں آیا ہوں لوگ میری خلف برداری پر بھی خوش ہیں اور دنیا بھر سے کثیر تعداد میں غیر ملکی سیاح پہلی بار اس جشن کو دیکھنے آئے ہوئے ہیں۔ یہ ہے نیا پاکستان جو پہلی بار اتنی کثیر تعداد میں غیر ملکی سیاح چترال آئے ہیں جو یقینی طور پر ملکی کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments