ہندور کا مشاعرہ اور بجایوٹ کی ڈھلتی شام (قسط سوم)

فکرونظر: عبدالکریم کریمی

گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔

شام چھے بجے کے قریب ہم وہاں سے نکلے۔ سکول کے باہر ایک گروپ تصویر بنائی گئی۔ کچھ احباب ضیا صاحب، بشر صاحب اور سروش صاحب دیا صاحب کی گاڑی میں واپس گلگت کی طرف نکلے۔ ہم باقی احباب کو رات گزار کے صبح جانا تھا اس لیے ہم شہید لالک جان نشانِ حیدر کے مزار کی طرف نکلے اور اس قابلِ فخر سپوت کے مزار پہ فاتحہ خوانی کی۔ بعد ازاں احباب نے فوٹو گرافی کی۔ ہم وہاں سبزہ زار میں بیٹھے خوش گپوں میں مصروف ہوگئے۔ استاد حاجت قبول تاج صاحب کے پرانے دوست ہیں انہوں نے شام اپنے گھر بجایوٹ یاسین تمام احباب کو دعوت دی تھی۔ اس لیے وہ انتظامات کی غرض سے جلدی نکل گئے۔ ان کے جانے کے ایک آدھ گھنٹے بعد ہم بھی سوئے بجایوٹ روانہ ہوئے۔ خوبصورت مناظر کے سنگ سفر جاری تھا۔ پچھلی سیٹ پر عزیزم آصف علی آصف اپنا یہ شعر گنگنا رہا تھا۔

رکنے کے نہیں ہم تری آنکھوں میں ہمیشہ
’’ہم لوگ گزرتے ہوئے منظر کی طرح ہیں‘‘

راستے میں وہی مذاق مستی اور آس پاس کے دیہات کی خوبصورتی سے محظوظ ہوتے ہوئے سرشام ہم بجایوٹ پہنچے۔ استاد حاجت قبول کے گھر بڑے پرتپاک انداز میں ہمارا استقبال کیا گیا۔ چائے کے ساتھ روسٹ، آلو کے چپس، تازہ دیسی گھی پیش کیے گئے۔ سب سے بڑی چیز استاد حاجت قبول اور ان کے اہلِ خانہ کا خلوص اور ان کی محبت تھی۔

تناول ماحضر کے بعد بجایوٹ کی شام سوز و سرور میں بدل گئی۔ بابائے حریپ استاد حاجت قبول اپنی ٹیم اور ساز و سامان کے ساتھ جب رونق افروز ہوئے تو گویا ڈھول اور باجے سے زمین ہلنے لگی۔ تاج صاحب کہاں رکنے والے تھے۔ ایک چھلانگ کے ساتھ واردِ محفل ہوئے اور ایسے ناچے کہ حق ادا کر دیا۔ اشتیاق یاد نے بھی دل کی بھڑاس خوب نکالی۔ توصیف حسن اور آصف بھی کہاں پیچھے رہنے والے تھے۔ خوب ناچے۔ رہ گئے ہم کہ ہزار چاہتوں کے باوجود نہیں ناچ سکے کہ موقع مناسب نہیں تھا۔ ایک آدھ گھنٹے کی اس میوزیکل تقریب سے فراغت کے بعد ہم دوبارہ ہندور یاسین کی طرف پا بہ رکاب ہوئے۔ وہاں ہوٹل میں بھی یہی میوزیکل پروگرام ہونا تھا جس میں گاؤں کے عمائدین کے ساتھ نوجوانوں اور منچلوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کرنی تھی۔ اس لیے وقت ضائع کیے بغیر ہم نکلے۔ راستے میں شام رات میں ڈھل رہی تھی۔ ہر کوئی اپنی دُنیا میں مست تھا۔ ہم گاڑی کے شیشے نیچے کرکے یاسین کی ودای میں کھو گئے کہ ہم نے بھی اپنی جوانی کا کچھ عرصہ انہی وادیوں میں گزارا تھا۔ دوہزار نو اور دوہزار بارہ کو میں گوپس یاسین ریجن میں رہا تھا۔ یہاں کی جماعت اور نوجوانوں سے کئی بار ملاقات ہوئی تھی۔ اس لیے ذہن کے سکرین پر بہت ساری یادیں تھیں جو ابھر رہی تھیں۔ طاؤس پہنچے تو ہمیں کئی سال پہلے کی ایک عید یاد آئی یہی طاؤس پنڈال میں ہم نے عید نماز کی پیش امامت کی تھی اور ایک جذباتی خطبہ دیا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ خطبے کے آخری حصے میں ایک بوڑھے بابا نے مجھے روکا تھا اور مجمع سے اٹھ کر بہ مشکل مجھ تک پہنچا تھا اپنے کانپتی زبان سے انہوں نے مجھے جہاں شاباش دی تھی وہاں اپنے لرزتے ہاتھوں سے اپنے جیب سے سو روپے کا نوٹ نکال کر مجھے بطور انعام تھمایا تھا۔ ان کا یہ انداز بتا رہا تھا کہ موصوف زمانے کے اور خصوصاً اولاد کے ستائے ہوئے ہیں۔ میں نے خطبے میں جہاں والدین کو حضرت ابراہیمؑ کی سنت پر عمل پیرا ہونے کی تاکید کی تھی وہاں نئی نسل پر بھی زور دیا تھا کہ وہ حضرت اسماعیلؑ کی طرح نیک، فرمانبردار اور صالح اولاد بننے کی کوشش کریں۔ یہی تو اس عید کی مدعا ہے ورنہ بقول ربِ کائنات اُس ذات پاک کو نہ تو قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور اس کا خون، اس کو تو تمہاری تقویٰ پہنچتی ہے۔

ان خیالات کے ساتھ نہ جانے کب ہم طاؤس سے ہوتے ہوئے سلطان آباد پہنچے تھے اور دریا پار سندی یاسین بجلی کی روشنیوں میں نہا رہا تھا۔ سندی جہاں بہت ہی مردم خیز سرزمین ہے کہ اس علاقے کے لوگوں نے مختلف شعبوں میں بڑا نام کمایا ہے تو وہاں یہ اپنی حسن خیزی میں بھی بہت مشہور ہے۔ یہاں کے مکین خوبصورت ہی نہیں خوب سیرت بھی ہیں۔ میری کئی ناقابلِ فراموش یادیں اس خوبصورت گاؤں اور یہاں کے مکینوں کے ساتھ جڑی ہیں۔ کبھی کبھی کچھ چیزیں لکھی نہیں جاتیں بس محسوس کی جاتی ہیں۔

دکھی صاحب میرے پہلو میں بیٹھے ہیں۔ وہ سراپا محبت ہیں۔ نماز تو دکھی صاحب بھی پڑھتے ہیں ان کی انگ انگ سے نماز کی خوشبو آتی ہے۔ ایسے لوگ نماز پڑھے بھی تو مزہ آتا ہے لیکن کچھ لوگ ریا کاری کی جو نماز پڑھتے ہیں۔ اس سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اس دوران علامہ اقبالؒ کے اشعار پر دکھی صاحب کے ساتھ سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ دُکھی صاحب نے اقبال کا یہ شعر سنایا۔

تیرا امام بے حضور، تیری نماز بے سرور

ایسی نماز سے گزر، ایسے امام سے گزر!

علامہ مرحوم کے جتنے اشعار دکھی صاحب کو یاد ہیں شاید کسی اور کو ہو۔ میں نے دکھی صاحب سے گزارش بھی کی کہ آپ کو اقبالیات میں پی ایچ ڈی کرنا چاہئیے۔ دکھی صاحب کا کہنا تھا کہ ہم مسلمان اور کچھ کریں یا نہ کریں اگر علامہ اقبالؒ کے اشعار کو ہی ذادِ راہ بنائے تو منزل سے ہمکنار ہوسکتے ہیں۔

(جاری ہے۔۔۔۔ باقی حصہ آئندہ)

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments