انجمن تاجران و ایکشن کمیٹی کا گمراہ کن جھوٹا پمفلٹ

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:فیض اللہ فراق

گلگت بلتستان کی عوام کب تک افواہوں کی گردش میں بعض افراد کے ذاتی مفادات اور خواہشات کی تکمیل کا سفر طے کرتی رہے گی۔ المیہ یہ ہے کہ عشروں سے یہاں کی عوام خوش فہمیوں ،افواہوں اور بے صبری کی چنگل سے آزاد نہ ہوسکی۔ اسلام ہمارا مذہب ہے اورزندگی کا نصب العین بھی۔ اسلام کے آفاقی اصول اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتے کہ ہرسنی سنائی بات کو آگے پھیلا کر افراتفری کاماحول پیدا کیا جائے۔

اس میں دو رائے نہیں ہے کہ گلگت بلتستان کا قومی سوال اور شناخت بدستور کسی مسیحا کا منتظر ہے۔ اس خطے کو قومی دھارے میں شامل کرناباقی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ قومیں اور علاقے وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتے ہیں۔ سیاسی و سماجی بلوغت کی پختگی میں عجلت کی بجائے وقت درکار ہوتا ہے۔ عین اس طرح گلگت بلتستان کے انتظامی ،جمہوری اور آئینی ڈھانچے میں مربوطی کیلئے بھی کافی وقت لگ جائیگا۔ 1947ء سے 2009کے گورننس آرڈر کے اجراء تک عشرے گزرے ہیں۔ اب قومی دھارے میں شامل ہونے تک وقت درکار ہے اور عوام کا مطالبہ بغیر نمائندگی کے ٹیکسز کا نفاذ اپنی جگہ معنویت اور حیثیت رکھتا ہے مگر افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بعض سازشی عناصر ٹیکسز کے ایشو پر غلط بیانی جھوٹ اورفریب سے کام لیتے ہوئے خطے کے لاکھوں عوام کو جذباتی کر کے گمراہ کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں جو کسی طور علاقے اور ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔

عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کے حقوق کے حصول اور محصولات کے معاملے پر جدوجہد ان کاجمہوری حق ہے لیکن انہیں اس بات کی ہرگز اجازت نہیں کہ وہ زمینی حقائق کے برخلاف جعلی قسم کے پمفلٹ کی تقسیم کے ذریعے عوام کو گمراہ کریں جس سے دشمن طاقتوں کی میڈیا کو خطے کے لاکھوں محب وطن عوام کو مشکوک بنا کرپیش کرنے کا موقع ملے۔ انجمن تاجران اورعوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ٹیکس کے معاملے پر مشتہر ہونے والا پمفلٹ حقائق کے برخلاف جھوٹ کا پلندہ ہے۔ گلگت بلتستان اس وقت گورننس آرڈر 2009کے تحت چل رہا ہے اور یہی آرڈر گلگت بلتستان کا آئین ہے جس کے تحت صوبائی اسمبلی کے علاوہ گلگت بلتستان کونسل نامی ادارہ بھی وجود میں آیا ہے۔ گلگت بلتستان کونسل کا چیئرمین وزیراعظم ہوتا ہے اورکونسل کے نصف درجن ممبران گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی انتخاب کرتی ہے۔ ٹیکسز گلگت بلتستان کونسل کا سبجیکٹ ہے۔

انجمن تاجران اورایکشن کمیٹی نے جار ی کردہ پمفلٹ میں جن 15قسم کے محصولات کی گلگت بلتستان میں نفاذ ہونے کا کہاہے سراسر جھوٹ اوربد دیانتی پر مبنی ہے۔ ان تمام ٹیکسز کا گلگت بلتستان سے کوئی تعلق نہیں نہ ہی ان کا نفاذ ہوا ہے اور نہ ہی مذکورہ ٹیکسز کے نفاذ زیر غور ہے۔ پمفلٹ میں انجمن تاجران اورایکشن کمیٹی کے مطابق زرعی آمدنی اور زرعی زمین کی قیمت پر ٹیکس، زرعی زمین کے وارث سے متعلق ڈیوٹی،زرعی زمین پر سٹیٹ ڈیوٹی ،زمینوں اور عمارات پر ٹیکس ،اشتہاروں پر ٹیکس ،زمینی اور بحری راستوں سے سامان اورمسافروں کی ترسیل پر ٹیکس ،گاڑیوں ،کشتیوں ،افراد پر لگائے جانے والے ٹیکس ،تعشیات پر ٹیکس ،پیشوں تجارات اور روزگار پر ٹیکس ،مقامی علاقے میں استعمال یا فروخت کیلئے آنے یا جانے والے سامان پر ٹیکس اور دکان مرغی خانے سے لے کر قبرستان تک تمام ٹیکسز کے گلگت بلتستان میں نفاذ کا ڈھندورا پیٹا گیا ہے اور ایک گمراہ کن پمفلٹ کے لاکھوں کاپیاں گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں تقسیم کئے گئے ہیں۔

گورننس آرڈر 2009کے شیڈول VIکے تحت یہ تمام لوکل ٹیکسز کے نفاذ کا اختیار صوبائی حکومت کو ہے لیکن پمفلٹ میں نشاندہی کئے گئے 15قسم کے ٹیکسز کے نفاذ کا آج تک سوچا تک نہیں ہے تو ان کا نفاذ کیسے ہوا۔ اس سلسلے میں آج تک گورننس آرڈر 2009کے شیڈول VIکے تمام ذیلی شقوں کے ساتھ نہیں چھیڑا گیا۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ انجمن تاجران اورایکشن کمیٹی کو یا تو ایڈاپٹیشن ایکٹ 2012اورپمفلٹ والے ٹیکسز میں فرق نہیں کرپا رہے ہیں یا جان بوجھ کر عوام کوگمراہ کررہے ہیں۔ ایڈاپٹیشن ایکٹ 2012الگ چیز ہے اور پمفلٹ میں نشان زدہ ٹیکسز جن پر سیاست ہورہی ہے وہ الگ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے مذکورہ پمفلٹ میں ذکر ہونے والے ٹیکسز میں سے کسی ایک کو بھی ادا کیا ہو؟؟

عوامی مطالبات اور جدوجہد کے نام پر اس طرز کی غلط بیانی سمجھ سے بالاتر ہے گلگت بلتستان کے باشعور عوام کو اس گمراہ کن پراپیگنڈے کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ حقیقی حقوق کے حصول میں منزلوں کا تعین ممکن ہوسکے۔ گلگت بلتستان کا دیرپا امن اس وقت کسی تحفے سے کم نہیں ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ امن و اتحاد اور سنجیدگی کے رویے کو پروان چڑھاتے ہوئے افواہوں اور جھوٹے پمفلٹس پر مبنی ایجنڈے کو ناکام بنائیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments