جائیں‌ تو جائیں کہاں

تحریر ۔ظفراقبال

مہذب دنیا کی تاریخ میں گلگت بلتستان وہ خطہ ہے جو طویل عرصے تک کسی ملک کے ائینی حقوق سے محروم رہا،اس بات کا اعتراف اقوام متحده بھی کر چکی ہے، خطے میں بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی میں ریاست پاکستان اور اس کے ادارے بُری طرح ناکام ہوچکے ہیں،تعلیمی اداروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ایک طویل عرصے تک یہاں کے باشندوں کو اپنے جائز حقوق کے بارے میں علم نہیں ہو سکا،یہاں کے کچھ مقتدر حلقوں کو شروع کے دن سے ان ناانصافیوں کا علم تھا ،لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مفادات کی خاطر ہمیشہ سادہ لوح عوام سے جھوٹ بولتے رہے۔اور اپنی زاتی مفادات کی خاطر ہمیشہ اجتماعی مفادات کو پاٶں تلے روندتے رہے۔اور اج بھی مسلسل جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں،پچھلے کچھ عشروں سے عوام نے ان نام نہاد عوامی نمائندوں کو پہچان لیا ہیں،وفاقی پارٹیوں کی منشور کو بنیاد بنا کر عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر قانون ساز اسبملی میں تو پہنچ جاتیں ہیں،لیکن قانون سازی میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا،عوام کے خواہشات اور امنگوں کو پس پشت ڈال کر ایک صدارتی فرمان کے زریعے یہاں پے قوانین کو زبردستی مسلط  کیئں جاتیں ہیں،جو انسانی حقوق کے علمبرداروں کے منہ پر تماچا ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں نے اپنی سرزمین پر بیرونی مداخلت کی ہمیشہ مزمت کی ہے، ۔چاہئے وہ خالصہ سرکار ہو، یا پھر ڈوگرہ راج ہو، ہر دور میں یہاں کے لوگوں نے ان طاقتوں کے خلاف مزاہمتی تحرکیں چلائیں ہیں۔١٩٤٧ میں یہاں کے عوام نے اپنی مدد اپ کے تحت  ڈوگرہ راج کے خلاف آذادی کی جنگ لڑی، اور ایک وسیع علاقے کو آذاد کرا کر غیر مشروط طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کیا، جس کو دنیا تسلیم نہیں کرتی۔حکومت پاکستان کے زیر کنڑول انے کے بعد ابتدائی سالوں میں خیال یہ ظاہر کیا جا رہا تھا، کہ حکومت پاکستان اس علاقے پر خصوصی توجہ دے گی۔لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اُمیدیں بھی آہستہ آہستہ دم توڑتیں گئیں۔ساٹھ کی دہائیوں تک اس علاقے میں خوف ناک غربت تھی۔کوئی پرسان حال نہیں تھا۔کوئی سکول کوئی اسپتال  اور سڑک کچھ بھی نہیں تھا۔تعلیم کی عدم فراہمی کی وجہ سے یہاں پر جہالت کے اندھیرے تھے،جہالت کی وجہ سے غربت نے ان علاقوں میں ڈھریں جما لئے تھے۔ حکومت نے ان کی جہالت سے بھر پور فائده اٹھا کر اس خطے کو اقوام عالم کی نظروں سے اوجھل رکھا،میڈیا نے ان سے نظریں چرایا ۔مسئلہ  جموں کشمیر میں رائے شماری میں پلس پوائنٹ کے طور استعمال کرنے کے لئے ان کو کئی عشروں سے قربانی کا بکرا بنایا گیا، اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے،یہی نہیں بلکہ ستر کی دہائیوں سے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی سنگین خلاف ورزی کی جارہی ہے،حالانکہ گلگت بلتستان اقوام متحده کے قراردادں کے مطابق ایک متنازعہ خطہ ہے، جس کی تقدیر کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے،ان دنوں بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے آئین سے 35A اور 370 جیسے دفعات  کا خاتمہ کرنے جا رہا ہے،اور جواز یہ پیش کیا جارہا ہے ،کہ پاکستان ایک عرصے سے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزی کر کے گلگت بلتستان کی ڈیموگرافی کو تبدیل کر رہا ہے،یہ بھارت کے پاس ایک ٹھوس جواز ہے،اس کو بھارت دنیا کی کسی بھی عدالت میں چیلنج کر سکتا ہے،اگر جموں کشمیر سے 35A کا خاتمہ ہو گیا ،تو یہ کشمیریوں کے لئے زہر ہلاہل ثابت ہوگا،کیونکہ بھارتی سرکار غیر ریاستی باشندوں کو جموں کشمیر میں زمینیں دے کر اباد کرائے گا،اور ریاست کی مسلم اکثریت، اقلیت، میں تبدیل  ہو گی ،اس لئے انڈیا کی اس مکاری اور منافقت کو سمجھتے ہوئے، اور  حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فی الفور گلگت بلتستان میں  ایس ایس ار کو بحال کیا جائیں، تاکہ بھارت کے پاس کوئی جواز باقی نہ رہے۔غرض میں موضوع کی طرف آتا ہوں  ،١٩٧٠ عسوی کے بعد گلگت بلتستان میں حالات تیزی سے تبدیل ہونے لگے ۔یہاں کے نوجوانوں نے حصول تعلیم  کے لئے شہروں کا رُخ کیا۔کیونکہ علاقائی سطح پر کوئی تعلیمی ادارے موجود نہیں تھے،ہونا تو یہ چاہئے تھا، کہ گلگت بلتستان کے طلبہ و طالبات تعلیم کو اپنے گھر کے دہلیز پر حاصل کرتے،کیونکہ یہ ریاست کی زمہ داری میں شامل ہے ،پر افسوس آج بھی گلگت بلتستان کے طلبہ حصول تعلیم کے لئے مختلف شہروں میں در در کے ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں،ایک سادہ معاشرے سے نکل کر جب یہ شہروں میں پہنچ جاتے ہیں،جہاں پے فریب بدمعاشی،چوری ،جنسی ہراسمنٹ،ان معاشروں کے لازمی جز ہوتے ہیں،ایسے معاشروں میں ہمارے نوجوان نسل کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے،ان تمام مسائل کا سامنا کرتے ہوئے ہماری نئی نسل حصول تعلیم میں مگن ہیں،اور انہی طلبہ نے جو بڑے شہروں ،،خصوصا کراچی ،،میں مقیم طلبہ نے  سیاسی جدوجہد کے لئے طلبہ تنظیمیں  تشکیل دئیں۔یہی وہ طلبہ تنظیمیں تھیں ،جنہوں نے پسے ہوئے طبقے کے سیاسی جہدوجہد کو تیز کرنے کے لئے قوم پرست سیاسی پارٹیوں کے لئے قیادت پیدا کی۔اور ٨٠ کی دہائیوں میں گلگت بلتستان میں قوم پرست جماعتيں وجود میں ا گئیں۔اور گلگت بلتستان میں ہونے والے تمام مظالم ،چاہیے وہ ،،معاشی ہو یا سیاسی،، سے پردہ اٹھانے میں اہم کردار ادا کئے۔اور سیاسی شعور بیدار کرنے میں ہر اول دستے کا کردار کئے۔ایک طویل جدوجہد کے بعد آج حالات تبدیل ہو چکیں ہیں،گلگت بلتستان کے نوجوان اپنے اصل مسائل سے واقف ہو چکے ہیں،اس شعور کے پیچھے سوشل میڈیا کا بڑا کردار ہے۔
آج گلگت بلتستان کے نوجوان حکومت سے سوال کر رہے ہیں، اپنا جائز حق مانگ رہے ہیں ،یہی سوالات ان نام نہاد صحافیوں جیسے محمد مالک اور جنرل(ر) امجد شعیب جیسے  لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہے ہیں،اور یہ منافقت پھیلا رہے ہیں، حالانکہ امجد شعیب ایک ذمہ دار ادارے سے ریٹائرڈ ہے ،اور گلگت بلتستان کے لوگوں کے دلوں میں پاک فوج کے حوالے سے بہت احترام موجود ہےاور گلگت بلتستان کے ہر گھر سے دو یا تین افراد پاک فوج میں ہیں ،اور انکی قربانیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے،اگر پاک فوج سے وابستہ  ذمہ دار لوگ ایسے متنازعہ بیانات دینگے تو پھر گلگت بلتستان کے لوگوں کے دلوں میں ابہام کا پیدا ہونا لازمی امر ہے۔ گلگت بلتستان میں مقامی سطح پر نوکریوں کے دروازے ان کے لئے بند ہیں  ،ہمارے کھوٹے پے بھی دوسرے لوگوں  کو کھپایے گئے ہیں۔بدترین معاشی گھیراؤ کے نتیجے میں گلگت بلتستان کے نوجوانوں نے روزگار کی تلاش میں جب پرائے دیس میں گئے تو ان کو وہاں پر بھی روزگار سے محروم کرنے کے لئے ان پر دہشت گردی کا الزام لگایا  جا رہا ہے،اور ساتھ میں یہ شوشہ چھوڑا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کو اغاخانی سیٹیٹ بنایا جا رہا ہے،اس الزام کی جانچ پڑتال ہونی چائیے اور الزام لگانے والوں کو  مکمل ثبوت فراہم کرنا چائیے،اگر یہ ثبوت پیش نہیں کر سکتے تو ان کے خلاف قانونی کاروائی ہونی چائیے، پرنس کریم آغا خان الحسینی کے خاندان نے اپکو مملکت پاکستان دنیا کے نقشے پے ایک آزاد ریاست بنا کے دیدی،جس کے اپ جیسے نمک حرام مالک بن کے بیٹھے ہیں، ایسے حالات میں ہم ،،جائے تو جائے کہاں،،شاید ہماری حکومت یہی چاہتی ہے ،کہ گلگت بلتستان والے سارے خودکشی کریں کیونکہ ان کو اس دنیا میں جینے کا کوئی حق نہیں ہے،ہندوکش،ہمالیہ اور قراقرم کی سنگم میں پیدا ہونا گناہ کبیرہ ہے۔گزارش ہے ہمیں جینے کا پورا حق دیا جایے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments