خود کشیوں کے روک تھام کا عالمی دن اور گلگت بلتستان

تحریر: اعجاز ہلبی 

محقیقین کا کہنا ہے کہ اگرانسانی عادتیں وقت پر تبدیل نہ ہو تو ضرورتیں بن جاتی ہیں اور یہ ضرورتیں معاشرے کا حصہ ۔ انسان کے عروج و زوال کا دارومدار ان کی عادتوں سے جوڑا ہوتا ہے۔ کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی یا تنزلی کا مطالعہ کرنا ہو تو ماہرین بشریات کے مطابق اس معاشرے میں بسنے والے لوگوں کا راویہ(Attitude)، ان کا تجربہ (Skills) اور علم (knowledge) کو شامل مطالعہ کیا جاتاہے۔ اس تحقیقاتی مفروضے کو سامنے رکھ کر گلگت بلتستان میں خودکشی کی روبہ عروج رجحاں پر غورفکرکرتے ہیں تو ابتدائی ماخذات میں یہ بات سامنے اتیہے کہ خودکشی کے عمل کا موسم سے کو ئی نہ کوئی تعلق ضرور ہے۔خودکشی کے اس عمل کا شدت اپریل کے مہینے سے شروغ ہوکر ستمبر مہینے کے آخر تک رہتا ہے۔ اس عرصے کے دوران تما م ، مفکرین ، مبصرین اور ناقدین اس مسلے کے روک تھام کے لیے حکمت عملی تلاش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اور موسم خزاں کے دہلیز پہ جاکے سب کوششیں غیر فعال ہوجاتی ہیں ۔ موسم سے خودکشی کے ربط کو ذہین میں رکھ کراگر ہم بہت ہی محتاظ انداز فکر اختیار کرتے ہوئے معاشرتی تغیرات کا مطالعہ کرلے کچھ بنیادی محرکات سامنے آجاتے ہیں ۔ ان محرکات کو مختلف یونیورسیٹیز مین باقاعدہ تحقیق کے مراحل سے گزار کر محرک ٹھہرایا بھی گیا ہے۔ تاہم گلگت بلتستان کے سیاق واسباق اور پیرائے میں ان عناصر اور ان کے اثرات کا جائیزہ لینا انتہائی اہم ہے۔

سوئیڈن کی ببپسلہ یونیورسٹی کے پروفیسر فوٹس پاپاڈوپولس نے ۱۲۰۰ خودکشیوں اور موسمی حالات کا جائیزہ لیا اور ان کے تحقیق کے مطابق خودکشیوں کی تعداد اور مریض کے دھوپ میں گزارے ہوئے گھنٹوں کی تعداد میں مماثلت ہے۔ مگر یہ مماثلت اس وقت ختم ہوجاتی ہے جب یہ دیکھیں کہ دھوپ میں گزارے گئے گھنٹے کس موسم میں گزارے گئے ہیں ۔ ڈاکٹر فوٹس پاپاڈوپولس کا کہنا ہے کہ آپ اسے سیروٹونن سے منسلک تھیوری کہ سکتے ہیں ۔ اور اگرآپ موسم سرما میں ہونے والے خودکشیوں کی تعداد یا شرح کو بنیاد بنائے تو موسم بہار میں خودکشیاں۲۰سے ۶۰ فیصد تک بڑھ سکتی ہیں ۔

اس تحقیق کے تناظر میں ہم اپنے گردوپیش کو پرکھ لے تو ایک بات سمجھ میں اجاتی ہے۔ کہ ہم نے گھر میوں میں ننگے سر دوھوپ میں رہنے کا رواج بڑھ گیا ہے آج کل نوجواں مشکل سے سر ڈھانپتا ہے۔ خصوصأموسم بہار میں جب سرما کی گزشت پہ جشن کے طور پر ہم دوھوپ سیجنا پسند کرتے ہیں۔ اور یہی عادت ہمارے اند ر خوکشی کے رجحا ن کو ابھارتا ہے ۔ بہار اور گرما کا موسم کام کاج کا ہوتا ہے اس دوراں آپ بادلنخستہ بھی دوھوپ میں گزارتے ہیں ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خودکشی کا رجحان تو کچھ عرصے سے بڑھ رہاہے لیکن دوھوپ سے وابستگی تو روز اول سے ۔ اس میں تبدیلی کیسے؟ ہاں ہمارے اباواجداد بھی اسی ماحول کا حصہ رہے ہیں اور ان میں یہ رجحان بہت کم تھا ۔ اس کی وجہ انکا لباس تھا۔ وہ ہمیشہ ٹوپی پہنتے تھے ۔ ننگے سر رہننا باعث شرمندگی گردانتے تھے۔ لیکن اگے چل کر سوال یوں بنتا ہے کہ پھر اسکا اثر سب پہ یکساں کیوں نہیں ہوتا؟ اس سوال کا جواب بھی ہم پروفیسر فوٹس پاپاڈوپولس کے تحقیق میں سے ملتا ہے انکا کہنا ہے کہ اس کی ایک ممکنہ وجہ سیروٹونن کی مقدار میں تبدیلی ہے سیروٹونن دماغ میں ایک نیرو ٹرانس میٹر ہے ۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جتنا وقت کوئی شخص دوھوپ میں گزارتا ہے۔ اس کی دماغ میں اتنی ہی سیروٹونن کی پیداوار ہوتی ہے۔ اس لیے اس کی اوسط مقدار گرما میں زیادہ ہوتی ہے۔ اب وہ تمام لوگ جن کے خون میں سیروٹونن کی مقدار پہلے سے زیادہ ہوں اور وہ دوھوپ میں بھی کافی وقت گزارلے تو یہ مقدار انتہائے درجے کو پہنچتے ہیں جہاں انساں انتہائے جزباتی ہوکر خودکشی جیسی حرکت انجام دیتا ہے۔

اس کی دوسر ی محرک یہ بھی ہے کہ ڈپریشن کے مریض جن کا سیروٹونن پہلے ہی سے بے ربط ہو تا ہے۔ اس کیساتھ ساتھ ڈپریشن کی ادویات مین بھی یہ خاصیت موجود ہوتی ہے کہ وہ سیروٹونن کی مقدار کو بڑھادیتے ہیں ۔اور ان کا زیادہ استعمال انسان کو خودکشی پر مجبور کرسکتاہے۔

خودکشی کے بارے میں آجکل بہت سے لوگ لکھتے ہیں ۔ وہ اس مسلے کا حل، اسباب میں دھونڈتے ہیں مثلأ گھریلو جھگڑے، عشق میں ناکامی، والدین کی ناتفاقی، فیس کا نہ ملنا وغیرہ وغیرہ ۔ مگر محرکا ت کو کوئی تلاش نہیں کرتا۔ میں یہاں یہ دعوٰی نہیں کرتا کہ ہم نے جن کو بوتل میں بندکیا۔ ہاں البتہ اس لٹریچر ریویو سے اتنا مطمین ہیں کہ ہماری سمت درست ہے۔ اب یہ کھیل میڈیکل اور نفسیات کے ماہرین کے کورٹ میں ہے۔ ایک عمرانیات کے طالب علم ایسے مضوعات پر اس سے زیادہ کھیلنے کا مجاز نہیں ۔۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments