سلام تجھ کو اے دنیا کے عاشقوں کے امام

تحریرجمشید خان دکھی

اسلامی کیلنڈر کا پہلا مہینہ محرم اسلام سے پہلے ان مقدس مہینوں میں شمار ہوتا تھا جن میں جنگ و جدال بند کردی جاتی تھی اور لڑنا حرام سمجھا جاتا تھا ۔ وہ واقعہ جس میں ابرہہ ہاتھیوں کے لشکر کے ذریعے خانہ کعبہ کو تباہ کرنے آیا اس مہینے میں رونماہوا۔بعض انبیاء سے وابستہ تاریخی واقعات اس مہنیے کی 10تاریخ کو واقع ہوئے ۔خلیفہ دؤم حضرت عمر فاروقؓ جن کی فتوحات کی کثرت ،محاصل کی فروانی ،انتظامات کی خوبی ،ظلم کے انسداد ،عدل و انصاف اور امن و امان کے قیام وغیر ہ کے حوالے سے مثالی دور تھا ،یکم محرم کو انتقال کر گئے ۔نبی کریم ﷺاور خلفائے راشدین کے بعد محرم کا مہینہ مسلمانوں میں تاریخی واقعہ کربلا کی وجہ سے معروف ہوا ۔امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ کی شہادت میدان کربلا میں تاریخی روایات کے مطابق 10محرم 61ھ کو ہوئی تھی ۔محرم کا مہینہ سالانہ آتا ہے لیکن اس میں سوائے روایتی مجالس اور تقاریر کے ہم مسلمان درس کربلا سے استفادہ حاصل نہیں کرتے ۔ہماری دیگر عبادات مثلاً نماز ،روزہ، حج وغیرہ کا بھی یہی حال ہے ۔ہم نماز ،روزہ اور حج کرنے کے رسماًعادی ہوگئے ہیں ۔ اس لئے یہ فرائض ان کی اصل روح کے مطابق ادا نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ دن بہ دن ہماری عبادات بے روح ہوتی جارہی ہیں ۔نماز برائی سے روکتی ہے لیکن بات کیا ہے کہ ہم نماز بھی پڑھتے ہیں اور برائی کے گڑھے میں دھنستے جارہے ہیں ۔حج بیت اللہ کیلئے ہم فرض کی ادائیگی کے علاوہ ہدایت ،بخشش اور حضور پاک ﷺ کی سیرت طیبہ کے نمونے لینے کیلئے جاتے ہیں جبکہ واپسی پر ہمارے ہاتھ میں سوائے جائے نماز اور زم زم کے اور کچھ نہیں ہوتا ،الاماشاء اللہ ۔ہماری عبادات میں وہ ذوق و شوق کیوں نہیں رہا جو ہمارے اسلاف میں تھا ۔ہمارے قول اور فعل میں واضح تضاد ہے ۔ہم نماز میں تو اللہ اکبر کہہ کر یہ ا علان کرتے ہیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے لیکن سلام پھیرنے کے بعد ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں اور دل میں یہی خیال آتا ہے کہ مجھ سے بڑا کوئی نہیں۔ماہ رمضان میں ہم بھوکے پیاسے تو رہتے ہیں لیکن روزہ کا اصل مقصد حاصل نہیں کرپاتے ہیں ۔میرے خیال میں ہمارے قول اور فعل کا یہی تضاد ہماری تباہی اور بربادی کا باعث ہے ۔انبیاء کرام کی بعثت کا ایک بڑا مقصد دنیا سے فرقہ واریت ختم کرنا ہے ۔جو لوگ فرقہ بندی اور فرقہ واریت پھیلاتے ہیں وہ گویا انبیاء کی بعثت کے مقصد کی نفی کرتے ہیں ۔اس لئے اس بات کا فیصلہ خود کیا جاسکتا ہے کہ جو لوگ فرقہ واریت کی تبلیغ و تلقین کرتے ہیں ان کا شمار کن لوگوں میں ہوگا ؟۔ہم آقائے نامدار حضرت محمد ﷺ کو مانتے ہیں لیکن آپؐ کی کسی بات پر عمل نہیں کرتے ہیں ۔کیا یہ میرے آقا ؐکی شان اقدس میں گستاخی نہیں ؟ہم آپ ؐ پر جان قربان کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن آپ ؐ کی پیروی کرنے کیلئے تیار نہیں ۔کیا میرے آقاؐ دنیا میں لوگوں کی جانیں لینے کیلئے اس دنیا میں تشریف لائے ہیں یا رحمت اللعالمین بن کرآئے ہیں ؟ہم دن بہ دن اسلام کے ساتھ مذاق کررہے ہیں اسی لئے غیر مسلم طاقتوں کی نظروں میں ہم مسلمان بھی مذاق بن گئے ہیں ۔یہی کھیل ہم نواسہ رسولؐ ،جگر گوشہ بتول امام عالی مقام حضرت امام حسینؑ کے ساتھ کھیل رہے ہیں ۔درس کربلا یہی ہے کہ دشمن کے خلاف ڈٹ جائیں جبکہ مسلمان ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہیں ۔امام عالی مقام نے بے حیائی ،کرپشن اور جھوٹ کے خلاف جہاد کیا جبکہ ہمارے ہاں ان شعبوں میں دن بہ دن ترقی ہورہی ہے ۔اگر آپ ملازم ہیں اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے سرانجام دے رہے ہیں اور کرپشن نہیں کرتے ہیں تو سادہ سی بات ہے کہ آپ حسینی قافلے کے فرد ہیں ۔اگر آپ دکاندار ہیں اور اسلامی اصولوں کے مطابق تجارت کررہے ہیں تو آپ حسینی ہیں ۔اگر آپ ٹھیکیدار ہیں اورقومی نوعیت کے کام پوری دیانتداری سے پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں تو آپ حسینی ہیں اگر آپ اپنی ذات سے لوگوں کو فائدہ پہنچارہے ہیں اور معاشرے میں نفرتوں کے بجائے محبتیں پھیلارہے ہیں تو یقین مانئے آپ کا تعلق حسینی قافلے سے ہے ۔لیکن بد قسمتی سے ہم مسلمان اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے یزید کا نمائندہ بنتے جارہے ہیں اور تذکرے نواسہ رسول ؐ کے کرتے ہیں جس سے ملت کی کشتی ذلت کے سمندر میں ڈوبتی جارہی ہے ۔قرآن پاک کی آیت کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ ’’مسلمان اگر ہدایت پر ہیں تو دشمن انہیں کچھ ضررنہیں پہنچا سکتا ‘‘۔ آج مسلمانوں کو جگہ جگہ مارا جارہا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہم راہ ہدایت سے بھٹک گئے ہیں ۔ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ہیں ۔ہماری یہی بے عملی ہماری تباہی کا باعث ہے ۔حسین ؑ محبت او راخوت کا نام ہے اور ہم نفرت کے بیج بورہے ہیں ،حسین ؑ سراسر وفا کا نام ہے اور ہم بے وفائی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ،حسین ؑ مرکر بھی زندہ ہے اور ہم جیتے جی مررہے ہیں ،حسین ؑ و ہ ہے جس نے یزید کو للکارا اور ہم وقت کے یزیدی قوتوں سے امداد لے رہے ہیں ،حسین ؑ نے تن تنہا دین کی حفاظت کی ہم ایک ارب سے بھی زیادہیں لیکن قبلہ اول اور چرار شریف کو آزاد نہ کراسکے ،حسین ؑ نے اسلام کے دشمنوں کے خلاف تلور اٹھائی اور ہم آپس میں لڑ رہے ہیں ،حسین ؑ نے انسانیت کی حفاظت کی اورہم انسانیت کے درپے ہیں،حسین ؑ نے مسلمانوں کو جوڑنے کی کوشش کی اور ہم نفرتیں بڑھارہے ہیں ،حسین ؑ کی قربانیوں کی وجہ سے آج ہم مسلمان ہیں اور ہماری وجہ سے لوگ دین سے دور بھاگ رہے ہیں ۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مسلمان محرم کے مقدس مہینے میں اپنی اصلاح کرنے کا عہد کریں اور پھر سے راہ ہدایت کو گلے لگائیں اسی میں کامیابی اور یہی درس کربلا بھی ہے ۔

امام عالی مقام کے حضور ان اشعار کے ساتھ اجازت چاہوں گا:

ہر یزیدِ وقت کو اک خوف دامن گیر ہے
یہ حسین ابن علی ؑ کے نام کی تاثیر ہے
سر کٹانے کے لئے شبیرؓ سا کوئی نہیں
آج پھر شمرِلعیں کے ہاتھ میں شمشیر ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments