گلگت بلتستان میں بجلی کا بحران

تحریر: دردانہ شیر

گلگت بلتستان میں ایک اندازے کے مطابق اربوں روپے خرچ کرکے درجنوں پاور ہاوس تعمیر کئے گئے ہیں اگر اتنی رقم پر گلگت بلتستان کے دریا میں ایک ڈیم بنایا جاتا تو نہ صرف خطے کے عوام کو بجلی کے عزاب چٹکارہ مل سکتاتھا بلکہ اس ڈیم کی تعمیرسے یہاں کی ہزاروں ایکڑ غیر آباد زمین بھی آباد ہوسکتی تھی مگر ایسا اس لئے نہیں ہوا کہ سالانہ یہاں پر کروڑوں روپے کی لاگت سے ایک یا دو میگاواٹ کے بجلی گھر بنتے رہے اور ایک سے دو سال کے بعد کبھی چینل ٹوٹ گیا تو کبھی مشینری جواب دے گئی ایک اندازے کے مطابق اب تک ان مشینوں کی مرمت کی مد میں ہی کروڑوں روپے خرچ ہوگئے ہیں جبکہ ٹرانسفارمر کی مد میں اخراجات الگ ہیں گلگت بلتستان کی حکومت اگر واقعی میں یہاں کے عوام کے ساتھ مخلص ہے تو کم از کم گلگت بلتستان میں کئی بھی دو سو میگاواٹ بجلی کی پیداوار کا کوئی چھوٹا ڈیم بنا سکتی ہے جس سے پورے صوبے میں بجلی کے بحران پر قابو پایا جاسکتا ہے اس طرح کے چھوٹے پاور ہاوس تعمیر کرکے بجلی فراہم کرنے اور لوڈشیڈنگ سے چٹکارہ حاصل کرنے کی باتیں کرنے والے افراد کی سوچ میری نظر میں دیوانے کے خواب کے علاوہ کچھ نہیں گرمیوں کے موسم میں پانی کے بہاو میں اضافے اور چینل کے سربند ٹوٹ جانے کی وجہ سے بجلی بند ہوتی ہے اور سردیوں میں پانی کم ہے کا بہانہ کرکے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے ہمارے دریاوں میں پانی کی کوئی کمی نہیں ہے مگر اس کے لئے حکمرانوں کو ایک دفعہ اس خطے میں ایک ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے ضرور سوچنا ہوگا چونکہ گلگت بلتستان میں اس وقت جس انداز میں ہمارے گلیشیرز ٹوٹ رہے ہیں اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو بہت جلد یہاں کے دریاوں میں پانی کی کمی ہوگی گلگت بلتستان کے گلیشیرز کو اگر بچانا ہے تو یہاں کے عوام کو حکومت پاکستان فوری طور پر گیس اور بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے چونکہ گلیشیرز ٹوٹنے کی اصل وجہ بلیک کاربن بتا یا جاتا ہے لکڑی کے دھوے سے سب سے زیادہ نقصان گلیشیرزکوپہنچتا ہے چونکہ گلگت بلتستان کے نوے فی صدعوام اس وقت سوختنی لکڑی استعمال کرتے ہیں جو گلیشیرز کے لئے سخت نقصان دہ ہے گلگت بلتستان حکومت کی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ عوام کو بجلی کے ساتھ ساتھ گیس کی فراہمی کو بھی یقینی بنائے تاکہ ہم اپنے تیزی ٹوٹ جانے والے گلیشیرز کو بچا سکے اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہمارے تمام گلیشیرز پھگل جائینگے اور ہمیں پینے کے پانی کا حصول بھی مشکل ہوجائیگا اس وقت گلگت بلتستان میں درجنوں ایسے ایریاز موجود ہیں جہاں پر بہت ہی کم لاگت سے ڈیم تعمیر کئے جاسکتے ہیں اگر گلگت بلتستان میں لگائے لگے پاور ہاوس کی مشینری اور چینل کی مرمت اور دیکھ بال کا ہی سالانہ خرچ کو ہی دیکھا جائے تو وہ کروڑوں میں ہوگا جو ڈیذل جنریٹر چل رہے ہیں ان کا دھوا بھی یہاں کے گلیشیرز کے لئے نقصان دہ بتایا جاتا ہے موجودہ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی ملک میں ڈیم بنانے کے لئے جو انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں اس حوالے سے گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت بھی خطے میں چھوٹے چھوٹے پاور ہاوس کی تعمیر پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کی بجائے ایک بار خطے میں چھوٹا ڈیم تعمیر کر دیں تاکہ علاقے کے عوام کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عزاب سے چٹکارہ مل سکے اس کے علاوہ گیس کی سپلائی کے لئے بھی حکومت کو اقدامات اٹھانے ہونگے بتایا جارہا تھا کہ چائینہ سے روڈ کے ساتھ ساتھ گیس کی پائپ لائن بھی بچھائی جائیگی تاحال اس میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی گلگت بلتستان میں عوام کو گیس کی سپلائی نہ ملنے کی وجہ سے سالانہ لاکھوں کی تعداد میں درخت کٹ رہے ہیں اور یہاں کے عوام ان درختوں کو کاٹ کر اپنے لئے ہنزم سوختنی کے کام میں لاتے ہیں سردیوں میںیہاں لہو جمانے والی سردی ہوتی ہے جس وجہ سے یہاں کے عوام اپنے پھیلدار و غیر پھلیدار درخت کاٹ کر اس کوسوختنی لکڑی کے کام لانے پر مجبور ہیں گلگت بلتستان میں سالانہ جو پودے لگائے جاتے ہیں ان سے زیادہ درختوں کی کاٹائی ہوتی ہے موجودہ حکومت نے گرین پاکستان کا جو نعرہ لگایا ہے اس پر تمام پاکستان کے عوام نے خوشی کا اظہار کیا ہے اگر گلگت بلتستان کو بھی سرسبز بنانا ہے اور یہاں کے درختوں کو بچانا ہے تو وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کو یہاں کو عوام کے لئے سب سے پہلے بجلی اور گیس کی فراہمی کو یقینی بنانی ہوگی اگر ایسا نہ ہوا تو یہاں پر سالانہ لاکھوں کی تعداد میں درخت کٹتے رہے نگے اور جلائی جانے والی لکڑی سے ہمارے گلیشیرز کو نقصان پہنچتا رہے گا جس سے پانی میں کمی ہوگی ہمارے کاشت شدہ زمینوں کو پانی فراہم نہیں ہوگا اور ہمیں خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا جو کسی طرح بھی ملک وقوم کے لئے نیک شگون نہیں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments