بالائی یاسین قرقلتی کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم، مایوسی کے عالم میں‌شہروں‌کی طرف ہجرت میں‌تیزی

یاسین (معراج علی عباسی ) یاسین کے بالائی سیاحتی علاقہ قرقلتی کے عوام زندگی کے تمام ترسہولیات سے یکسرمحروم ہے ۔علاقے میں بنیادی سہولیات کے عدم دستیابی کے باعث لوگ علاقہ چھوڑ کر شہری علاقوں کے جانب سے ہجرت کرنا شروغ کیا گزشتہ چندسالوں کے دوران یاسین کے سیاحتی علاقہ قرقلتی سے 40گھرانے اپنے آبائی گھرچھوڑ کر گاہکوچ اور گلگت منتقل ہوچکے ہیں ۔1998کے مردوشماری کے مطابق قرقلتی میں 120گھرانے آبادی تھیں جبکہ 2017کے مردوشماری میں علاقے میں صرف 80گھرانے رہ گئیں ہیں ۔یاسین کے معروف سیاسی و سماجی شخصیت جاویداقبال کے مطابق علاقے میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث صاحب طاقت لوگ تیزی کے ساتھ آبائی علاقے کو چھوڑ کر سہولیات کے تلاش میں شہری علاقوں کے جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ علاقے میں صحت ،تعلیم ،سڑک اور کمونیکیشن کی سہولت دستیاب نہیں ہے ۔قرقلتی کے عوام آج بھی زمانے قدیم کے 12فٹ کے کچا جیب ایبل روڑ پر سفرکررہے ہیں ۔قرقلتی برداس کے مقام پر لکڑی کی جیب ایبل پل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکررہ گئی پل ے خستہ حالی کے باعث کسی وقت ٹریفک حاثہ ہونے کا اندیشہ ہے ۔ علاقے میں حکومت حکومت کے جانب سے عوامی مفاد وعلاقائی ترقی کے لیے تعمیرہونے والے اہم منصوبوں میں ایک پرائمری سکول اور ایک عد د سی کلاس ڈسپنسری کے علاوہ کوئی دوسرا سرکاری ادارہ موجود نہیں ہے ۔ آغاخان ایجوکیشن سروسز کے جانب سے تعمیرکردہ ڈی جے پرائمری سکول میں اساتذہ کی کمی اور دیگرسہولیات کے عدم دستیابی کے باعث سکول میں بچوں کی تعداد ختم ہوچکی ہیں ۔ علاقے میں کمونیکیشن کے سہولیات نہ ہونے کے باعث لوگ آج بھی اپنے عزیزواقارب سے رابطے کے لے قدیم زرائع کیمونیکشن خط لکھتے اور خط کا انتظار کرتے ہیں ۔ علاقے کے عوام آج کے جدید اور تیز رفتار دور میں بھی پتھرکے زمامے میں جینے پر مجبور ہیں ۔قرقلتی کے بیشترلوگوں کا روزگار گلہ بانی کے ساتھ منسلک ہے علاقے میں وٹرنری ڈسپنسری نہ ہونے کے باعث لوگوں کے مال موشی مختلف بیماریوں کے باعث ہرسال بغیرعلاج کے مررہے ہیں ۔قرقلتی کے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے اگراس پسماندہ علاقے کے جانب توجہ نہ دیا تو بہت جلدپورا علاقے انسانی آبادی سے خالی ہوگی اور زمانے قدیم سے آباد علاقہ ویرانے میں تبدل ہوگا۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments