قرآن و سنّت کی تفہیم 

قرآن و سنّت کی کی تفہیم کو آسان زبان میں تعلیمات اسلامی کی سمجھ کا عنوان دیا جا سکتا ہے پشاور کے خا موش طبع اور تنہا ئی پسند عا لم دین مو لا نا محمد اسما عیل نے قرآن و سنّت کا 8روزہ کورس متعارف کرا یا تو بعض حلقوں نے سوال اٹھا یا کہ قرآن و سنّت کی تعلیما ت کو سیکھنے او ر سمجھنے میں ہمارے بز گوں نے عمریں صرف کیں 8دنوں میں اس بحر ذخار کا احا طہ کس طر ح ہو سکتا ہے؟ اس پر کسی نے مو لانا احمد علی لا ہو ریؒ کا مشہور قول ہے اگر میں نے ریل کے پائیدان پر قدم رکھا ہو ، سیٹی بج چکی ہو، ریل روانہ ہونے میں چند دقیقے با قی ہوں اس حال میں کوئی مجھ سے قرآن و سنّت کی تعلیمات کا سوال کرے تو میں قرآن و سنّت کی پوری تعلیم اس کو پیش کرونگا ریل روانہ ہونے سے پہلے سائل کو اس کے سوال کا پورا پورا جواب مل چکا ہو گا لوگوں نے عرض کیا یہ کیونکر ممکن ہوگا؟ حضرت نے فر مایا قرآن و سنّت کی تعلیمات کا خلاصہ تین با توں کا ایک ہی جملہ ہے “عبادت اللہ کے لئے اطا عت رسول اللہ کے لئے اور خد مت مخلوق خدا کے لئے” 3باتوں کا یہ ایک جملہ اگر پھیل جائے تو پوری عمر بھی لے لیتا ہے سکڑ جائے تو 8روزہ کورس میں بھی سما جا تا ہے مو لا نا اسما عیل کا تا زہ ترین پروگرام فہم قرآن و سنّت کے حوالے سے خیبر پختونخوا کے شمالی ضلع چترال میں رکھا گیا تھا اور چترال کے قدیمی پو لو گراونڈ میں ایسا پنڈال سجا یا گیا تھا جس میں خواتین کے لئے الگ اور مر دوں کے لئے الگ جگہ مختص کی گئی تھی سوا گھنٹے کی کلاس میں ہر روز ایک مو ضوع زیر مطا لعہ آتا تھا اس مو ضوع پر آیا ت مبا رکہ احا دیث شریفہ اور آثار صحا بہ کو جدید دور کے تقا ضوں کی روشنی عام فہم زبان میں پیش کیا جا تا تھا مشتاق احمد یوسفی کا قول ہے کہ “حا لات حا ضرہ پر گالی دیئے بغیر کوئی تبصرہ کر سکے تو وہ یقیناًولی کا مل ہو گا ” ولا یت کا ملہ کا یہ درجہ مو لانا اسما عیل کو مل سکتا ہے کیونکہ وہ دھیمے لہجے میں حا لت حا ضرہ پر بھی تبصرہ کر تے ہیں قرآن و سنّت کی تعلیمات کو بھی حا لات حاضرہ کے تنا ظر میں بیان کر تے ہیں اور یہ ملکہ ہر کسی کو عطا نہیں ہو تا ”ایں سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشند ہ”امیر جما عت اسلامی چترال مو لانا جمشید احمد اور ان کے رفقاء نے 8دنوں تک علوم قرآن و سنّت کے متلاشیوں کی خدمت کا فریضہ انجام دیا 8روزہ کورس 8مو ضو عات پر مشتمل تھا پہلا عنوان تھا ” اللہ کے کلام کی شان “دوسرے دن کا عنواں تھا “مثالی اسلامی معا شرہ “تیسرا عنواں تھا خواتین اسلام کی امتیازیشان ، چوتھا عنوان تھا انفاق فی سبیل اللہ ، پانچواں عنواں تھا نفاذ شریعت اور ہماری ذمہ داریاں ، چھٹا عنواں تھا شیطانی فتنے اور نجا ت کا راستہ ، ساتواں عنواں تھا مالی بد عنوانی اور اس کا انجام ، آٹھواں عنواں تھا فکر آخرت ،تمام عنوا نات عصر حا ضر کے عوام ، خواص ، خواتین و حضرات اور خصو صاًنئی نسل کے لئے خصو صی اہمیت کے حا مل تھے پہلے دن سورہ طٰہ ٰ کی ابتدائی 7آیتوں کے ساتھ احا دیث مبارکہ اور آثار صحا بہ کی مدد سے اللہ کے کلام کی شان کو سہل اور عام فہم زبان میں بیان کیاگیا دوسرے دن سورہ الحجرات آیت 9تا 15کی تفسیر بیان کی گئی جس میں اسلامی معا شرہ کی خصو صیات کا ذکر ہے مروت ،محبت ، رواداری اور صلح جوئی کی اہمیت کو اجا گر کیا گیا ہے تیسرے روز اسلام میں خواتین کی امتیازی شان کے حوالے سے گفتگو کا آغاز سورہ احزاب کی آیات مبا رکہ 35تا 36کی تفسیر سے کیا گیاان آیات میں مسلمان خواتین کی خصو صیات اورصفات جمیلہ کا ذکر آیا ہے اسی طرح سورہ احزاب کی آیت 59میں امّہات المو منین کی صفات کا بیان آیا ہے چو تھے روز کا درس سورہ بقرہ کی آیات کریمہ 267تا 274کی تفسیر سے شروع ہوا ان آیات کریمہ میں اللہ تعا لیٰ نے راہ خدا میں مال خرچ کرنے کی مثال اس دانے کی طرح قرار دیا ہے جو زمین میں بو یا جائے تو اس کا خو شہ 100دانوں پر مشتمل ہو تا ہے یعنی ایک کے بدلے میں 100دانے آجا تے ہیں یہی حال راہ خدا میں خرچ ہونے والے مال کا ہے پانچویں روز مولانامحمد اسما عیل نے اپنا درس سورہ المائدہ کی آیات مبارکہ 44تا 50کی تفسیر سے شروع کیا ان آیات مقدسہ میں نفاذ شریعت کے حوالے سے انبیائے کرام ، امت محمدیہ اور علمائے دین کے ساتھ عام مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کا ذکر آیا ہے اور نفاذ شریعت کو بعثت نبو ی کا اصل مقصد ٹھہرا یا گیا ہے اس حوالے سے چھٹے روز کا درس نفاذ شریعت کی راہ میں حا ئل رکا وٹوں کا احا طہ کر تا تھا سورہ آل عمران آیت 14تا 20میں شیطانی فتنوں سے پر دہ اٹھا یا گیا ہے اور نجا ت کا راستہ دکھا یا گیا ہے ساتویں دن کا درس شیطا ن کے ایک اہم فتنے کے بارے میں تھا یعنی مالی بد عنوانی کا انجام ، سورہ ھود آیت 83تا 95میں حضرت شعیب ؑ کی قوم کا واقعہ بیان ہوا ہے یہ وہ قوم تھی جو مالی بد عنوانی اور ہیر ا پھیری میں ملوث تھی اس طرح سورہ مطففین آیت 1تا 6میں بھی مالی بد عنوانیوں سے خبر دار کیا گیا ہے آٹھویں روز کا درس فکر آخرت کے حوالے سے تھا سورہ یٰسین کی آیت مبارکہ 51تا 83کی تفسیر سے درس کا آغاز ہوا ان آیات میں قیامت کے دن کا احوال آیا ہے جب مجرموں سے کہا جائے گا کہ الگ ہو جاؤ ، جس دن آدمی کی زبان پر مہر لگ جائیگی اور اس کے ہاتھ پاوں اس کے کر تو توں کی گواہی دینگے قرآن و سنّت کی تفہیم کا یہ ہفتہ اجتماعی دعا کے ساتھ اختتام پذ یر ہوا تو شر کاء نے قرآن فہمی کے نئے جذبے اور ولولے کے ساتھ اپنے معمولات کی طرف رجوع کیا

بمصطفٰے بر ساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست

گر با و نر سیدی تمام بولہبی ا ست

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments