گلگت بلتستان کے ’براہمداغ‘

تحریر: فہیم اختر

یہ گزشتہ سال اکتوبر کی بات ہے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک نوجوان نے رابطہ نمبر مانگ لیا ، وجہ پوچھی تو بتایا کہ ایک خبر چھپوانی ہے ، مقامی اخبارات کے ساتھ اکثر یہ معمول رہتا ہے کہ کسی صحافی تک رسائی حاصل کرکے خبر چھپوائی جاتی ہے جسے عام الفاظ میں ’بیان ‘ کہا جاتا ہے ، تھوڑی ہی دیر میں وٹس ایپ کے ذریعے مذکورہ ’بیان‘ پہنچ گیا جو کہ بیان سے زیادہ ”خبرناک ‘تھی، جس کے مطابق حمید گروپ کے مرکزی رہنما آفاق بالاور ، کراچی ڈویژن کے صدر شجاعت سمیت تمام کارکنان نے تنظیم سے لاتعلقی کااظہار کردیا اس لاتعلقی میں معروف قوم پرست رہنما سید حیدر شاہ رضوی کابیٹاسید مہدی شاہ بھی شامل تھا۔ اس کہانی میں سید مہدی شاہ کا موقف تھا کہ ’عبدالحمید ‘،جو ملک بدر مگر تنظیمی امور میں سرگرم عمل ہیں،قوم پرست نہیں بلکہ قوم فروش ہے ، انہوں نے میرے والد کو بھی استعمال کیا ہے اور جب بستر مرگ پر علیل تھے تو انہوں نے فون کرکے پوچھا تک نہیں اور بعد میں تعزیت تک نہیں کی ہے ۔ مرکزی رہنما آفاق بالاور کا کہنا تھا کہ حمید گروپ قوم پرستی کا رانگ نمبر ہے ہم سیاسی کارکن تھے اور سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے تھے مگر عبدالحمید گروپ عسکری ونگ کی جانب بڑھ رہا ہے جس کا ہمیں علم نہیں تھا ، یہ گروہ گلگت بلتستان کے حقوق کے نام پر ملک دشمن ممالک سے کاروبار کرتے ہیں۔ اس لاتعلقی میں آفاق بالاور، شجاعت کھرمنگی سابقہ صدر بی این ایس او کراچی ، گوہر گوجالی سابقہ جنرل سیکریٹری بی این ایس او کراچی ، فراست نگری فنانس سیکریٹری ، ساجد استوری میڈیا انچارج ، افتخار نگری نائب صدر اور سید مہدی شاہ (فرزندسیدحیدرشاہ رضوی)شامل تھے ۔مجھ تک اپنا موقف پہنچانے والا خود آفاق بالاور تھا۔

آفاق بالاور گلگت بلتستان کے قوم پرست حلقوں میں نامی گرامی تھا، لاہور اور کراچی میں سرگرم عمل تھا ، سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی سیاسی جدوجہد اور سرگرمیوں کا علم رہتا تھا، ذاتی تعارف نہیں تھا ، تعلیمی اداروں میں گلگت بلتستان کے کلچر کو فروغ دینے ، نمائندگی کرنے اور سیاسی مظاہروں میں گلگت بلتستان کی آواز کو پہنچانے کے لئے ہمہ وقت تیار نظر آتا تھا۔ کچھ عرصے کے بعد معلوم ہوا کہ آفاق بالاور گلگت کی جیل میں مقید ہیں، فرصت نہ ملنے کی وجہ سے نہیں جاسکا ۔ جیل سے رہائی کے بعد کاغذات کی گمشدگی کا ایک اشتہار لیکر آفاق بالاور نے دوبارہ رابطہ کیا ۔ اس ملاقات میں آفاق بالاور نے انکشاف کیا کہ جس دن آپ کو خبر بھیجی تھی اس وقت میں افغانستان میں موجود تھا ، آفاق بالاور نے جو انکشافات گزشتہ دنوں پریس کانفرنس میں کئے تھے اس کی لمبی کہانی سنائی ، جس کا اکثیر و بیشتر حصہ پریس کانفرنس کی خبروں کے ذریعے اخباروں کی زینت بن چکا ہے ۔ آفاق بالاور کو میں نے مشورہ دیا تھا کہ اپنے زہن کے مطابق آپ حقوق کی بات کریں اور جدوجہد کو جاری رکھیں اور بہتر یہی ہوگا کہ پریس کانفرنس نہیں کریں۔

آفاق بالاورنے پریس کانفرنس میں جہاں اپنے آنکھوں دیکھا حال سے بذریعہ میڈیا قوم کو آگاہ کیا وہی پر انہوں نے اس بات کی بھی تقریباً تصدیق کرلی کہ چند روز قبل محمد مالک اور لیفٹنٹ (ر)امجدشعیب نے جو انکشافات کئے تھے ان میں صداقت ہے ۔ قارئین کو یادہوگا کہ چند روز قبل 92نیوز کے اینکر محمد مالک اور لیفٹنٹ (ر) امجد شعیب نے گلگت بلتستان کے حوالے سے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ گلگت بلتستان سے کچھ لوگوں کا ہندوستان سے تعلقات ہیں۔آفاق بالاور نے کہا کہ ہندوستانی لابی سے سب سے زیادہ تعلقات ’سنگے حسنین ‘کے ہیں، اور ان انکشافات کا عمومی اشارہ سنگے حسنین کی جانب ہی ہوسکتا ہے ، سنگے حسنین جی ایم شگری (سابق پرسنل سیکریٹری وزیراعلیٰ پنجاب ) کے بیٹے ہیں ، ملک سے باہر رہتے ہوئے گزشتہ ایک لمبے عرصے سے وہ گلگت بلتستان کے حقوق کی آڑ میں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔

پریس کانفرنس کا لب و لباب یہی تھا کہ مجھے دھوکہ دہی کے زریعے افغانستان پہنچادیا گیا جہاں سے جنیوا بھجوانے کی بھی تیاری مکمل کی گئی تھی اور مجھے یہ ٹاسک دیا گیا تھا کہ میں گلگت بلتستان سے ایسے لوگوں کو جمع کروں جو افغانستان سے عسکری تربیت حاصل کرنے کے بعد گلگت بلتستان میں جاکر عسکری کاروائیاں کرسکیںگے جن کا سب سے بڑا ہدف سی پیک ہوگا۔ جن شخصیات کا نام لیا ان میں سب سے بڑا نام ’عبدالحمید خان‘ کا تھا ، جو اگرچہ گلگت بلتستان کا پیدائشی ہے مگر گزشتہ لمبے عرصے سے وہ ملک بدرہیں۔ کہنے کو وہ مختلف فورموں میں گلگت بلتستان کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن درحقیقت وہ پاکستان دشمن عناصر کے ساتھ اپنی ڈیل مکمل کرچکے ہیں۔ عبدالحمید خان کا طریقہ واردات ایک تو یہی ہے کہ گلگت بلتستان سے سرگرم نوجوانوں کو اٹھاکر وہی سلوک کریں جو اس نے آفاق بالاور کے ساتھ کیا ہے ۔ دوسرا طریقہ واردات ان کا یہ ہے کہ وہ سوشل میڈیا اور گلگت بلتستان کے مقامی اخبارات کی ’مانیٹرنگ ‘کرتا ہے جہاں کہیں پر انہیں ’آئینی حقوق‘ کے حوالے سے خبر ملتی ہے اسے وہ اپنی پریزینٹیشن کا حصہ بناتا ہے اور بین الاقوامی فورموں میں یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے ہیں۔ مانیٹرنگ میں ان کا طریقہ کار یہ بھی ہے کہ جہاں کہیں سے بھی احتجاج کی تصویریں نکلتی ہے وہ انہیں اپنا ڈیٹا بناتا ہے ، گلگت بلتستان میں ’اظہار رائے کی آزادی ‘ کا سہارا لینے والے شاید یہ نہیں جانتے ہیں کہ ان کی ہر حرکت کو ملک دشمن قرار دیکر عبدالحمید خان جیسے لوگ ’کیش ‘ کراتے ہیں۔ عبدالحمید خان کے مضامین میں ایسے لوگوںکا بھی زکر ہیں جو ’پروپاکستانی ‘ ہیں، انہوں نے اپنے ایک مضمون میں گلگت بلتستان اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے رکن جاوید حسین کا بھی زکر کیا ہے اور ان کی ایک پریس کانفرنس کو بھی ملک دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔ گلگت بلتستان میں آئینی حیثیت کے تعین، آئینی حقوق کی عدم دستیابی اور متنازعہ حیثیت کے ’پروپیگنڈے ‘ کی وجہ سے جہاں پر نوجوان نسل تشویش میں مبتلا ہوچکی ہے وہی پر ان سرگرمیوں کو ملک دشمنی کے طور پر عبدالحمید جیسے لوگ استعمال کررہے ہیں۔

آفاق بالاور نے بتایا کہ جب گلگت بلتستان میں کرنل (ر) نادر کی گرفتاری ہوئی تو ہم نے کراچی میں احتجاج ریکارڈ کرانے کا فیصلہ کیا ، اس سلسلے میں ان کے حقیقی بھائی کرنل (ر) وجاہت سے رابطہ کیا ، جس پر کرنل (ر) وجاہت کا موقف تھا کہ میرے دانتوں کا علاج چل رہا ہے لہٰذا آپ لوگ خود ہی اس کا اہتمام کریں، حقیقی بھائی کے اس جواب سے نوجوان قوم پرست رہنما سخت مایوس ہوا اور احتجاج واپس لینا کا فیصلہ کرلیا جس پر چند حلقوں سے دوبارہ اکسایا گیا کہ آپ کے قائد اعظم کے بیٹے کو گرفتار کیا گیا ہے اور آپ لوگ خاموش بیٹھے ہیں۔ آفاق بالاور کے مطابق کرنل (ر) نادر اور ساتھیوں کی گرفتاری پر ہم نے احتجاج ریکارڈ کرایا جس کے بعد کرنل (ر) وجاہت نے رابطہ کیا اور کہا کہ ’احتجاج کی ساری تصویریں اور ویڈیو فوٹیجز مجھے بھجوائی جائیں‘۔ کرنل (ر) وجاہت کا طریقہ واردات یہ تھا کہ وہ اگرچہ خود احتجاج میں شریک بھی نہیں تھا، احتجاج کے لئے تعاون بھی نہیں کیا مگر وہ بھی تصویروں اور فوٹیجز کو اپنے ’پریزینٹیشن ‘ کا حصہ بناتے ہیں۔

گلگت بلتستان میں قوم پرستی کی اس داستان سے مجھے اپنے موقف کی تائید ملتی گئی جس کااظہار ’زمین متنازع ہے یا عوام ‘ میں بھی کیا تھا کہ علاقائی حقوق کے نام پر کچھ لوگوں نے قوم کو چند ٹکوں کی خاطر بھیج دیا ہے جس نے سنجیدگی سے مسائل پر گفتگو کرنے اور تحریک چلانے والوں کے لئے راستے میں پتھر اور کانٹے بچھادئے ہیں۔ آفاق بالاور کو پریس کانفرنس سے منع کرنے کی تجویز اسی لئے دی تھی کہ اس کے بعد قوم پرست حلقے انہیں شک کی نگاہ سے دیکھیںگے ، ان کی پریس کانفرنس کے ساتھ ہی کچھ لوگوں کے فیس بک پر دھواں اٹھنا شروع ہوگیا۔ گلگت بلتستان کے عوام کے لئے آئینی حقوق کی فراہمی کے لئے سپریم کورٹ آف پاکستان میں کیس زیر سماعت ہے اور بڑی تیزی سے اس کی سماعت ہورہی ہے اور ابھی لارجر بنچ بھی تشکیل دیا گیا ہے جس سے امید ہے کہ آئینی تحفظ کا معاملہ حل ہوگا جس سے نہ جانے کتنوں کی دوکانیں بند ہوںگی۔ گلگت بلتستان میں اگر آفاق بالاور جیسے علاقائی حقوق کے لئے سنجیدہ لوگ ہیں تو ریاست ان کو بھی محفوظ راستہ دیدیںوگرنہ کوئٹہ،چمن اور افغانستان سے انسانی سمگلنگ روکنا تو شاید مشکل ہی ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments