یاسین انٹر کالج ٹھیکیداروں کی بے ایمانیوں‌کا شکار، دس سال بعد بھی عمارت نامکمل

یاسین(معراج علی عباسی) محکمہ تعمیرات عامہ کی عدم توجہی اور ٹھیکیدار کی مجرمانہ غفلت کے باعث انٹر گرلز کالج طاؤس یاسین کے عمارت کھنڈرات کو منظر پیش کرنے لگی ۔ کروڑوں کی لاگت سے تعمیر ہونے والا منصوبہ تکمیل سے قبل ہی اپنے انجام کو پہنچنے لگا ہے ۔ سیاسی مداخلت اور ٹھیکیدار کے اثر و رسوخ کے باعث یہ منصوبہ التوا کا شکا ر ہے۔ عمارت کی تعمیر مکمل ہونے سے قبل ہی ٹھیکیدار نے محکمہ تعمیرات عامہ سے ملی بھگت کرکے تمام فنڈز ہڑپ کرلئے ۔ 350 سے زائد طالبات کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ۔ کالج بلڈنگ کی نہ تو دروازیں اور نہ ہی کھڑکیاں لگائی گئی ہیں ۔سخت سرد موسم میں بچیاں ننگے فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں ۔ عوامی حلقوں کی جانب سے گرلز انٹر کالج طاوس کی عمارت میں مبینہ گھپلوں کی تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے ڈی سی غذر نے ایکسین تعمیرات عامہ غذر کے ساتھ مل کر اس منصوبے کی تکمیل میں درپیش تمام رکاوٹیں دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں نام کسی اور ٹھیکیدار کا ہے اور کام کسی اور ٹھیکیدار نے کیا ہے جس ٹھیکیدار نے کام کیا ہے اس کا سیاسی اثر رسوخ ہونے کے باعث یہ منصوبہ تکمیل سے قبل ہی اہنے انجام کو پہنچ گیا ۔ کھڑکیاں اور دروازوں کے علاوہ چھتوں میں ہارڈ بورڈ بھی نہیں لگایا گیا ہے ۔ انٹر گرلز کالج طاوس کی عمارت آئی ڈی پیز کے لئے عارضی طور پر تعمیر کئے گئے شلٹرز کی طرح ہوکر رہ گئی ہے بچیوں کے والدین نے چیف سیکرٹری گلگت بلتستان ، سیکرٹری تعمیرا ت عامہ گلگت بلتستان ڈی سی غذر و دیگر حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انٹر گرلز کالج طاوس یاسین کی عمارت کی تعمیر میں بے ضابطگیوں اوملی بھگت کے زریعے منصوبے کو ناکام بنانے والے عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے اور عمارت کی تعمیر فوری طور پر مکمل کرکے سخت سرد موسم سے قبل بچیوں کو بہتر ماحول میں حصول تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments