دیامر:‌ دہشتگردی، سکولوں‌کو جلانے میں‌ملوث 22 افراد پولیس کی حراست میں، 65 کو رہا کیا گیا ہے

گلگت: انسپکٹر جنرل پولیس گلگت بلتستان ثناء اللہ عباسی کی صدارت میں پولیس ہیڈ کوارٹرز میں دیامر آپریشن کے حوالے سے اجلاس ہوا۔ جس میں ایس ایس پی دیامر رائے اجمل نے اب تک کی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ داریل ، تانگیر اور چلاس میں مختلف ملزمان کے خلاف 25 مقدمات قائم کئے گئے ۔ ان میں 87مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا جن سے جے آئی ٹی نے تحقیقات کر کے22افرادکو سکولوں کو جلانے اور دیگر تخریبی کاروائیوں میں ملوث قرار دیا جبکہ باقی 65افراد کو پوچھ گچھ کے بعد رہا کردیا ۔ اس طرح تما م مقدمات ٹریس کر لئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پولیس دیگر دہشت گردوں کی گرفتاری کے لئے سرگرم عمل ہے۔ ایس ایس پی رائے اجمل نے کہا دیامر پولیس کو security equipments اور ٹرانسپورٹ کی کمی کے پیش نظر مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے اپنے ڈیمانڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈبل اور سنگل کیبن گاڑیاں 10عدد ، جیمر گاڑیاں 02عدد ، موبائل سکینر 02عدد اور ایک عدد BDگا ڑ ی کی بھی ضرورت ہے۔ Security equipments کے حوالے سے کہا کہ ڈرون کیمروں ، ٹینٹ ، سلیپنگ بیگس ، تھورایا سیٹس ، ایگلوز ، این وی جی ایس اور واک تھرو گیٹس کی اشد ضرورت ہے۔ رائے اجمل نے ضلع دیامر میں پولیس فورس کی ڈیپلائمنٹ کے حوالے سے اعداد و شماربھی پیش کئے ۔ پولیس سربراہ نے بریفنگ کے اختتام پر کہا کہ دیامر پولیس کو درپیش مسائل کے حل کے لئے فوری اقدامات کئے جائینگے۔ثناء اللہ عباسی نے پا ک فوج ، حساس اداروں اور کمیونٹی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مذکورہ بالا ملزمان کی گرفتاری میں تعاون کیا۔ اجلاس میں ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز گوہر نفیس، اے آئی جی تنویر الحسن ، اے آئی جی آپریشنز محمد جمیل، اے آئی جی سپیشل برانچ حنیف اللہ خان ، ایس ایس پی دیامر رائے اجمل ، ایس ایس پی میر طفیل اور دیگر آفیسران نے شرکت کی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments