چلاس کے نواحی گاوں‌ہڈور چھکھن میں‌جنگلات کا قتلِ‌عام جاری

چلاس(تجزیاتی رپورٹ: محمد قاسم) جنگل و جنگلی حیات سے مالا مال چلاس کے نواحی گاوں ہڈور چھکھن میں ٹمبر مافیا بے لگام۔جنگلات کا بےدریغ قتل عام شروع۔مقامی افراد نے ایک دوسروں کی ضد میں آکر بغرض کاروبار  کائل کے سینکڑوں درخت کاٹ کر ہزاروں فٹ عمارتی لکڑی حاصل کر لی۔ جب کہ محکمہ جنگلات چلاس خاموش تماشائی۔

تفصیلات کے مطابق چلاس ہوڈر میں کائل دیوار اور فر کے قدرتی جنگلات کے گھنے جنگلات موجود ہیں۔ گرمائی علاقہ چھکھن میں جنگلی حیات بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں اور اس کی خوبصورتی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ مگر یہ خوب صورت علاقہ محکمہ جنگلات چلاس کی غفلت،لاپرواہی اور مقامی ٹمبر مافیا کی ہٹ دھرمی کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔ یہ جنگل اس وقت ٹمبر  مافیا کی آماجگاہ بن گیا ہے۔ مقامی افراد جدید کٹر مشینری کی مدد سے سینکڑوں درخت روزانہ کاٹ کر عمارتی لکڑی حاصل کر رہے ہیں۔

واضع رہے کہ حکومت گلگت بلتستان نے دیامر کے قدرتی جنگلات کی حفاظت کے لئے محکمہ جنگلات دیامر کو فرنٹئر فورس کی افرادی قوت مہیا کر رکھی ہے،تاکہ جنگلات کی کٹائی کی روک تھام ممکن ہو، اور ملوث افراد کے خلاف بروقت اور فوری کاروائی کی جائے۔

افرادی قوت اور وسائل فراہم کرنے کے باوجود بھی جنگلات کی کٹائی کرنے والے عناصر کو گرفتار نہ کرنا اور روک تھام کے لیے کردار ادا نہ کرنا محکمے کی غفلت اور لاپرواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔عوامی حلقوں نے گلگت بلتستان حکومت سے جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی روک تھام اور ٹمبر مافیا کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments