شنکر گڑھ استور کے مکین برفباری سے پریشان، جلانے کی لکڑی کی شدید قلت

استور ( سبخان سہیل) استور کے بالائی علاقے شنکرگڑھ یونین   کی عوام شدید برفباری کے باعث شدید پرشان ہیں ہمارے بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہے اچانک ہونے والی برفباری ہمارے لیے کسی طوفان سے کم نہیں سابق ممبر یونین کونسل شنکرگڑھ عبدالطیف، محمد نذیر، محمد عالم ،قاری سمیت دیگر عمائدین کا صحافیوں سے گفتگو۔انھوں نے مزید کہا کہ ہر سال ہم اکتوبر نومبر میں سردیوں کے لیے لکڑی کا اسٹاک کرتے تھے اس سال وقت سے قبل اچانک برفباری کے بعد ہم لوگ اپنے بچوں کے ساتھ گھروں میں محصور ہوکے رہے گیے ہیں، گاوں مرمی، سکمل، گشاٹ، گومی، چونی کوئی، چچڑی ، سمیت دیگر گاوں مکمل کاٹاو میں ہے ہمارے پاس جلانے کے لیے لکڑی کا ایک تنکہ تک نہیں ہے ہمارے بچوں اور عورتوں میں نمونہ جیسے مرض لاحق ہوچکے ہیں
ہوچکے ہیں ہمارے بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہے حکومت پاکستان حکومت گلگت بلتستان اور استور کی ضلعی انتظامیہ سے اپیل ہے کہ وہ فوری طور پر ہمارے بچوں کی قیمتی جانوں کو بچانے کے لیے جلانے کی لکڑی فراہم کریں اور یونین کونسل شنکرگڑھ کو آفات زادہ قرار دئے کر ہمیں مفت لکڑی فراہم کریں ہم محب وطن پاکستانی ہیں
ہمارے ساتھ ستلی ماں جیسا سلوک قابل تشوش ہے برفباری اللہ کی طرف سے ہے ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ انتظامہ برفباری کو روکے مگر محکمہ جنگلات سے ہمارا ایک معائدہ ہوا ہے ہر سال اکتوبر سے نومبر کے مہنے میں لکڑی کاٹینگے جس کی وجہ سے ہم نے سیزان میں جلانے کے لیے ایک لکڑی کا ٹکڑا بھی جمع نہیں کیا ہے اب اکتوبر میں برفباری ہوئی ہے تو انتظامیہ ہمیں اس مصیبت سے نکلانے کے لیے ہماری مدد کرے شنکرگڑھ یونین میں 25سو افراد پر مشتمل آبادی شدید برفباری کے بعد  ان تمام کی زندگیوں کو شدید  خطرے کا سامنا ہے ہم اس علاقے کو مکمل خالی کرکے ہجرات کرنے پر مجبور ہیں حکومت وقت سے التجا ہے ہماری زندگیوں کو بچانے کے لیے فوری طور پر لکڑی مہیا کریں بصورت دیگر بہت ساری انسانی جانوں کا ضیاء ہوسکتا ہے حکومت وقت ہماری مدد کریں افغنستان اور دیگر ممالک کو اربوں روپے کی مدد کرتے ہیں تو ہم غریب لاچار لوگوں کی معمولی مدد کرنے میں کیا مسلہ ہماری اپیل ہے وزیر اعظم پاکستان وزیر اعلی گلگت بلتستان چیف سیکرٹری گلگت بلتستان اور استور کی ضلعی انتظامیہ سے کہ وہ ان علاقوں کو آفات زادہ قرار دئتے ہوئے فوری طور پر ہماری مدد کرتے ہوئے لکڑی کی فرہمی کو یقینی بنایں۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments