چراغ روشن

چراغ روشن کی رسم عام طور پر تجہیز و تکفین کے بعد کی ایک رسم کے طور پر وفات کے بعد تیسری رات کو انجام دی جاتی ہے جسے دعوت فنا کہتے ہیں.. چراغ کی رسم کی ایک دوسری صورت دعوت بقا ہے جو کسی شخص کے گھر پر زندگی میں کسی بھی وقت اللہ کی نوازش کے شکرانے کے طور پر اور روحانی نوازشات اور برکات کے حصول کی خاطر منقید کی جاتی ہے… چراغ روشن کی رسم سنٹرل ایشیا کے اسماعیلی مسلمانوں کے ثقافتی اور مذہبی ورثے میں گہری جڑیں پکڑے ہوئے ہے اس کا سیدنا ناصر خسرو حجت خراسان کی روایت کے ساتھ بہت قریبی تعلق ہے… ناصر خسرو فارسی کے مشہورشاعر، فلسفی، اسماعیلی دانشور اور سیاح تھے۔ ناصر خسرو 1004ء میں قبادیان میں پیدا ہوئے جو اس وقت کے افغان صوبہ بلخ کا حصہ تھا، اور بعد میں خراسان عظیم میں شامل کر دیا گیا۔ آپ سائنس، طب،حساب، فلکیات اور فلسفہ جبکہ الکندی، ال فارابی اور ابن سینا کی تصانیف بارے ماہر تصور کیے جاتے تھے اور آپ نےقران مجید کی تفسیر کا نہ صرف مطالعہ کیا بلکہ کہا جاتا  ہے کہ ایک تفسیر آپ سے منسوب بھی کی جاتی ہے۔آپ زبانوں میں عربی، ترک، یونانی اور ہندوستان کی کئی زبانوں کو سمجھنے، بولنے اور لکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ آپ لاہور اور ملتان بھی تشریف لائے اور غزنوی دور  میں یہاں عدالتی فرائض بھی سرانجام دیے۔ بعد ازاں آپ نے مرو میں سکونت اختیار کی اور وہاں گھر اور ایک باغ تعمیر کروایا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی دور میں ناصر خسرو نے خواب میں بشارت کے نتیجے پر آسائشِ زندگی کو خیر باد کہہ دیا۔ انھوں نے حج کی نیت باندھی اور مکہ اور مدینہ کی جانب سفر کیا۔ کہا جاتا ہے کہ حج  کے دوران اور بعد میں بھی ناصر خسرو مکمل طور پر اپنی ذات سے منسلک روحانی مسائل کے حل کے لیے تگ و دو میں مصروف ہو گئے۔ آپ کے سفر کی داستان آپ کی تحریر کردہ تصویری کتاب “سفرنامہ“ میں ملتی ہے، جو آج بھی سفرناموں میں ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔ چونکہ اس سفرنامے میں زیادہ تر معلومات گیارہویں صدی کے مسلمان دانشوروں اور مصدقہ ذرائع سے حاصل کی گئی تھیں، اس لیے اس سفرنامے کی بے پناہ پذیرائی ہوئی۔ 19000 کلومیٹر اور سات سالوں پر محیط سفر میں ناصر خسرو نے مکہ میں چار بار حاضری دی اور یہاں حج کی سعادت حاصل کرتے رہے۔ مکہ کے بعد وہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ سے بہت متاثر تھے، قاہرہ میں ناصر خسرو نے زیادہ تر تعلیم اور علم فاطمید  خانقاہوں میں حاصل کی۔ یہاں آپ نے معیدفی الدین الشیرازی کی خانقاہ میں شیعہ اسماعیلی فرقہ بارے تمام علم حاصل کیا اور فاطمید سلطنت میں اس کی ترویج کی۔ چونکہ یہ تعلیمات آپ کی بنیاد اور آبائی وطن سے تعلق رکھتی تھیں، اسی وجہ سے ان کی ترویج آپ کی زندگی کے اس دور کا مقصد بن گیا۔ آپ کو اسی دور میں خانقاہ کے “داعی“ کے عہدے پر ترقی دی گئی اور آپ کو بطور “حجت خراسان“ نامزد کیا گیا، رسم چراغ روشن کی خصوصیت چراغ نامہ ہے جس میں قرآنی آیات، مناجات اور مذہبی نظمیں ہیں چراغ روشن کی رسم عام طور پر ناصر خسرو کی روایت سے تعلق رکھنے والی اسماعیلی مسلم عمل کرتی ہے مگر دوسرے طریقوں کے مسلمان بھی چراغ روشن کی رسم میں شرکت کرتے ہیں یہ رسم کسی کے مرحوم قریبی رشتے دار خواہ وہ کسی بھی فرقے یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو کے لیے بھی ادا کی جاتی ہے بشرطیکہ انہوں نے اپنی زندگی میں اس کی خواہش کا اظہار کیا ہو… اگر گویم صفاتت شاہ ناصر نمی دانم ز حالت شاہ ناصر اگر گویم کہ مرد کار بودی فزون از مرد کاری شاہ ناصر ز ایران رُو نیازی در بدخشان شدہ یمگان مقامت شاہ ناصر زاقدام شریفت ملک یمگان شدہ باغ جنان یا شاہ ناصر بریدہ باد بند نفرت و کین بحق روزگارت شاہ ناصر

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments