معیاری تعلیم وقت کی ضرورت

تحریر زاہد علی راہی
پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں شرح خواندگی بہت کم ہے۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں شرح خواندگی 58فیصد ہے، لیکن اُس کے معیارکا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس 58 فیصد میں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنا نام لکھناجانتے ہیوں، انھیں خواندہ تصور کیا گیا ہے۔ جبکہ پاکستان میں حقیقی شرح خواندگی 27 فیصد کے قریب ہے۔ یعنی صرف 27 فیصد لوگ ایسے ہیں جنہوں نے کسی تعلیمی ادارے سے باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہو یہ جو صیح انداز میں اپنی ضرورت کے لئے لکھے گئے معلومات کو پڑھ سکتے اور اس میں اضافہ بھی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں جو کہ باقی ملکوں کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ اس پے سونے پے سہاگہ یہ ہے کی اتنے کم شرح ہونے کے باوجود حکومت کی توجہ تعلیم جیسے اہم شعبے کی طرف نہ ہونے کے برابر ہے حکمرانوں کی عدم دلچسپی کا اندازہ ہر سال جون میں تعلیم کے لئے رکھے جانے والے بجٹ سے لگایا جاسکتا ہے۔
تعلیم پر کم خرچ کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک اہم وجہ پالیسی مرتب کرنے والے اداروں میں کام کرنے والے افراد کی تعلیم سے عدم دلچسپی ہے۔ پاکستان کے کم و بیش تمام بااثر خاندانوں کے بچے یورپ اور امریکہ کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں، یوں مقامی اداروں کی بہتری اور ان پر پیسہ خرچ کرنا ان کی اولین تریحات میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ اسی طرح سے صحت، صاف پانی اور غربت وغیرہ بھی اسی تنزلی کا شکار ہیں- اس وقت جو تعلیم ملک میں دی جارہی ہے وہ صرف رسمی تعلیم ہے جو زیادہ سے زیادہ بابو، یعنی منینیجرز پیدا کرسکتے ہیں۔ اس تعلیمی ڈھانچے میں مدبر رہنما اور سائنسدان پیدا کرنے کی سکت نہیں ہے۔ہمارے تعلیم کےمعیار کا اندازہ اسی سےکرسکتےہیںکی ہر سال کروڑوں طلبات یونیورسٹیوں سے فارغ ہوتے ہیں لیکن کئی سال در در ٹھوکریں کھانے کےباوجود اُنکو کہیں بھی نوکری نہیں ملتی اسکی وجہ یہ سامنے آئی کی طلباء جن کے پاس بہت ساری ڈگریوں کے انبار ہے وہ اُس جاب کے قابل ہی نہیں جن کےلیے وہ ٹیسٹ انٹریوزدیے ہیں۔ اور تو اور 16سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی ہمارے طلبہ ڈھنگ کے ایک درخواست نہیں لکھ پاتے۔ہمیں اپنی اس اپروچ کو بدلنا ہوگا سب سے پہلے ملک میں جو نظام تعلیم ہے اُس کے پورے سٹریکچر کو بدلنا ہوگا اس کے بعد پرائمری تعلیم پر فوکس کرنا ہوگا جو ہماری مادری زبان میں ہوجس سے سیکھنے میں آسانی ہوگی یوں بنیاد پکی ہوگی توآگے چل کر کوئی دقعت نہیں ہوگی۔ دوسرے نمبر پر پورےملک میں یکساں نصاب کےساتھ ہمیں پوری نصاب کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہو گا تاکہ جو سلیبس ہمارے داد یاپردادا نے پڑھے ہیں وہی نصاب اب انکے پوتے پوتوں کو پڑھنا نہ پڑا۔ پورے ملک میں یکساں نصاب ہونے سے تمام طبقات کو ہجوم سے نکل کرایک قوم بنانے میں مدد ملے گی
تیسری تعلیم کے معیار کو بہتر کرنے کے ہمیں قابل اساتذہ کی ضرورت ہے، جسکے لیے ہمیں سی ایس ایس کی طرح ایک ٹیسٹ سسٹم متعارف کروانا ہوگا اور اساتذہ کا ٹیسٹ لینا ہوگا جو ٹیسٹ اور انٹریو پاس کرتا ہے انکو ایک سال مزید ٹریننگ بھی ملنی چاہیے جس میں انھیں ٹیچنگ اسکلز اور طلباء کے نفسیات کو سمجھنے اور طلباء کےکمزوریوں کی نشاندہی کرکے انکو پالش کرنے کی ٹریننگ دی جائے۔ سکولوں میں ہرسبجیکٹ ک سپشلسٹ ہو، جو صرف وہی سبجیکٹ پڑھاۓ۔ اس کے علاوہ بچوں کے ساتھ ساتھ ٹیچر کی کاردگی کو جانچنے کا سٹم متعارف کروایا جائے۔اور ہر پانچ سال بعد انکا دوبارہ ٹیسٹ لیا جاۓ اور جو ٹیسٹ پاس نہیں کر سکے انکی ترقی روک دی جائے اور جو ٹیسٹ پاس کرتے ہیں انکی بھرپور حوصلہ آفزائی ہو انھیں ترقی کے ساتھ بونس بھی ملے۔
چوتھی ملک سے ٹیوشن کلچر کا خاتمہ کریں ٹیچروں کی تنخواہ بڑھائیں انکو اچھی مراعات دیں انکے فیملی کو فری تعلیم اورصحت کے سہولت دیں اسکے بعد کوئی ٹیچر ٹیوشن پڑھائے تو اسے نوکری سے نکال دیں ساتھ ہی باری جرمانا عائد کریں اسطرح ٹیچرپوری توجہ سکول اور کالج میں دیں گے اور صحیح طریقہ سے پڑھائیں گے۔
پانچواں ہماری امتحانی طریقہ کار کو بھی بدلنا ہوگا اس میں طلبہ کو صرف رٹا مار کے یا نقل کر کے پاس کرنا سکھاتے ہیں اس وجہ سے طلبہ ڈگری لے لیتے ہیں لیکن جب ان سے کوئی سوال کرے تووہ صیح جواب نہیں دے پاتے۔
ہمیں تعلیمی معیار کی بہتری کے لئے ان تمام وجوہات کا جائزہ لینا ہو گا اورتعلیمی معیار کودرست سمت میں ڈالنا ہو گا تاکہ گرتے ہوئے معیار کا صیح تدارک ہوسکے ورنہ ہمیں پھر پتھروں کے دور میں پہنچتے دیر نہیں لگی گی۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments