آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول  سین لشٹ چترال میں یوم اقبال کی تقریب   منعقد

چترال(نمائندہ خصوصی ) گزشتہ دنوں آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول سین لشٹ چترال میں یوم اقبال کی تقریب شایانِ شان طریقے سے  منعقد کی گئی ۔ تقریب کی صدارت گورنمنٹ ڈگری کالج چترل کے  پرنسپل   پروفیسر ممتاز حسین صاحب نے کی ۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطبے میں  کہا  کہ علامہ محمد اقبال نے برصغیر کے  مسلمانوں کو خواب غفلت سے  جگایا۔انہوں نے کہا کہ  فنکار یا شاعر کا کام لوگوں کو احساس دلانا ہوتا ہے، وہ  مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے، مسئلے  کے حل کے لیے کوئی فارمولہ وضع کرنا شاعر یا ادیب کا کام نہیں ۔کچھ لوگ تفہیم اقبال کے حوالے سے مغالطے کا شکار ہیں اور اقبال کے کلام میں فکری یا نظریاتی تضادات پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ حالانکہ شاعری ایک فن ہے جس میں جمالیاتی عناصر کے ذریعے انسانی جذبات کی تطہیر کی جاتی ہے اور اس کے ذریعے معاشرے میں بہتری کا سفر آگے بڑھتا ہے  اور اقبال نے  یہ کام احسن طریقے  سے انجام دیا۔

تقریب کا آغاز اشفاق علی نے تلاوت اور عدنان حسین  نے   نعت ِ  رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ والہ وسلم  پیش کرکے کیا ۔ اس کے بعد  فیکلٹی ممبر  فضل رقیب نے مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا اور تقریب  کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ آج یوم اقبال  کی یہ پر رونق تقریب  پیغام ِ اقبال کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ   اسٹوڈنٹس کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے  اقبال کے چار اہم تلمیحات اور اس کے پس منظر  کے مو ضوع پر  لکھے گئے اپنے مقالے کا خلاصہ  بھی پیش کیا۔

تقریب میں آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول  کوراغ اور سین لشٹ کے کلاس  ہشتم   اور  نہم کے طلبہ وطالبات عاشق حسین، زاہد نواز، مبشرہ زاہد   اور  عاتیکہ آفتاب نے کلام اقبال  کا مصرعہ” عبث ہے شکوۂ تقدیر یزداں ” کو موضوع بناتے ہوئے اپنی تقاریر پیش کیں ۔ اوریہ پیغام دینے کی کو شش کی کہ  ہمیں صرف تقدیر کا بہانہ بنا کے   محنت سے جی نہیں چرانا چاہیے بلکہ محنت اور سعی ٔ پیہم سے  اپنی دنیا آپ پیدا کرنا چاہییے ۔

کلاس دہم کے طلبہ  ،سلمان یاسر اور فرحانہ نور نے  “کس طرح ہوا کند تیرا نشترِ تحقیق ” کے عنوان سے تقاریر پیش کرتے ہوئے  مسلمانوں میں ریسرچ کی کمی کی وجوہات بیان کرنے کوشش کی ۔

 فرسٹ ائیر اور سیکنڈ ائیر کے طلبہ عبد الاعظم،شرجیل علی غازی،صوہانہ رحمان اور ثریا کوثر نے   “اسبابِ ہنر کے لیے لازم ہے تگ و دو ” کے موضوع پر اپنی تقاریر پیش کرتے ہوئے  محنت کی عظمت کو خوبصورت انداز سے بیان کیا ۔

اس کے بعد آغا خا ن ہائیر سیکنڈری اسکول سین لشٹ کے  ڈرامہ کلب کے ممبراں  نے  مسلمانوں کے عروج و زوال کی  وجوہات کو خاکے کی صورت میں بیان کرتے ہوئے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ  جب تک ہمارے حکمرانوں کی دلچسپیاں  علم و تحقیق کے متعلق تھیں  تو ہم عروج کی  بلندیوں میں تھے لیکن جب ہمارے حکمران مشاعروں اور خود تعریفی اور دوسرے عیش و عشرت کے بکھیڑوں میں  غرق  ہوگئے تو  زوال کے پاتال میں گر گئے ۔ ڈارمے کے اس تھیم کو  حاضرین نے خوب سراہا ۔

 میوزک کلب آغا خان ہائیر  سیکنڈری اسکول سین لشٹ  کے ممبراں اظہر اللہ، آصف الرّحمنٰ،عرفان علی، احسان الحق اور سعید اکبرنے    “شکوہ جواب شکوہ” اور   “ساقی نامہ”   کو موسیقی کے آلات کے ساتھ  پیش کرکے    حاضرین کے دل موہ لیے۔

آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول کوراغ کی طالبہ مہلیل  فاطمہ نے خوبصورت ترنم کے  ساتھ کلام اقبال ” ہر لحظہ  ہے مومن کی نئی  شان  نئی آن “پیش کرکے خوب داد سمیٹی۔

  فیکلٹی ممبر نور شمس الدین صاحب  نے    اس تقریب میں مختلف سرگرمیوں میں   شریک  طلبا ؤ طالبات میں سرٹیفیکیٹ تقسیم کرتے ہوئے کہا کہ اس تقریب میں جو بھی سرگرمیاں پیش کی گئیں  تمام کے تمام  طلباء و طالبات کی اپنی کاوش تھی۔ خاص کر تقاریر کے حوالے سے ہم اس روایت کو ختم کرنا چاہتے ہیں کہ بچے ،بچیاں  کسی اور کی لکھی ہوئی تقریر کا رٹا کرکے سامنے پیش کریں ۔ اس لیے ان  بچوں کے خیالات میں کوئی جھول آپ کو نظر آئے تو صرف نظر کیجئے۔

پروگرا م کا اختتا م اسکول ہذا کے پرنسپل  طفیل نواز کے اختتامی کلمات سے ہوا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments