اسلام آباد ائیرپورٹ میں تضحیک اور بلاول بھٹو کا دورہ گلگت

تحریر: فہیم اختر

قومی ائیرلائن پی آئی اے کی سروس پر ملک بھر میں تبصرے جاری ہیں، پاکستان کے ایوان بالا کے ہر اجلاس میں پی آئی اے پر بحث شروع ہوتی ہے اور اسی بحث پر اجلاس اختتام پذیر ہوتا ہے۔ گلگت بلتستان کے ساتھ پی آئی اے کاسلوک شروع سے قابل اعتراض رہا ہے، موسم کی خرابی کے بہانے، مہنگے ٹکٹیں، سہولیات کا فقدان، مسافروں کے سامان کو کہیں اور چھوڑ کے مسافر کو کہیں اور پہنچانا اور مسافروں کو کئی گھنٹوں پہلے بلاکر ائیرپورٹ پر خوارکرانا پی آئی اے کا وطیرہ رہا ہے۔

اس سے قبل سکردو میں سینئر صوبائی وزیر کو سکردومیں چھوڑ کر اس کا سامان لیکر اسلام آباد پہنچ گئے تھے۔ گلگت بلتستان کی عوام ہنگامی حالات میں بھی پی آئی اے پر سفر کرنے کو ترجیح نہیں دیتے ہیں کیونکہ اتنی مہنگی ٹکٹیں خریدنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔ جنید جمشید کے واقعہ کے بات لوگوں میں مزید خوف و ہراس پھیل گیا ہے کہ پرانی کھٹارہ جہازوں کو گلگت اور چترال کے روٹ پر بھیجا جاتا ہے ۔

گزشتہ دنوں اسلام آبادائیرپورٹ میں اس وقت ہنگامہ شروع ہوگیا جب گلگت بلتستان کے دو صوبائی وزراء، 26غیر ملکی سیاح اور متعدد خواتین اور مسافر اپنی اڑان کا انتظار کررہے تھے کہ اطلاع ملی کہ جہاز موسم کی خرابی کے باعث منسوخ ہوگئی ہے۔ صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ کے مطابق اسلام آباد سے گلگت سفر کرنے والوں میں تین خواتین گود میں شیرخوار بچوں کے ہمراہ پانچ گھنٹوں سے انتظار کررہی تھیں، جبکہ ایک معمر خاتون ،جس کی عمر 90سال بتائی جاتی ہے، بھی جہاز کے انتظار میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اس دوران ان کی حالت غیر ہوگئی ، معمر خاتون کا تعلق چلاس سے تھا لیکن کئی گھنٹوں تک اس کو ابتدائی طبی امداد کی سہولت تک نہیں دی گئی۔ غیر ملکی سیاحوں نے انٹرنیٹ کے ذریعے گلگت تااسلام آباد موسم کا ساراحال سامنے رکھ دیا اور پی آئی اے کی جھوٹی سروس پر افسوس کااظہار بھی کیا۔ اس بنیاد پر وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ اور وزیر سیاحت فدا خان فدا نے سخت احتجاج کیا اور پی آئی اے کے آفیسران سے تلخ کلامی بھی ہوگئی۔ معاملہ یہاں تک ٹھیک تھا لیکن اس کے بعد صوبائی وزیر فدا خان فدانے پی آئی اے کے آفیسر کو دھکہ دینا شروع کردیا اور ایک دہشتگردانہ رویہ اختیار کرلیا۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ چند روز قبل خواتین کے ناچ سے متعلق پریس کانفرنس اور اسمبلی میں کھلی مذمت کرنے والے مرکزی کردار فدا خان فدا نے کہا تھا کہ گلگت بلتستان کی ثقافت شجاعت اور بہادری ہے۔ چونکہ مخلوط ڈانس کی وجہ سے گلگت کی فضا اس قدر خراب تھی کہ اس کے بعض پہلوؤں پر لب کشاہی نہیں کی جاسکی ۔ راقم نے دیامر میں سکولوں کو جلائے جانے والے واقعہ پر ایک کالم میں لکھا تھا کہ گلگت بلتستان میں جاہلانہ اوصاف کو ثقافت قرار دیا جاتا ہے۔ ’ماچوکلچر‘ پر لکھتے ہوئے لکھا تھا کہ جہاں بہادری کو وصف مانا جاتا ہے وہاں کے لوگوں میں قیادت کی اوصاف نہیں ہوتی ہے اور ایسے معاشرے انتہا پسندی کی نہج پر کھڑے ہوتے ہیں۔

صوبائی وزیر فدا خان فدا نے اسی ماچو کلچر کی ترجمانی کرتے ہوئے آفیسران پر ہاتھ اٹھایا جس سے سارا دن تمام قومی ٹی وی چینلز پر گلگت بلتستان کا بدترین چہرہ سامنے آتا رہا، فدا خان فدا اپنی اس حرکت پر گلگت بلتستان کی عوام سے معافی مانگیں۔ ایسے رویے فروغ پارہے ہیں جن سے مستقبل میں بقاء کی جنگ بھی مشکل سے لڑی جاسکے گی، قیادت ،دانشوری ، سماج فہمی جیسے خصوصیات یہاں پر دبے ہوئے ہیں، اگر ایک صوبائی وزیر کی یہ حرکت ہوگی تو اسلام آباد اور دیگر شہروں میں بسنے والے جی بی کے نوجوانوں سے کیا توقعات رکھی جاسکتی ہیں؟ اور اس وقت پوری قوم کو ملک میں جن مشکوک نظروں سے دیکھا جارہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے اس واقعہ کی نوٹس لے لیا ہے۔آج(17نومبر) لاہور رجسٹریمیں پیشی ہے امید ہے کہ وزیر سیاحت منطقی موقف اپنائیں گے اور مزید علاقے کی بے عزتی نہیں کرائیں گے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آج ہفتے کے روز گلگت پہنچ رہے ہیں۔ بلاول بھٹو کے اس دورے کا مقصد گلگت میں پیپلزپارٹی کے جلسے میں شرکت کرنا اور اس سے خطاب کرنا ہے۔ پیپلزپارٹی کے مقامی قائدین نے اس حوالے سے تمام انتظامات مکمل کرلیے ہے۔ گلگت شہر میں پیپلزپارٹی کے جھنڈے اور گاڑیوں کے زریعے دعوتیں دی جارہی ہیں، جبکہ صوبائی قائدین نے مختلف جگہوں میں بااثر لوگوں سے ملاقات کرکے لوگوں کو دعوت دے رہے ہیں جن میں تنظیم اہلسنت والجماعت کے مرکزی امیر و خطیب جامع مسجد مولانا قاضی نثار احمد، امام جمعہ والجماعت آغا راحت حسین الحسینی سمیت دیگر سماجی اور سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں۔

بلاول بھٹو کے دورے کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے ساکن جسم میں دوبارہ جان پیدا ہوگئی ہے اور سیاسی سرگرمیاں تیزتر ہوتی جارہی ہیں۔۔ بلاول بھٹو زردار ی کا یہ دورہ گلگت بلتستان کا پہلا دورہ ہے، تاہم بلاول بھٹو زرداری کو اس بات پر فخر ضرور ہوگا کہ گلگت بلتستان میں اصلاحات کا نظا م متعارف کرانے والے خاندان سے ان کا تعلق ہے، بھٹو کہیں اور زندہ ہوں یا نہ ہوں گلگت بلتستان میں بالخصوص جی بی کے معمر افراد کے دلوں میں بھٹو زندہ ہے، جس نے سب سے پہلے اس علاقے میں اصلاحات کا سلسلہ متعارف کرایا اورایف سی آر سمیت راجگیری نظام کو ختم کردیا اور لوگوں کو ’آزاد‘ کردیا۔ یہاں سے سیاسی سفر کا آغاز شروع ہوتا ہے ۔

ذوالفقار علی بھٹو اس دورانیے میں گلگت بلتستان کے لئے سیاسی مسیحا کے طور پر ابھرے اور لوگ جوق درجوق پاکستان پیپلزپارٹی کے پرچم تلے اکھٹے ہونے شروع ہوئے ۔1994تک گلگت بلتستان کی مقامی اسمبلی کی سرگرمیاں جاری رہیں اور انتظامی سربراہ ، سیاسی سربراہ کے اشکال تبدیل ہوتے گئے ۔ 1994میں پہلی مرتبہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں گلگت بلتستان میں جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے گئے ۔ بینظیر بھٹو کے متعارف کردہ ان اصلاحات کے نتیجے میں عدالتی سٹرکچر میں بھی تبدیلی لائی گئی اور گلگت بلتستان کے لئے چیف کورٹ قائم کی گئی۔ حکومتی سربراہ کے لئے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو کا عہدہ متعارف کرایا گیا جبکہ چیف ایگزیکٹو وزیر امور کشمیر و ناردرن ایریاز ہی رہے ۔اور 2009میں جب پیپلزپارٹی وفاق میں دوبارہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی تو ایک مرتبہ پھر انہوں نے سابقہ تمام اصلاحات سے نمایاں اصلاحات متعارف کراتے ہوئے۔ گلگت بلتستان کو صدارتی حکم نامے کے ذریعے امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر دیدیا، جس کے بعد یہاں صوبائی سیٹ اپ قائم ہوگیا، پہلی بار وزیراعلیٰ، گورنر اور دیگر عہدے متعارف کرائے گئے۔ اصولی طور پر اس وقت بھی گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی کا دیا ہوا نظام ہی چل رہا ہے کیونکہ مسلم لیگ ن نے بھرپور ہوم ورک کرنے کے بعد بالآخر دوبارہ ’آرڈر ‘ ہی دیدیا جس کے بعد آرڈر پہ آرڈر کے نعرے لگنے شروع ہوگئے، 2009کے آرڈر کے برعکس اس آرڈر سے کسی قسم کی تبدیلی رونما نہیں ہوئی جو جہاں تھا وہ وہیں پر ہی ہے،چند ایک امور میں ترمیم کی گئی ہے ۔

یہاں پر یہ امر انتہائی قابل ذکر ہے کہ مندرجہ بالا حقائق کے پیش نظر جہاں پیپلزپارٹی کو کریڈٹ جاتا ہے وہی پر گزشتہ دنوں پیپلزپارٹی کے سینئر ترین امیدوار جو کہ حالیہ صدارتی انتخابات میں پیپلزپارٹی کی جانب سے نامزد بھی ہوئے تھے، کی وجہ سے گلگت بلتستان کے آئینی بنیادی حقوق کا معاملہ کھٹائی کی جانب بڑھ رہا ہے، مورخہ 15 نومبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے جی بی کے 32 کے قریب کیسزکو یکجا کرکے سماعت کی اور وفاقی حکومت پر برہمی کااظہار کیا کہ وہ آئینی حقوق کے معاملے میں تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں وہی پر پیپلزپارٹی کے اس سینئررہنما اعتزاز احسن کے دلائل اور اٹارنی جنرل کی حمایت کی وجہ سے کیس کو ملتوی کرنا پڑا۔ پیپلزپارٹی کے مقامی قائدین کہتے رہیں کہ اعتزاز احسن پیپلزپارٹی کی ترجمانی کرے گا لیکن پرانے کیسٹ کو دہراکر انہوں نے ایک مرتبہ پھر غم و غصہ کی لہر پیدا کردی ہے۔ امید ہے کہ مرکزی چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زردار ی اس دورے میں اس کی وضاحت بھی کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments