نیا بلدیاتی خا کہ 

بہت بڑی خبر آگئی ہے کہ نیا بلدیاتی خا کہ تیار ہو گیا ہے وزیر اعظم عمران خان نے خود اعلان کیا ہے کہ نئے بلدیا تی نظام کے تحت خیبر پختونخو ا کے ساتھ ضم ہو نے والے 8قبائلی اضلاع میں بھی ایک ساتھ انتخا بات ہو نگے نئے بلدیاتی نظام میں ضلع کونسل اور ضلع نا ظم کا بوریا بستر گول کر دیا جائے گا ویلیچ کونسل اورنیبر ہڈ کونسل کے چیر مین بلحاظ عہدہ ٹاون کونسل اور تحصیل کونسل کے ممبر ہو نگے ٹاون اور تحصیل کونسلوں کے سر براہ کا نام میئر ہو گا اور اس کا انتخاب براہ راست عوامی ووٹوں سے ہو گا سر دست پنجا ب اور خیبر پختو نخوا میں اس خا کے پر اتفاق ہو اہے 2019ء میں دونوں صو بوں میں تحریک انصاف کی حکو متیں نئے بلدیاتی نظام کی داغ بیل ڈالنے کے لئے انتخا بات کرا ئینگی مو جو دہ بلدیاتی ادا روں کی مدت جون 2019ء میں ختم ہو رہی ہے اگر چہ اعلان نہیں ہو ا قیاس ارائیاں چل رہی ہیں کہ چھ مہینے پہلے مو جو دہ بلدیا تی ادا روں کو گھر کی راہ دکھا ئی جا ئیگی تا کہ نئے بلدیا تی انتخا بات شفاف طریقے سے پاک فو ج کے ذریعے کرائے جا سکیں یہ واقعی بہت بڑی خبر ہے یہ فیلڈ مارشل ایوب خان کی بنیا دی جمہو ریت ،جنرل ضیاء الحق کے بلدیاتی نظام اور جنرل مشرف کے “ڈیو لو شن سسٹم “سے بھی بڑی خبر ہے اس خبر کی دو خو بیاں بہت نما یاں ہیں پہلی خو بی یہ ہے کہ ویلیچ کونسل اور نیبر ہڈ کونسل کی بنیادی اکا ئی کو بر قرار رکھا گیا ہے دوسری خوبی یہ ہے کہ ضلع کونسل کو ختم کر کے ارا کین پارلیمنٹ اور ضلع نا ظم کے در میان جاری و ساری اقتدار، اختیار ، مرا عات اور پروٹو کول کی کشمکش کو ختم کر دیا گیا ہے 2015ء کے بلدیا تی انتخا بات کا شو شہ چھو ڑ ا گیا تو اس پرلے دے ہو ئی اس وقت کے وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک نے اس کو مثالی قدم قرار دیا تو ڈیرہ اسمعٰیل خان سے سابق ڈپٹی سپیکر اور ایم این اے فیصل کریم کنڈی کا زبر دست انٹر ویو ایک ٹیلی وژن چینل پر نشر ہو ا انٹر ویو میں ارا کین ا سمبلی کا دیرینہ نقطہء نظر پیش کرتے ہوئے سابق ڈپٹی سپیکر اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نو جوان پار لیمنٹیرین نے کہا کہ یہ نظام ہمارے لئے کسی بھی طرح قا بل قبول نہیں ہے اس نظام کے ذریعے ضلع کونسل کو اسمبلی کے برا بر درجہ دیا جا تا ہے ضلع نا ظم کو رکن اسمبلی اور سنیٹر کے برا بر درجہ دیا جا تا ہے بلکہ مرا عات اور اختیا رات کے حساب سے وہ اراکین پارلیمنٹ سے بھی آ گے نکل جا تا ہے پار لیمنٹ کے رکن کو پانچ کروڑ روپے کا فنڈ ملتا ہے ضلع نا ظم کے پا س 3ارب روپے کا فنڈ اور گیارہ محکموں کی سر برا ہی ہو تی ہے یہ پار لیمنٹ اور جمہو ریت کی تو ہین ہے ضلع کونسل اور ضلع نا ظم کا عہدہ ختم ہو نے کے بعد اس سسٹم کو استحکام ملے گا کیونکہ اس پر اراکین اسمبلی کا اعتراض نہیں رہے گا اگر سا بق صدر آصف زرداری کے الفا ظ مستعار لینے کی تھوڑی اجا زت مل جائے تو ہم اس کو جمہو ریت کی فتح کہہ سکتے ہیں اگر مو لا نا فضل الرحمن کے الفاظ میں با ت کی جائے تو 73کے آئین کے تنا ظر میں اس کو پارلیمنٹ کی با لا دستی کا نا م دیا جا سکتا ہے ضلع کونسل کا چیئر مین ، شہرکی میونسپلٹی کا میئر اور ضلع نا ظم بڑا ظا لم ہو ا کرتا تھا اس کا عہدہ اس قدر نا منا سب اور ڈھیٹ قسم کا عہدہ تھا کہ وہ ایم این اے کے برا بر آکے بیٹھتا تھا ایم پی اے اور سینیٹر کی ہم سر ی کا دعویٰ کر تا تھا بڑے بڑے افیسروں کو آنکھیں دکھا تا تھا پرو ٹوکول ما نگتا تھا اختیا رات پر قبضہ کر کے بیٹھ جا تا تھا بڑے دفتر اور کروفر کا تقا ضاکر تا تھا کبھی وی آئی پی دورے پر آتا تو وہ اپنے عہدے کے بل بوتے پرسپاس نا مہ پیش کر تا تھا اور یہ سب کچھ اراکین پار لیمنٹ کو بہت برا لگتا تھا نئے بلدیا تی نظام کا خا کہ آنے کے بعد یہ مسلہ حل ہو گیا ہے نہ رہے بانس نہ بجے بانسری گو یا بقو ل شاعر ”ثبات اک تغیر کو ہے زما نے میں “پو چھنے والے پوچھینگے کہ ضلع کونسل اور ضلع نا ظم کو آخر کس کی بد دعا لگی یا کس کی نظر بد لگی اس سوال کا کوئی ایک جواب نہیں ہو سکتا ہے کہ کسی یتیم ، بیوہ ، مجبور ، مظلوم اور مزدور کی بد دعال لگی ہو یا کسی “گو ری “کی نظربد لگی ہو یا ان کو کسی ولی کا مل ، بزرگ ، عالم ، فیقہہ، زا ہد ،عا بد ، حا جی اور تبلیغی کی بد دعا لگی ہو یا کسی ٹھیکہ دار یا بیو پاری کی نظر بد لگی ہو امکا نا ت بھی بہت ہیں خد شا ت بھی بہت ہیں غا لب گما ن یہ ہے کہ ضلع نا ظم کے عہدے اور ضلع کونسل کے ادارے کو ضلع کے بڑے افیسر ڈپٹی کمشنر کی بد عا اور نظر بد نے بر باد کر دیا اس کو دریا برد کرنے کے بعد مٹھا ئی تقسیم کر نے والوں کی صف میں بھی مو صوف سب سے آگے ہو گا نئے بلدیا تی نظام کا خا کہ بہت دلچسپ ہے اس کی بے شما ر خو بیاں ہیں خرابی صر ف ایک ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ مو جو دہ حکو مت ہی دو سال بعد اس کا متبا دل نظام متعارف کرائے اور اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلا بے ملائے جیسا کہ 4سال پہلے متعا رف کرائے گئے نظام کی خو بیوں کو خر ابیوں کا نا م دیکر “بد نیتی ”نظام اور “جمو ریت”کا نیا خا کہ بچہ جمبورے سے مستعار لیا گیا ہے ؂

نہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھو کا یہ باز یگر کھلا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments