میلاد مصطفیٰ ﷺ


ساجد حسین

وہ جس کا ذکر ہوتا ہے زمینوں آسمانوں میں
فرشتوں کی دعاؤں میں موذن کی آذانوں میں

ربیع الاوّل کا پاک و بابرکت مہینہ اپنے مدار خاص سے جب ظہور ہوتا ہے اور ایک خوشی کا سماں باندھے سُرور و محبت کا پیغام عام سمیٹے وارد ہوتا ہے۔ جس میں سرکار دو عالمﷺ کی ولادت باسعادت کا بھر پور اعلان کرتے ہوئے تمام عالم اسلام کو یہ باور کراتا ہے کہ یہ حضور ﷺ کی ولادت کا پاک مہینہ ہے۔

سرکار دو عالم ﷺ کی شان بیان کرنا ہماری کیا اوقات کہ جن کے ذکر سے زبان بھرنا محال ہے کیونکہ انکی شان اتنی نرالی ہے کہ پوری کائنات کے سمندر کا پانی سیاہی بن جائے، تمام درخت کی شاخیں قلم بن جائے اور پتے کاغذ بن جائے اور تمام جن و اِنس لکھنے بیٹھ جائیں تو میرے سرکارﷺ کی اتنی نرالی عظمت ہے کہ وہ تمام چیزیں لکھنے کے لیے کم پڑ جائے مگر مجال ہے کہ سرکار کی تعریف مکمل ہو۔

سرکار دوعالم ﷺ کی ولادت باسعادت تمام کائنات کے لیے رحمت ہے۔ میلاد النبی کا دن کوئی عام دن نہیں بلکہ پوری کائنات کے رحمت اللعالمین کا عظیم الشان ولادت کا دن ہے اہل اسلام کے عرف میں اس دن کو میلاد النبی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

تمام انبیاء اپنے اپنے مقررہ وقت کے مطابق ﷲ کی طرف سے بھیجے گئے مگر سرکار دوعالم ﷺ کی ولادت ایک بابرکت ولادت ہے اسی دن میں ہی تمام عالم کی کھیتی کی آبیاری ہوئی۔ اسی طرح تاریخ اسلام میں نقل ہے کہ انبیاء کی ولادت کا ذکر ﷲ تعالیٰ کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔

ﷲ تعالیٰ نے سورۃ مریم میں حضرت عیسیٰ علیہ سلام اور سورۃ القصص میں حضرت موسیٰ علیہ سلام کی ولادت اور ولادت کے موقعے پر ان انبیاء کرام کی ظاہر ہونے والی عظمتوں اور شانوں کا ذکر کیا ہے اسی طرح تمام انبیاء کے سردار حضرت محمدﷺ کا ذکر بھی اعلیٰ ترین اور فخریہ انداز میں بیان کیا ہے۔

ذکر انبیاء کرام سے ایمان مضبوط و تازہ ہونے کے ساتھ ساتھ قلب کو ایک پر مسرت ٹھنڈک پہنچتی ہے۔ نیز توحید و تمام تر عقائد کو بھی تازگی ملتی ہے۔ سورۃ ہود آیت نمبر ۱۲۰ میں ﷲ پاک نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” اور یہ سب انبیاء کی خبریں ہم آپ پر بیان کرتے ہیں جن کے سبب ہم آپ کے دل کو مظبوط کرتے ہیں۔ “

سرکار دو عالمﷺ کا رحمت اللعالمین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم معلم کی صفات لیِے کائنات میں ظہور ہوۓ اور تمام انسانیت کے لیے ہدایت کا راستہ بتانے آۓ۔ اسی طرح قرآن مجید کی سورۃ الفتح آیت نمبر ۸ اور ۹ میں ذکر ہے کہ “بیشک ہم نے آپ کو حاضر و ناضر اور خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے تاکہ (انکی یہ شان دیکھ کر) تم ﷲ اور اسکے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ اور انکی تعظیم بجا لاؤ۔ اور (پھر) اس ﷲ کی صبح و شام تسبیح بیان کرو”۔

حضور اکرم ﷺ کی ولادت روۓ زمین پر ﷲ تعالیٰ کی طرف سے احسان عظیم ہے۔ ولادت سے قبل پورا عرب ہی نہیں بلکہ پوری کائنات کا نظام درہم برہم تھا۔ ناانصافی، ظلم و بربریت کا بول بالا تھا ستم ظریفی کا یہ عالم تھا کہ جاہلیت کی بدولت عرب کے جاہل لوگ اپنی بیٹیوں تک زندہ درگور کر دیتے تھے، طاقت ور کمزور پر غالب تھا ناانصافی کا یہ بازار مستی میں دہت اپنی عروج پر گامزن تھا ان مخدوش و بے امان حالات میں کوئی پوچھنے والا نہیں تھا کہ معاشرے میں تباہ کاری کا آخر سبب کیا ہے لیکن بات یہاں آکر اختتام کو نہیں پہنچی بلکہ محمد عربی ﷺ کا نزول ہوا دنیا میں ایک دم سے روشنی پھیلی ہر طرف نور کے جلوے بکھرنے لگے۔ نفرتوں اور نا انصافیوں کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوا۔ ظلم و بربریت کا سماں ایک دم سے سنسان پڑ گیا ہر طرف انصاف، امن و آشتی کا ڈھنکا بجنے لگا لوگ جاہلیت کی زندگی سے آزاد ہوۓ زندہ درگور ہونے والی لاچار بیٹیاں اپنی زندگی کی پُرامن سانسیں لینے لگیں اسی طرح پورے عرب ہی میں نہیں بلکہ پوری کائنات میں محمد عربیﷺ کی انصاف سے بھر پور حکومت قائم ہوئی۔ ربط رسالت کا آخری چشم چراغ اپنی نور کی روشنی سے پورے عالم میں روشنی بکھیرنے لگا۔ کمزوروں، ناتواں، یتیموں، حتیٰ کہ جانوروں کے لیے بھی متوالی اور غمگسار ثابت ہوئے۔

ولادت سے قبل ہی والد کا انتقال، چھ برس کی کم عمری میں والدہ ماجدہ کی رخصتی محمد عربی ﷺ کی زندگی میں المناک سانحات سے کچھ کم نہ تھے مگر دادا اور چچا کی سرپرستی اور محبت نے اتنا محسوس ہونے نہیں دیا۔ محبوب خدا ﷺ نے اپنی زندگی کا آغاز ایک عظیم طریقے سے کیا یا یوں کہنے سے غلط نہیں ہوگا کہ ایک نمونے کی حثیت سے بےسہارا لوگوں کے لیے ایک عظیم مثال بنے۔ کم عمری میں والدین کا ساتھ نہ ہونا کسی قیامت سے کم نہیں یہ ایک سخت ترین لمحہ فکریہ ہے مگر رسول ﷺ نے یہ ثابت کر دیکھایا کہ زندگی کے برے اور کرب حالات کا سامنا کیسے کیا جائے بنی نوع انسان کو ایسی مثال کہیں نہیں ملے گی جو مثال محمد عربیﷺ نے قائم کی۔

دورِ رسالت میں ﷲ کا پیغام پہنچانے عرب کی سر زمین پر نکلنے والے نوجوان یعنی محبوب خدا جہاں جہاں سے گزرتے تھے وہاں وہاں معاذ ﷲ مختلف قسم کے برے القابات سے پکارے جاتے کوئی جادوگر کہتا تو کوئی عبدﷲ کا یتیم مگر ﷲ کے سچے حبیب نے اپنے ﷲ کا پیغام پہنچانے میں زرہ برابر کوتاہی نہ برتی۔ شہر طائف میں اسلام کی اشاعت کے دوران بدمعاش و اوباش لوگوں سے زخم کھانے والے رسولﷺ نے کبھی اپنی زبان بددعا کے لیے نہیں کھولی بلکہ انکے لئے ہمیشہ ﷲ سے خیر اور ہدایت کی دعا مانگی۔ ہمارے ماں باپ قربان ہو اس پاک ہستی پر جنہوں نے اشاعت اسلام سے کبھی منہ نہیں موڑا۔ ایک دفعہ حضرت ابو طالب علیہ سلام جو کہ رسول ﷲ ﷺ کے پیارے چچا تھے کی خدمت میں عرب کے مالدار لوگ حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ محمد کو جو بھی ضرورت ہو مال و دولت، سرداری حتیٰ کہ اونچے مرتبےکے خاندان میں شادی تک کروا دینگے اس کے بدلے میں محمد ﷺ اسلام کی اشاعت سے باز رہے اس موقعے پر جب چچا نے یہ بات رسول ﷲ تک پہنچائیں تو رسول ﷲ فرمانے لگے کہ میرے دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند لا کر رکھ دی جائے تو بھی محمد اپنے ﷲ کے پیغام پہنچانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑے گا۔

شفقت و محبت کا ایسا عالم تھا کہ خود یتیم ہونے کے باوجود یتیموں کا آسرا تھا نفرت و تکبر سے لیس لوگ آپﷺ پر کوڑا کرکٹ پھینکتے تھے مگر ہمیشہ انکے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آیا کرتے ان کی طرف مسکراہٹ اور نرم دلی کا مظاہرہ کرتے۔حسن ومحبت کی یہ انتہا تھی کہ انکی تیمارداری کیلیے تشریف لے جاتے انکو ضرورت کا سامان مہیا کرتے اسی طرح لوگوں کے دلوں میں بسے اور تمام کائنات کے لیے رحمت اللعالمین کہلاۓ۔

حسب ونسب کے باکمال محبوب خدا کسی تعارف کے طلبگار نہیں اونچے مرتبے والے رسول جن کے بارے میں روایت مشہور ہے۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب روایت کرتے ہیں کہ ” میں نے عرض کیا: یا رسول ﷲ قریش نے ایک مجلس میں اپنے حسب و نسب کا ذکر کرتے ہوئے آپ کی مثال کھجور کے اس درخت سے دی ہے جو کسی ٹیلہ پر ہو۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا ﷲ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے انکی بہترین جماعت میں رکھا اور انکے بہترین گروہ میں رکھا اور دونوں گروہوں میں سے بہترین گروہ میں بنایا، پھر قبائل کو منتخب فرمایا اور مجھے بہترین قبیلے میں رکھا، پھر اس نے گھرانے منتخب فرماۓ تو مجھے ان میں سے بہتر گھرانے میں رکھا میں ان میں سے بہترین فرد اور بہترین خاندان والا ہوں۔ “

تو قارئین اس روایت سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ حبیب خدا ﷺ کا کتنا اونچا مقام و مرتبہ ہے کوئی بھی انسان اس بات سے عاری نہیں ہوسکتا کہ محمد ﷺ کا حسب و نسب شہرت یافتہ نہیں۔ حسب و نسب کے اس بحث میں ایک اور روایت تاریخ اسلام کے اوراق میں ملتی ہے۔

حضرت واثلہ بن اسقح روایت کرتے ہیں کہ حضور رحمت عالمﷺ نے فرمایا کہ ” بےشک رب کائنات نے حضرت ابراہیم علیہ سلام کی اولاد میں سے حضرت اسماعیل علیہ سلام کو منتخب فرمایا، اسماعیل کی اولاد میں سے کنانہ کو، اور اولاد کنانہ میں سے قبیلہ قریش کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو اور بنی ہاشم میں سے مجھے شرف انتخاب سے نوازا اور پسند فرمایا۔”

حسب ونسب کا یہ سلسلہ صرف محمد عربیﷺ کی حد تک محدود نہیں رہا بلکہ خاندان رسالت یعنی اہلبیت کے عظیم اور پاک دریچے سے ہوتے ہوئے آج بھی یہ خاندان زندہ و جاوید ہے۔ محمد عربیﷺ کی چہیتی بیٹی لاکھوں درود و سلام ہو فاطمہ و آل فاطمہ سلام ﷲ علیہ پر جنکے عظیم اور پیارے بیٹے حضرت حسین علیہ سلام نے کربلا کے میدان میں اپنا سر کٹا کے اپنے نانا کا دین بچایا اور خاندان نبوت سے ہونے کا بھر پور ثبوت دیا یا یوں کہہ لیں کہ ابراہیم کے بیٹے کی ادھوری قربانی محمد کے نواسے نے پوری کر لی۔ یہ ہے وہ حسب و نسب جو رہتی دنیا کے لیے تا قیامت مثال بن کر رہ گئی۔

محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان ہی ایسی نرالی ہے کہ عام انسان کے بس میں نہیں کہ بیان کی جاسکے۔ وہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے جن کے دربار میں بڑی سے بڑی چیز بھی کم تر دیکھائی دے۔ کائنات کی تمام تر دولت محبوب خدا کے قدموں کی دھول ہے، کائنات کی تمام روشنیاں محمد عربیﷺ کے نور کے آگے ماند پڑ جائے۔ ہمیں سرکار دو عالم ﷺ کے پیروکاروں میں سے ہونے پر فخر ہونا چاہیے انکی حیات طیبہ ہمارے لیے نمونہ حیات سمجھ کر لمحہ بہ لمحہ انکی پیروی کرنا ہمارا مقصد حیات ہونا چاہیے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments