بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کے خلاف ہنزہ میں شدید احتجاج

ہنزہ ( اجلال حسین ) بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی دھرنے میں ہنزہ بھر سے ہزاروں مرد اور خواتین کی شرکت۔ مظاہرین نے صوبائی حکومت اور انتظامیہ کے خلاف شدید نعرہ باری کی۔

سکرٹری محکمہ برقیات گلگت بلتستان ، ڈی سی ہنزہ کی ایک ہفتے کے اندر موجودہ تھرمل جنریٹر زکے علاوہ مزید دو جنریٹر کو ہنگامی بنیاد پر منگوا کر 3میگاواٹ بجلی کی فراہمی کی یقین دہانی پرشرکاء دھرنا نے احتجاج ختم کر دیا۔

دھرنے میں ضلع ہنزہ کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اور انتظامیہ نےعوام ہنزہ کو نہ صرف بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ میں دھکیل دیا ہے بلکہ ہنزہ کے عوام کو سرکاری نوکریوں میں یکسر نظرانداز کیا جاتا ہے جس کا ثبوت حالیہ محکمہ صحت میں ہونے والے بھرتیاں ، محکمہ پولیس میں ہنزہ کے کوٹہ کو کم کرنے کے علاوہ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی شدید کمی ہیں۔

مقررین نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان اسمبلی میں ہنزہ کی آواز پہنچانے کے لیے کوئی نمائندہ موجود نہیں۔ عوام ہنزہ نے ایک گھر کے تین افراد کواسمبلی پہنچایا لیکن وہ اپنی گھریلو ناچاقیوں میں الجھ کر ہنزہ کو سخت نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

ضلع ہنزہ میں ہونے والی تاریخی دھرنا میں خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مزید کہا کہ منتخب نااہل حکمرانوں کی عدم دلچسپی سے ایسے جگہوں پر بجلی کے منصوبے بنائے گئے جہاں دس سالوں میں بھی وہ منصوبے مکمل نہیں ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے وزراء، بیوروکریٹس اور دیگراعلی ٰ حکام کو عمائدین ہنزہ نے بجلی کے بد ترین لوڈ شیڈنگ سے آگا ہ کیا مگر کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ ہنزہ کے غیور عوام کو سٹرکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا گیا جس کے تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت کے علاوہ محکمہ برقیات کے اعلیٰ حکام ہیں۔

مسلسل 8گھنٹے دھرنا کے بعد آل پارٹی رابطہ کمیٹی نےسکریٹری واٹر اینڈ پاور اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد دھرنے کا اختتام کیا۔ سیکرٹری واٹر اینڈ پاور گلگت بلتستان ظفروقار تاج اور ڈپٹی کمشنر ہنزہ کیپٹن (ر) سید علی اصغر کی نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہنزہ گلگت بلتستان میں واحد ضلع ہے جہاں کے عوام کو بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے ۔ انہوں نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ضلع ہنزہ میں اس وقت بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر موجودہ دو میگاوٹ تھرمل جنریٹر کے علاوہ دو مزید تھرمل جنریٹرز کو آئندہ ایک ہفتے کے اندر منگوا کر چلایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 1.5میگاواٹ ہائیڈل پاور ہاوس حسن آباد نالے میں ششپر گلیشر کی پھیلاو کی وجہ سے پانی مکمل طور پر بند ہوا ہے۔ ہنزہ میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے مستقبل میں منصوبے ہیں اور ایک سال کے اندر وہ مکمل کر لیا جائے گا۔

دھرنا شرکاء کے مطالبے پر ضلع ہنزہ میں سول ہسپتال اور تھانہ کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کے دفاتر ، عبادت گاہوں اور دیگر با اثر شخصیات سے اسپیشل بجلی کی لائیز کاٹنے کا بھی اعلان کر دیا۔

ہنزہ آل پارٹی کی کال پر دی جانے والا دھرنہ شاہراہ قراقرم کالج چوک کے مقام پر دن بھر جاری رہا۔ اس موقع پر ضلع بھر میں شٹرڈاون ہٹرتال بھی رہا تاہم مریضوں اور مسافروں کے لئے آل پارٹیز کی جانب سے متبادل راستوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments