گلگت بلتستان کو حقوق ملنےسےکشمیری سیاستدانوں کو تکلیف ہوتی ہے، راجہ جہانزیب

گلگت(پ ر) ممبر گلگت بلتستان اسمبلی راجہ جہانزیب نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن وفاق اور گلگت بلتستان میں دوریاں پیدا کرنے کیلئے ٹکراوکی باتیں کررہے ہیں ،یہ جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کررہے ہیں کہ وفاقی حکومت اور گلگت بلتستان میں دوریاں پیدا ہو تاکہ ان کو وفاق پر تنقید کرتے ہوئے اپنے دن پورے کیئے جاسکے ۔انہوں نے بدھ کے روز میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی گلگت بلتستان سے محبت ہے جس کا واضح ثبوت جی بی کی آئینی حیثیت کے حوالے سے پیش رفت ہے ،ورنہ آج سے قبل 70سالوں میں پاکستان میں بڑے بڑے حکمران آئے لیکن اس طرح کی کوشش کسی نے نہیں کی تھی ۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تحریک انصاف کا گلگت بلتستان کے حوالے سے واضح موقف ہے اور ہمارے مینو فسٹو میں بھی ذکر ہے کہ گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنایا جائے تاکہ اس سے مسئلہ کشمیر پر کوئی اثر نہ پڑے ۔

انہوں نے کشمیری رہنماوں کی گلگت بلتستان کے حوالے سے بیانات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کشمیر کا کوئی حصہ نہیں ہے ،ہم میں اور ان میں آسمان زمین کا فرق ہے ،گلگت بلتستان کی کلچر و ثقافت کشمیر یوں سے بہت مختلف ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو گلگت بلتستان کے 20لاکھ عوام سے کوئی محبت نہیں بلکہ یہاں کے وسائل پر ان کی نظریں ہیں ۔جی بی سونے کی چڑیا ہے ،یہاں سے سی پیک گزررہا ہے ،غذر سے تاجکستان کوریڈور کھلنے جارہا ہے جس کی وجہ سے کشمیری رہنماؤں کو تکلیف ہورہی ہے اور وہ ان وسائل پر قابض ہونا چاہتے ہیں ۔گلگت بلتستان کے عوام اور کشمیریوں کے سوچ میں فرق ہے ہم نے پاکستان کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہے اور نشان حیدر بھی حاصل کیا ہے جبکہ کشمیریوں نے پاکستان کیلئے کچھ نہیں کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جب کشمیری عالمی سطح پر اپنے آپ کو متنازعہ بنا کر یورپ کیلئے ویزے لے رہے تھے تو تب گلگت بلتستان کے لوگوں کی یاد نہیں اور اس وقت انہوں نے ہمیں بھائی نہیں سمجھا لیکن اب گلگت بلتستان کو حقوق ملنے جارہے ہیں تو تب ان کو تکلیف ہوتی ہے ۔

انہوں نے کہا گلگت بلتستان کے عوام نے مسئلہ کشمیر کے خاطر تین نسلیں قربان کی ہیں ،کیا یہ کوئی چھوٹی قربانی ہے ؟ہم پہلے بھی گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بناسکتے تھے لیکن کشمیر بھی مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کے خاطر ہم نے ایسا کوئی اقدام نہیں آٹھایا ہے اور آج بھی ہم ان کے مسئلہ کشمیر کے بین الاقوامی تناظر اور اس مسئلہ پر اثر انداز ہوئے بغیر گلگت بلتستان کیلئے عبوری آئینی صوبہ چاہتے ہیں ورنہ ہم کب کے گلگت بلتستان کو مکمل صوبہ بناسکتے تھے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments