آغا خان ہائیر سیکنڈری سکولز سے پانچ طلبہ    امسال آغاخان یونیورسٹی ایم بی بی ایس پروگرام  کے لیے  منتخب ہوئے۔

چترال: پاکستان کے مختلف آغا خان ہائیر سیکنڈری سکولز کے پانچ طلبا ؤ طالبات آغا خان یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس پروگرام کے لیے منتخب ہوئے۔ آغاخان یونیورسٹی سے منسلک ہونا ہمیشہ ہر ایک طالب علم کا خواب رہا ہے۔ تاہم چند ہی خوش قسمت طالب علم سخت میرٹ اور کڑے مقابلے کا سنگ میل عبور کر کے اس معتبر ادارے کا حصہ بن پاتے ہیں۔

 آغا خان ہائیر سیکنڈری سکولز اپنے قیام سے لیکر اب تک کامیابیوں اور کامرانیوں کا تاج اپنے سرپرسجاتے آرہے ہیں۔ اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس سال بھی آغا خان ہائیر سیکنڈری سکولز بشمول چترال، گلگت اور کراچی کے پانچ طلبہ کا آغاخان یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس کے لیے منتخب ہونا ان طلبہ ، ان کے والدین ،ادارے اور اسا تذہ کے لیے باعث فخر امر ہے۔

 اس سال آغا خان یونیورسٹی ایم بی بی ایس پروگرام کے لیے منتخب ہونے والی   پہلی  طالبہ مہر انگیز کریم ہیں جن کا تعلق کریم آباد کے ایک گاؤں گری سے ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم آغاخان سکول سوسوم کریم آباد سے حاصل کی۔سال 2012 میں آغا خان ہائیر سیکنڈری سکول کوراغ میں آٹھویں جماعت میں داخلہ لیا۔سخت محنت، جذبے اور اپنی لگن کی وجہ سے آغا خان یونیورسٹی ایگزامینشن بورڈ کی طرف سے  منعقدہ سالانہ امتحان میں کیمسٹری کے مضمون میں ہائیر ایچیوئر رہی ۔ میٹرک اور ایف ایس سی کا امتحان پچاسی فیصد نمبروں نے ساتھ  پاس کی۔ اب وہ خیبر میڈکل کالج کے علاوہ آغاخان یونیورسٹی میں بھی ایم بی بی ایس کے لیے نامزد ہوچکی ہے۔

 دوسرا طالب علم جلال الدین  ولد گوڑا مس  ہے جن کا تعلق ضلع چترال کے دور افتادہ علاقے مدکلشٹ سے ہے۔ابتدائی تعلیم مدکلشٹ پبلک سکول سے حاصل کی ۔ ٹسٹ پاس کرنے کے بعد آغاخان ہائیرسیکنڈری سکول سین لشٹ میں آٹھویں درجے میں داخلہ لیا ۔ سال 2015 میں میٹرک کا امتحان 89% نمبروں سے پاس کرنے کے بعد آغا خان ہائیرسیکنڈری سکول کراچی میں داخلہ لیا اور وہاں سے 2017 میں پری میڈکل کا امتحان بھی امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ اب ان کا انتخاب بھی آغاخان یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس پروگرام کے لیے ہوچکا ہے۔

تیسرا طالب علم عبدالعلی علی ولد روزی من شاہ ہے ۔ان کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع غذرکے علاقے گوپیس سے ہے۔ انہوں نے ڈائمنڈ جوبلی ہائی سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آغا خان ہائر سیکنڈری سکول گلگت سے 2018 میں انٹر کیا۔ان کا داخلہ بھی امسال  آغا خان یونیورسٹی میں ہوچکا ہے۔اس کے علاوہ قائد اعظم میڈکل کالج بہاولپور میں بھی عبدالعلی  کاداخلہ  مخصوص نشست پر ہوا ہے۔

نیت خان کی بیٹی ساجدہ پروین چوتھی طالبہ ہےجو گلگت بلتستان کے ضلع غذر کے دور آفتادہ گاؤ ں یاسین تھوئی سے تعلق رکھتی ہے۔ پرائمری اور مڈل سکول کی تعلیم پبلک سکول اینڈ کالج جوٹیال گلگت سے حاصل کی۔ ساجدہ پروین 2013 سے لیکر 2018 تک آغاخان ہائیر سیکنڈری سکول ہونزہ کی قابل ترین سٹوڈنٹ رہی۔ اب ان کا چناؤ ایم بی بی ایس پروگرام کے لیے آغا خان یونیورسٹی میں ہوچکا ہے۔

 پانچویں خوش نصیب طالبہ ہاجرہ ارشددختر ارشد کمال ہے۔ انہوں نے آغا خان ہائیر سیکنڈری سکول کراچی میں 2016 سے 2018 تک پری میڈکل  کی  طالب علم رہی ۔ آغاخان ہائیر سیکنڈری سکول کراچی کو نہ صرف اس طالبہ پر اس لیے فخر ہے کہ اس نے آغا خان یونیورسٹی بورڈ کے تحت ہونے والے امتحانات میں پانچویں پوزیشن حاصل کی بلکہ انہیں ایم بی بی ایس کے لیے آغا خان یونیورسٹی میں داخلہ بھی مل گیا۔ ان کے علاوہ بھی آغاخان ہائیر سیکنڈری سکول سے منسلک کئی طلباؤ طالبات نے مختلف شعبہ ہائے تعلیم میں داخلہ حاصل کرکے کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ آغا خان ہائیر سیکنڈری سکول جیسے معتبر ادارے کا حصہ ہونے پر ہم طلبہ، ان کے والدین اور اساتذہ کرام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ ان کی انتھک محنت کی وجہ سے ہی ان طلبہ کو آغاخان یونیورسٹی کے ایم بی بی ایس پروگرام میں داخلہ ملا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments