گلگت بلتستان کو سیلف گورننس آرڈر 2009 میں دیئے گئے اختیارات واپس دینگے، ڈاکٹر شرین مزاری

اسلام آباد (فدا حسین) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شرین مزاری نے انسانی حقوق کے عالمی دن پر لائن آف کنڑول کے دونوں اطرف میں رہنے والے منقسم خاندانوں کو ملانے کے لئے کرگل سکردو اور تُرتوک خپلوروڈکھولنے کے حوالے سے کچھ کہنے سے گریز کیا۔ تاہم انہوں نے گلگت بلتستان میں مبینہ طور پر پُر امن احتجاج کرنے والوں کے خلاف مقدمات کے اندراج کی مخالفت اور گلگت بلتستان کونسل کی بحالی کا عندیہ دیا ہے۔

انسانی حقوق کے عالمی دن کے مناسبت سے اسلام آباد میں منعقدہ سمینار میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں سوالوں کاجواب دیتے ہوئے انسانی حقوق کی وفاقی وزیر ڈاکٹر شرین مزاری نے کہا کہ گلگت بلتستان سمیت کسی بھی علاقے میں پر امن احتجاج کرنے والوں کے خلاف انسداد دہشت گردی اور شیڈول فور سمیت کسی بھی قانون کے استعمال کی اجازت نہیں دیں گے ۔

انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ ہر قسم کے پر امن مظاہروں کے حق میں ہیں کیونکہ یہ ایک جمہوری ملک کے لئے اہم ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر شرین مزاری نے کہا کہ ابھی تگ گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا کوئی با ضابطہ فیصلہ نہیں ہوا مگر ان کی حکومت چاہتی ہے کہ گلگت بلتستان والوں کو پیپلز پارٹی کے دور میں سیلف گورننس آرڈر 2009کے ذریعے جو اختیارات دیئے گئے تھے اسے نون لیگ نے ختم کئے تھے جس میں گلگت بلتستان کونسل کا خاتمہ شامل تھا اسے ان کی حکومت بحال کرنا چاہتی ہے۔

تاہم انہوں نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبے بنانے کا فیصلہ واپس لینے کے حوالے سے بھی کچھ کہنے سےگریز کیا ۔اسی طرح انہوں نے کرگل سکردو اور تُرتوک خپلو روڈ کی کھولنے کے سوال پر بھی خاموشی اختیار کر لی۔

واضح رہے کہ کرتار پورراہداری منصوبے کے افتتاح کے بعد لائن آف کنڑول کے دونوں اطراف سے کرگل سکردو اور ترتوک خپلو روڈ کھولنے کے مطالبات میں شدت آنے لگی ہے۔ پاکستان کے وزارت خارجہ اور عسکری حکام کے مطابق اس روڈ کا کھلنا بھارت کی رضا مندی سے مشروط ہے تاہم دفتر خارجہ یہ بھی واضح کر چکا ہے کہ مذکورہ روڈ کھولنے کے لئے پاکستان کی طرف سے ابھی تک الگ سے کوئی تجویز نہیں دی گئی ہے۔

انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ اس تقریب کے موقع پر انسانی حقوق کی کارکن طاہرہ عبداللہ نے پاکستان اور بھارت پر فوری طور پر مذکرات شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا ۔ اس سمینار کا انعقاد انسٹیٹویٹ آف اسٹرٹیجک سیڈیز اسلام آباد نے کیا تھا ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments