چھ ماہ سے بند تنخواہیں‌نہیں‌دی گئیں تو 28 دسمبر سے دفاتر کی تالہ بندی کریں گے، ریسکیو 1122 ہنزہ و نگر کے ملازمین کی دھمکی

ہنزہ ( اجلال حسین )ریسکو1122ضلع ہنزہ اور نگر کے درجنوں ملازمین تاحال تنخواہیں سے محروم ،6ماہ گزر گئے کوئی سننے والا نہیں۔ 28دسمبر کے بعد دفاتر بند کرنے کا اعلان،ضلع ہنزہ اور نگر ریسکو 1122دفاترکے ملازمین پچھلے 6ماہ سے تنخواہیں سے محروم ہیں جس کی وجہ سے بچوں کی فیسوں کے ادائیگی کے علاوہ روز مرہ زندگی کو چلانے کے لئے ملازمین کو سخت مشکلات کا سا منا کر رہے ہیں۔
ریسکو1122کے ملازمین نے میڈ یا کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کہا کہ تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر ہونے کی وجہ سے بچوں کی فیسوں کی ادائیگی میں تاخیر ہونے سے سکولوں سے بچوں کو نکلانا شروع کر دیاہے جبکہ گھر وں میں فاقے کی نوبت آن پڑی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ریسکو کے بالا حکام اور سابق چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کو بار ہا کہنے کے باوجود کوئی ٹس سے مس نہیں جس کی وجہ سے ہمیں سخت مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف اضلاع کے علاوہ مقامی ملازمین ہونے کی وجہ سے کرایوں کے مکانات میں رہائش پزیر ہے اور مکان مالکان کو کرایہ ادا نہ ہونے کی وجہ سے مالکان کی جانب سے بھی نوٹس جاری ہونے کے ساتھ دکانداروں کو بھی کھانے پینے کی اشیاء کی ادائیگی بھی نہ ہو سکا جس کے باعث علاقے میں رہنا محال ہو گیا ہیں۔
عوامی حلقوں کے علاوہ ملازمین ریسکو1122نے وزیر اعلیٰ حافظ حافیظ الرحمن اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان خرم آغا سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ریسکو1122کے غریب ملازمین جن کو پچھلے 6ماہ سے تنخواہیوں نہ ملنے کی وجہ سے مختلف گھریلومشکلات کے علاوہ معاشرے میں بھی بیٹھا محال ہو گیا ہیں اپیل ہے کہ ضلع ہنزہ اور نگر کے درجنوں چھوٹے ملازمین کے تنخواہیوں کی ادائیگی کے احکامات جاری کریں ، بصورت دیگر دسمبر کے اختتام میں دفاتر کی تالا بندی کرنے پر مجبور ہو جائینگے۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments